ٹیکس ہدف 3800 ارب، سیلز ٹیکس کی شرح 18 فیصدبرقرار رکھی گئی، چیئرمین ایف بی آر

ویب ڈیسک  بدھ 12 جون 2024
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ سیلز ٹیکس بڑھانے کے لیے دباؤ تھا—فوٹو: فائل

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ سیلز ٹیکس بڑھانے کے لیے دباؤ تھا—فوٹو: فائل

 اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین ملک امجد زبیر ٹوانہ نے کہا ہے کہ بجٹ میں ٹیکس ہدف 3800 ارب روپے سے زائد رکھا گیا ہے جن میں سے 1800 ارب روپے پالیسی اور انفورسمنٹ کے ذریعے جمع کیے جائیں گے اور سیلز ٹیکس کی شرح 18 فیصد برقرار رکھی گئی ہے۔

چیئرمین ایف بی آر ملک امجد زبیر ٹوانہ نے اسلام آباد میں بجٹ کے بعد بریفنگ میں کہا کہ تنخواہ دار طبقے نان سیلری کے لیے ٹیکس ریٹ تبدیل کیے گئے ہیں، تنخواہ دار انفرادی ٹیکس دہندگان کی زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد جبکہ بزنس انفرادی ٹیکس دہندگان کے لیے زیادہ سے زیادہ شرح 45 فیصد کی گئی ہے۔

ان کا کہنا  تھا کہ ایکسپورٹ کے لیے معمول کے رجیم میں جارہے ہیں، ریٹیلرز کے لیے نان کمپلائنس پر جرمانے  8 سے 10 گنا بڑھائے ہیں، پیٹرولیم مصنوعات کو سیلز ٹیکس سے چھوٹ دے دی ہے۔

چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ نیوز پرنٹ پر 10 فیصد ٹیکس عائد کیا  گیا ہے، پولیٹری فیڈ آئل پر چھوٹ ختم کردی گئی ہے اور مختلف اقسام کے دودھ اور اس کی بنی مصنوعات پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے اور اس اقدام سے 100 ارب روپے کا سرمایہ ہوگا۔

بریفنگ کے دوران چیئرمین ایف بی آر اور دیگر اراکین نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لیے ہمارا 3800 ارب زائد ہدف ہوگا، ہم نے سیلز اور کسٹم میں ٹیکس چھوٹ ختم کی ہے، پالیسی اور انفورسمنٹ کے ذریعے 1800 ارب روپے کے ٹیکسز جمع کیے جائیں گے۔

چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ 400 سے 450 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کی گئی، کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 150 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم اور تنخواہ دار طبقہ پر 75 ارب روپے کا ٹیکس بوجھ ڈالا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیر تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ 150 ارب روپے ہوگا، غیر منقولہ جائیداد پر 5 فیصد ایکسائز ڈیوٹی لگائی گئی ہے، پلاٹس اور کمرشل پراپرٹیز پر بھی ایکسائز ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایکسپورٹس کو نارمل ٹیکس ریجیم میں لایا جا رہا ہے، ریٹیلرز پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح بڑھائی گئی ہے، مشروبات ساز فیکٹریوں سمیت دیگر مینوفیکچررز کو چینی کی سپلائی پر 15 روپے فی کلو کے حساب سے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔

چیئرمین ایف بی ار کا کہنا تھا کہ سیلز ٹیکس کی معیاری شرح 18 فیصد ہی برقرار رکھی گئی ہے، پھل اور ڈرائی فروٹس کی درآمد پر رعایتی کسٹمز ڈیوٹی کی سہولت واپس لے لی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہوم اپلائنسز کے لیے ان پٹس کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی کی چھوٹ واپس لینے کی تجویز ہے، فلیٹ رولڈ آئرن پراڈکٹس اور نان لائے اسٹیل پراڈکٹس کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھانے کی تجویز ہے۔

ملک امجد زبیر ٹوانہ نے کہا کہ نان فائلر موبائل صارفین پر 75 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے، جو موبائل صارفین ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں شامل نہیں ہوں گے ان کی کال پر 75 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سولر پینل پر کسی قسم کا کوئی ٹیکس نہ لگایا ہے اور نہ ہی کوئی اضافہ کیا گیا ہے، سولر پینل کی پاکستان میں مینوفیکچرنگ پر ٹیکس کی رعایت دی گئی ہے، بجٹ 2024 میں سیلز ٹیکس کی چھوٹ، رعایتی شرح اور استثنیٰ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ موبائل فونز کی مختلف کیٹیگریز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لگے گا، اس کے علاوہ متعدد اشیا پر سیلز ٹیکس کا اسٹینڈرڈ ریٹ عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تانبا، کوئلہ، کاغذ، پلاسٹک کے اسکریپ پر ود ہولڈنگ ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ درآمدی لگژری گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، 50 ہزار ڈالر مالیت کی درآمد گاڑیوں پر ٹیکسز اور ڈیوٹیز بڑھانے، شیشے کی درآمدی مصںوعات پر ڈیوٹی ختم کرنے جبکہ اسٹیل اور کاغذ کی مصںوعات کی درآمد پر ڈیوٹیز کی شرح بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیلز ٹیکس کی شرح 18 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کرنے کا دباؤ تھا مگر دباؤ تسلیم نہیں کیا۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔