قومی کرکٹ ٹیم میں ’’آپریشن کلین اپ‘‘ کی تیاری

سلیم خالق / نمائندہ خصوصی  بدھ 12 جون 2024
ٹیم پر گرفت مضبوط نہ ہونے اور قوت فیصلہ کی کمزوری کے معاملات عیاں (فوٹو: کرک انفو)

ٹیم پر گرفت مضبوط نہ ہونے اور قوت فیصلہ کی کمزوری کے معاملات عیاں (فوٹو: کرک انفو)

نیو یارک: قومی کرکٹ ٹیم میں ’’آپریشن کلین اپ‘‘ کی تیاری ہونے لگی۔

امریکا اور بھارت سے شکستوں نے پاکستانی ٹیم کی ورلڈکپ مہم کو شدید دھچکا پہنچایا، گوکہ ٹیم نے کینیڈا کو ہرا دیا لیکن سپر8 میں رسائی کا انحصار آئرلینڈ پر فتح اور دیگر ٹیموں کے نتائج پر ہے، حال ہی میں قومی کرکٹ ٹیم میں گروپنگ کا انکشاف ہوا جس کے بعد پی سی بی نے سخت اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق دوستی یاری کے ساتھ بعض مخصوص حوالوں سے بھی گروپنگ کا انکشاف ہوا ہے، ایسے پلیئرز اپنے ساتھ موجود کرکٹرز کو ناقص کارکردگی کے باوجود بھی مسلسل سپورٹ کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: یقین ہو گیا ہے کہ ٹیم میں بڑی سرجری کی ضرورت ہے، محسن نقوی

چیئرمین محسن نقوی نے اس حوالے سے ساتھی بورڈ آفیشلز، رفقا اور بعض سابق کرکٹرز سے مشاورت کی ہے، سیاست کرنے والے کھلاڑیوں کو ٹیم سے باہر کرنے پر اتفاق ہو گیا،نان پرفارمرز کو کسی بھی بنیاد پر ٹیم میں نہیں رکھا جائے گا،گرین شرٹس کا ورلڈکپ میں سفر ختم ہونے کے بعد کارروائی کی جائے گی۔

ابتدائی رپورٹس کے مطابق کم از کم 6 پلیئرز کو گھر بھیج دیا جائے گا، بعض کے بارے میں رپورٹ دی گئی ہے کہ وہ ناکامیوں کے باوجود صرف کپتان کی گڈ بکس میں ہونے کی وجہ سے کھیل رہے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ جیسے ہی ٹیم میں اختلافات کی خبریں سامنے آئیں معاملے کو نیا رنگ دینے کی کوشش شروع ہو گئی، بابر اعظم کی کپتانی پر بھی سوال اٹھے ہیں، ٹیم پر ان کی گرفت مضبوط نہیں ہے، کئی ساتھی کھلاڑی کپتان سے خوش نہیں ہیں، قوت فیصلہ و دیگر حوالے سے شکوک سامنے آئے ہیں، ان سمیت کئی اسٹار کرکٹرز کو ایک ہی کمپنی مینج کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: “ٹی20 ورلڈکپ کے بعد ٹیم کی اندرونی کہانی سامنے لاؤں گا”

سابق چیئرمین مینجمنٹ کمیٹی ذکا اشرف نے ایجنٹس کا کردار محدود کرنے کی کوشش کی تھی مگر پھر انھیں خود ہی عہدے سے الگ ہونا پڑ گیا، سوشل میڈیا پراچانک چلنے والے ٹرینڈز، بعض بیانات وغیرہ سے یہ تاثر سامنے آیا کہ یہ سب کچھ کسی مخصوص مہم کا حصہ ہے۔

چیئرمین پی سی بی چند روز بعد پریس کانفرنس میں بعض حقائق عوام کے سامنے لانا چاہتے ہیں البتہ یہ واضح نہیں کہ وہ کس حد تک جائیں گے، بعض حلقے انھیں یہ مشورے دے رہے ہیں کہ کسی مخصوص کھلاڑی کا نام لیے بغیر عمومی طور پر بات کریں۔

ذرائع نے بتایا کہ پی سی بی میں بھی گروپنگ بہت زیادہ بڑھ چکی اور اسے بھی ختم کرنے کیلیے اقدامات ہو رہے ہیں، بعض شعبوں میں اہم تبدیلیاں جلد ہوں گی، چیئرمین سابق کرکٹرز سے بھی مشاورت کر کے مستقبل میں ٹیم کی بہتر کارکردگی کیلیے لائحہ عمل تشکیل دینا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب قومی ٹیم میں پی سی بی حکام کے حالیہ بیانات کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا، کھلاڑیوں نے گلہ کیا کہ کم از کم ورلڈکپ تو ختم ہونے کا انتظار کیا جاتا۔ گرین شرٹس کا گروپ مرحلے میں آخری مقابلہ اتوار کو لاؤڈرہل میں آئرلینڈ کیخلاف ہوگا، البتہ توقع ہے کہ اس سے قبل ہی ایونٹ میں سفر جاری رہنے یا اختتام کا فیصلہ ہو چکا ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔