بابر اعظم کے ساتھ سیلفی

سلیم خالق  بدھ 12 جون 2024

’’تم جیتو یا ہارو ہمیں تم سے پیار ہے‘‘ آپ نے اکثر یہ گانا سنا ہوگا جب کبھی کرکٹ ٹیم کو کسی سخت مقابلے میں شکست ہوتی اسے بار بار چلایا جاتا، پھر وہ وقت آ گیا جب ایسے گانے چلانے کے مواقع کم ملنے لگے، البتہ آج مجھے احساس ہوا کہ واقعی پاکستانی قوم کرکٹ ٹیم سے بہت محبت کرتی ہے، جتنا کہیں کہ ’’ہم مایوس ہو گئے اب میچ نہیں دیکھیں گے، یہ کھیل ہمارا فیورٹ نہیں رہا‘‘ مگر حقیقت یہی ہے کہ کرکٹ پاکستانیوں کے خون میں رچی بسی ہے.

میچ کیلیے اسٹیڈیم روانگی سے قبل جب میں ناشتے کیلیے نیچے ریسٹورینٹ میں آیا تو گرین شرٹس میں ملبوس کئی پاکستانی نظر آئے، سب کی یہ خواہش تھی کہ کسی طرح کھلاڑیوں سے ملاقات ہو جائے، ایک لڑکے نے مجھ سے کہا کہ ’’میری پلیز بابر اعظم کے ساتھ سیلفی بنوا دیں‘‘ میں نے اسے جواب دیا کہ آپ دیکھتے رہیں جب ٹیم جانے لگے تو کوشش کر لیجیے گا۔

میں نے اسے بتایا نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ شکستوں کے بعد کھلاڑی سب سے کترانے لگے ہیں، کمروں میں جانے کیلیے الگ لفٹس کا استعمال ہوتا ہے، اس ایریا میں ایک سیکیورٹی اہلکار کو تعینات کر کے عام افراد کی انٹری بند کی جا چکی، بہت سے لوگ اس آس میں ہوٹل ناشتہ کرنے آئے تھے کہ شاید وہاں کوئی کھلاڑی مل جائے لیکن ٹیم کے ناشتے کا الگ جگہ اہتمام کیا گیا ہے.

ایک دن قبل بابر اعظم جب لفٹ سے باہر نکلے تو کئی شائقین کو رکاوٹ کے دوسری جانب موجود پایا یہ دیکھ کر وہ واپس کمرے میں چلے گئے تھے، گوکہ یہاں قانون اور سیکیورٹی سخت ہے لیکن شائقین کسی کا لحاظ کیے بغیر کچھ بھی کہہ دیتے ہیں کھلاڑی اس صورتحال سے بچنا چاہتے ہیں، کچھ عرصے قبل خاتون نے ایک کرکٹر سے ناقص کارکردگی پر بغیر کچھ سوچے سمجھے سب کے سامنے تابڑ توڑ سوال کیے جس پر وہ بیچارہ شرمندہ ہو گیا تھا،بعد میں یہ ویڈیو وائرل ہو گئی، بابر اعظم کے بھائی اور والدین بھی امریکا میں ہیں، وہاب ریاض ،اظہرمحمود اور بعض کرکٹرز کے اہل خانہ بھی ساتھ آئے ہیں، میچ سے قبل کھلاڑی دوسرے راستے سے اسٹیڈیم جانے کیلیے بس میں سوار ہوئے۔

اس دوران وہاں موجود افراد بابر، رضوان یا دیگر کے نام پکار کر انھیں اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کرتے رہے، بعض نے دور سے ہی ہاتھ ہلا کر انھیں جواب بھی دیا، گوکہ ہوٹل سے اسٹیڈیم بہت قریب ہے لیکن جب میں اوبر سے روانہ ہوا تو چیکنگ کی جگہ پر پولیس اہلکار نے ڈرائیور کو جو راستہ سمجھایا وہ اسے نہ سمجھ پایا اور مجھے سڑکوں کی سیر کراتا رہا، آخر کار تنگ آ کر میں نے اس سے کہا کہ مجھے یہیں اتار دو، وہاں بہت سے پاکستانی پیدل اسٹیڈیم کی جانب رواں تھے، میں بھی ان میں شامل ہو گیا،10،15 منٹ گذر گئے لیکن اسٹیڈیم کا نام و نشان نہ تھا، ہم پاکستان میں کم چلتے ہیں لیکن باہر واک کرنا سب کی عادت میں شامل ہے، خیر پھر اسٹیڈیم آیا تو وہاں موجود اہلکار نے کہا کہ ’’یہ عام شائقین کے جانے کا راستہ ہے، آپ میڈیا سے تعلق رکھتے ہیں لہذا دوسری طرف سے جائیں، میں نے مزید چلنے سے بچنے کیلیے ایک اور کوشش کی تو اجازت مل گئی۔

اندر آیا تو میڈیا سینٹر میں بھارت کیخلاف میچ جیسی گہما گہمی نظر آئی، وسیم اکرم سے ملاقات ہوئی تو وہ قومی ٹیم کی کارکردگی سے ناخوش نظر آئے، تھوڑی دیر بعد وقار یونس بھی وہاں ملے، میں چائے لے کر واپس جا رہا تھا تو ہربھجن سنگھ آتے دکھائی دیے، جنوری میں آئی ایل ٹی ٹوئنٹی کے دوران میں نے دبئی میں ان کا انٹرویو کیا تھا، وہ مجھے پہچان گئے اور خاصی گرمجوشی سے ملے, میں نے ان سے کہاکہ کامران اکمل کی بات کو بھول جائیں، پاکستانی سکھ کمیونٹی کا بہت احترام کرتے ہیں.

ہربھجن نے جواب میں کہا کہ ’’میں بھی اس حقیقت سے واقف ہوں، یہاں وسیم بھائی اور وقار یونس بھی موجود ہیں، آج تک انھوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی جس سے ہمارے جذبات مجروع ہوں، کامران کو سوچ سمجھ کر بات کرنا چاہیے تھی‘‘ میں نے جواب دیا کہ کامران اکمل معافی مانگ چکے اب اس بات کو بھول جائیں، میچ میں پاکستان نے کینیڈا کو کم اسکور تک محدود رکھا، گوکہ اسٹیڈیم مکمل بھرا ہوا تو نہیں تھا لیکن جتنے اسٹینڈز میں لوگ تھے۔

ان میں سے بیشتر پاکستانی سپورٹرز ہی تھے، جب ساؤنڈ سسٹم پر شاہد آفریدی کی موجودگی کا اعلان ہوا اور انھوں نے کراؤڈ سے چند باتیں کیں تو لوگوں کا جوش و خروش آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگا،ان کی مقبولیت اب بھی ماضی کی طرح ہے،اسٹیڈیم میں عاطف اسلم، ابرار الحق و دیگر کے گانے بھی چلائے جاتے رہے جس سے ماحول بنا رہا، پہلی اننگز کے بعد جب میں نیچے گیا تو  باہر بعض پاکستانی بات چیت کر رہے تھے، میں نے ایک سے پوچھا کہ اب تو ٹیم کا ورلڈکپ میں سفر ختم ہو چکا آپ لوگ کیسے آ گئے، اس پر جواب ملا کہ ’’ہم تو بھارت کیخلاف میچ دیکھنا چاہتے تھے لیکن ٹکٹس نہیں ملے، اب کینیڈا سے میچ کے ٹکٹ دستیاب تھے تو آ گئے، ویسے بھی ٹیم تو اپنی ہے جیتے یا ہارے اسے چھوڑ تو نہیں سکتے۔

امریکا میں پہلی بار کوئی کرکٹ کا عالمی ایونٹ ہو رہا ہے نجانے پھر کب  کرکٹ میچ اسٹیڈیم میں آ کر دیکھنے کا موقع ملے‘‘ یہ سن کر میں سوچنے لگا کہ بیچارے شائقین ٹیم کیلیے اتنی دعائیں کرتے ہیں، اپنی رقم خرچ کر کے میچ دیکھنے کیلیے آتے ہیں اور اس کا صلہ انھیں کھلاڑی شکستوں کی صورت میں دیتے ہیں، ہماری ٹیم صلاحیتوں میں کسی سے کم  نہیں لیکن سیاست نے اسے تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، خیر اب چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے آپریشن کلین اپ کا عندیہ تو دیا ہے دیکھتے ہیں اس سے کوئی بہتری آتی ہے یا نہیں، البتہ امید پر دنیا قائم ہے اسی لیے ہمیں بھی اچھے کی امید کبھی نہیں چھوڑنی چاہیے ۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔