سرجری کیا ڈاکٹر وہاب کریں گے؟

سلیم خالق  جمعرات 13 جون 2024
(فوٹو: فائل)

(فوٹو: فائل)

آپ یہ سوچیں کہ اگر کسی شخص کو جس کی وجہ سے چوٹ لگے وہی ڈاکٹر کے روپ میں سرجری کرنے آ جائے تو اس کا کیا حال ہوگا، کیا کوئی یہ امید رکھ سکے گا کہ اس کے زخم ٹھیک ہو جائیں گے یا مریض پھر سے قدموں پر کھڑا ہو جائے گا؟ مجھے تو اس کے چانسز کم  ہی لگتے ہیں، وہاب ریاض بطور کرکٹر تو آل راؤنڈر نہیں بن سکے لیکن منتظم کی صورت میں آل راؤنڈر ہی ہیں، چیئرمین محسن نقوی انھیں پاکستان کرکٹ کی ہر مشکل کا حل سمجھتے ہیں، سلیکٹر وہ پہلے ہی تھے۔

سینئر منیجر کی نئی پوسٹ تخلیق کر کے ٹیم سے بھی منسلک کر دیا گیا، بابر اعظم کو قیادت سونپنے کا ناکام تجربہ رہا، گیری کرسٹن کو آئی پی ایل کی مصروفیت کے باوجود ہیڈ کوچ بنایا گیا، یہ سب موجودہ بورڈ حکام نے ہی کیا، شعبہ انٹرنیشنل کرکٹ کی قابلیت کا یہ عالم ہے کہ دورئہ برطانیہ شیڈول کرتے ہوئے یہ نہ سوچا کہ ورلڈکپ وارم اپ میچز کی قربانی دینا پڑے گی، امریکا میں پہلی بار اتنا بڑا ٹورنامنٹ ہو رہا ہے، نیویارک کا اسٹیڈیم عارضی طور پر بنایا گیا، پچز بھی ڈراپ ان ہیں، کیا کسی نے یہ سوچا کہ کھلاڑیوں کو تو کنڈیشنز سے ہم آہنگی کا موقع ہی نہیں مل سکے گا؟ محسن نقوی نے ٹیم میں سرجری کا عندیہ دیا اور وہ مختلف لوگوں سے مشاورت بھی کر رہے ہیں، البتہ سرجری ڈاکٹر وہاب جیسے افراد نے کی تو مریض کی موت یقینی ہے،  اگر چیئرمین واقعی ملکی کرکٹ کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے وہاب کو ہی گھر بھیجیں۔

مزید پڑھیں: رمیز کے پروگرام میں بمراہ کا مذاق! پھر وکٹ بھی وہیں گنوائی، ویڈیو وائرل

اس سے لوگ ان کی بات کو سنجیدگی سے لیں گے کہ اپنے دوست کو باہر کر دیا اس کا مطلب ہے محسن نقوی واقعی بہتری لانا چاہتے ہیں، وہاب ریاض اینڈ کمپنی نے پی ایس ایل کی  بنیاد پر پوری پاکستانی ٹیم بنا لی، اگر کوئی کھلاڑی آؤٹ آف فارم ہو تو اسے مسلسل کھلاتے نہیں ہیں بلکہ آرام دے کر فارم میں واپسی کا موقع دیتے ہیں،وہ اس دوران غلطیوں کا جائزہ لے کر پریکٹس میں انھیں دور کرنے کی کوشش کرتا ہے، ہم نے شاداب کو مسلسل کھلا کر سارا اعتماد ختم کر دیا،شاید اسامہ میر ان سے بہتر ثابت ہوتے لیکن وہ پی ایس ایل میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے کے باوجود ٹی وی پر میچ دیکھ رہے ہیں، دوسری جانب اسی ایونٹ میں 2 سنچریاں بنانے والے عثمان خان کو پیراشوٹ سے براہ راست قومی کرکٹ کیمپ میں اتار دیا گیا، ایک ایک پیراشوٹ عماد وسیم اور محمد عامر کے حصے میں بھی آیا، ڈومیسٹک کرکٹرز حیرت سے ان تینوں کو دیکھتے رہے۔

عثمان کشتیاں جلا کر یو اے ای سے پاکستان آئے تھے اور اب بنگلہ دیش یا  سری لنکا جیسے ممالک کی چھوٹی لیگز کھیل کر پی ایس ایل کا انتظار کریں گے،ویسے تو ایسا ہو نہیں سکتا لیکن آپ فرض کریں کہ ورلڈکپ کے دنوں میں کوئی لیگ ہو رہی ہوتی تو کیا عامر اور عماد ریٹائرمنٹ واپس لے کر آتے، گوکہ عمادکو واپس لانے کے فیصلے کی میں نے تائید کی تھی لیکن شاید میں بھی غلط تھا،بچوں کے خلاف مین آف دی میچ لے کر لڈیاں ڈالنے والے عامر چند روز قبل امریکا کیخلاف سپراوور میں میچ ہروانا بھول گئے تھے، شاہین شاہ آفریدی سازگار پچز کے باوجود پرفارم نہیں کر پائے، حارث رؤف نے امریکا کیخلاف میچ میں جس طرح آخری گیند کی اور چوکا کھایا وہ ان پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔

مزید پڑھیں: نساؤ اسٹیڈیم نیویارک کی پچز؛ بیٹرز کیلئے مقبرہ بن گئیں

اب آپ آل راؤنڈرز کی جانب آئیں افتخار احمد،شاداب خان،عماد وسیم تینوں نے کوئی وکٹ نہ لی جبکہ بیٹنگ میں بھی کچھ نہیں کیا،لوگ درست کہتے ہیں کہ جو بیٹنگ اور بولنگ دونوں میں کچھ نہ کر سکے وہی پاکستان میں آل راؤنڈر کہلاتا ہے، تین میچز ہو گئے اور ہمارے کسی اسپنر نے کوئی وکٹ ہی نہیں لی، ابرار احمد کو نجانے کیوں بابر اعظم موقع ہی نہیں دیتے، بیٹنگ میں  تین میچز میں مجموعی طور پر بھی کوئی 100 رنز نہیں بنا سکا،تجربات کا سلسلہ جاری ہے، بابر اعظم اور محمد رضوان بالز ضائع کرنے کی عادت نہیں چھوڑ پائے، کپتان بڑے ایونٹ میں ایک بار پھر بطور بیٹر ناکام ثابت ہوئے ہیں، صائم ایوب کا ٹیلنٹ کہاں چھپا ہے جو 22 میچز میں بھی سامنے نہیں آ سکا، انھیں گھر بھیجیں اور کسی دوسرے کھلاڑی کو موقع دیں۔

افتخار کو چاچا، افتی مانیا کہہ کر خود آپ لوگوں نے بگاڑا ہے اب بھگتیں، جو بندہ 66 میچز میں کچھ نہ کر سکا آگے کیا کرلے گا،بس باتیں کروا لیں کہ درست نمبر پر نہیں کھلایا جاتا تو بھائی کیا آپ سے اوپننگ کروا لیں، جہاں موقع مل رہا ہے وہاں تو  کچھ پرفارم کر کے دکھا دیتے، اعظم خان سے بڑی امیدیں تھیں لیکن انھوں نے بہت مایوس کیا، اب انھیں فٹنس بہتر بنانے کے بعد ہی قومی ٹیم میں آنے کا سوچنا چاہیے، فخرزمان بھی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے، جس ٹیم کا کوئی کھلاڑی بھی پرفارم نہ کرے اس کیلیے فتح کا خواب دیکھنا بھی جرم ہے، اب پاکستان ٹیم کا آخری میچ فلوریڈا میں ہونا ہے جہاں کئی روز سے بارش ہو رہی ہے، شاید کرکٹرز کی وطن واپسی کیلیے جہاز میں نشستیں بھی بک کروا لی گئی ہوں، اگر ٹیم پہلے راؤنڈ تک محدود رہی تو یہ بہت بڑا المیہ ہوگا،اس کی ذمہ داری صرف بابر اعظم کی قیادت پر نہیں ڈالنی چاہیے بلکہ سب کو اپنی غلطیاں قبول کرنا ہوں گی۔

مزید پڑھیں: امریکا، بھارت کیخلاف شکست! ٹیم کیخلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست

پی ایس ایل کا پاکستانی کرکٹ کو فائدہ بھی ہوا لیکن اب نقصانات بھی سامنے آ رہے ہیں، پہلے ڈومیسٹک کرکٹ میں پورے سال محنت کر کے کھلاڑی اْبھر کر سامنے آتے تھے اب ایک ماہ میں دو، تین اچھی پرفارمنسز ہیرو بنا دیتی ہیں، ملکی پچز پر چھوٹی باؤنڈریز پر کم رفتار سے آنے والی گیندوں پر بیٹرز بریڈ مین بن جاتے ہیں، پھر عالمی کرکٹ میں جا کر ان کی خامیاں نمایاں ہوتی ہیں، یہ ایک دن کا کام نہیں مکمل ریسرچ کرانی چاہیے کہ پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لیے کیا کرنا ہوگا،اس میں اپنے لوگوں کو شامل نہ کریں، عظیم سابق کرکٹرز، جدید کرکٹرز سے واقف ڈیٹا انالسٹ، لیگز سے منسلک منتظمین، میڈیا کے نمائندے اور دیگر شعبوں کے ماہرین سے مشاورت کریں، شاید اس کے بعد کوئی بہتری آ سکے، فی الحال تو حکام خود کو بچانے کیلیے پتلی گردنوں کی تلاش کر رہے ہوں گے جو چند کرکٹرز کی ہی ہو سکتی ہیں۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔