نان فائلرز پر 45 فیصد ٹیکس لگانے کا فیصلہ

ویب ڈیسک  بدھ 12 جون 2024
حکومت نے ٹیکس دہندگان کے لیے مختلف سلیبس کی تجویز دی ہے—فوٹو: فائل

حکومت نے ٹیکس دہندگان کے لیے مختلف سلیبس کی تجویز دی ہے—فوٹو: فائل

 اسلام آباد: حکومت نے مالی بجٹ میں ٹیکس فائلرز، نان فائلرز اور تاخیر سے ریٹرنز جمع کرانے والے صارفین کے لیے الگ الگ سلیب متعارف کروادی ہیں اور نان فائلرز پر 45 فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز پیش کی ہے۔

وفاقی وزیرخزانہ نے مالی سال 25-2024 کے سالانہ بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بجٹ میں فائلرز، نان فائلرز اور تاخیر سے ریٹرن جمع کروانے کے لیے الگ الگ سلیب متعارف کروانے کی تجویز ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ نان فائلرز پر ٹیکس بڑھانے کا مقصد سرمایہ اکٹھا کرنا ہے، ہولڈنگ کی مدت سے قطع نظر پندرہ (15) فیصد کی شرح سے ٹیکس وصول کرنے کی تجویز ہے، نان فائلرز کے ٹیکس ریٹ مختلف سلیبس کے تحت 45 فیصد تک کرنے کی تجویز ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس اقدام سے معیشت کو ڈاکومنٹ کرنے میں مدد ملے گی، اسی طرح ہاؤسنگ کے شعبے سے افواہوں کا خاتمہ ہوگا اور عوام کو ہاؤسنگ افورڈ ایبل کی فراہمی میں مدد ملے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔