پاکستان میں بچہ مزدوری کی بدتر صورتحال

راشدہ قریشی  جمعرات 13 جون 2024
بچہ مزدوری کے خاتمے کےلیے موثر، جامع اور کثیرالجہتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ (فوٹو: فائل)

بچہ مزدوری کے خاتمے کےلیے موثر، جامع اور کثیرالجہتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ (فوٹو: فائل)

12 جون قریب آتے ہی میرے ہاتھ کچھ لکھنے کےلیے مچلنے لگتے ہیں۔ اس بار بھی سوچا بچوں سے مشقت کے خلاف اس عالمی دن کے موقع پر اپنے خیالات اور خواہشات کو لفظوں میں ڈھالتی ہوں۔ مگر کچھ نیا لکھنے سے پہلے جب حالات و واقعات پر نظر ڈالی تو پتا چلا کہ کچھ بھی نہیں بدلا۔ ہمارے بچے اور ان کی حالت زار بالکل ویسی ہی ہے جیسی پچھلے کئی برسوں سے چلی آرہی ہے۔

محکمہ محنت و انسانی وسائل حکومت پنجاب نے سال 2019-2020 میں ایک چائلڈ لیبر سروے کروایا جس کے مطابق 5 سے 14 سال تک کی عمرکے 13.4 فیصد بچے چائلڈ لیبر میں پائے جاتے ہیں۔ جس میں سے 75 فیصد بچے صرف زراعت کے شعبے میں موجود ہیں۔

پچھلے دنوں کپاس کی کاشت میں مشقت کرنے والے بچوں کےلیے کچھ کام کرنے کا موقع ملا۔ ایسی بہت سی باتیں معلوم ہوئیں، جس سے اندازہ ہوا کہ کپاس کی کاشت کے ہر مرحلے میں بچے موجود ہوتے ہیں۔ بوائی کےلیے کھیت تیار کرنے سے لے کر چنائی تک ہر وہ کام بھی کر رہے ہوتے ہیں جو ان کی صحت، تعلیم اور اخلاقیات کو نقصان کو پہنچاتا ہے یا پہنچا سکتا ہے۔ مختلف زہریلے کیمیکلز، کھاد اور اسپرے کے استعمال سے بچے سانس اور جلد کی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ننگے پاؤں کھیت میں کام کرنے سے نہ صرف ان کے پیر زخمی ہوتے ہیں بلکہ سانپ اور بچھو کے کاٹ لینے کا خطرہ بھی سروں پر منڈلاتا رہتا ہے۔ موسم کی سختی ان کی صحت کو بری طرح سے متاثر کرتی ہے۔

ایسے علاقے جہاں کپاس کی کاشت زیادہ ہوتی ہے وہاں چنائی کے دنوں میں بچے اسکول جانا بند کردیتے ہیں اور ان کا سارا وقت کپاس چننے میں چلا جاتا ہے، جس کی وجہ سے بچوں میں کمر درد اور پٹھوں میں درد کی شکایت بھی دیکھی گئی ہے۔ اس دوران دوسرے شہروں سے بھی بچے ان علاقوں کا رخ کرتے ہیں جہاں کپاس کی کاشت زیادہ ہورہی ہوتی ہے جسے سیزنل لیبر بھی کہا جاتا ہے۔

لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ پنجاب میں بچوں سے مشقت کی روک تھام کا قانون مجریہ 2016 زراعت کے شعبے پر لاگو ہی نہیں ہوتا۔ یہ ان بچوں کی بات ہی نہیں کرتا جو مزدور کے طور پر کسی بھی طرح کے کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔ بچے تو بچے زراعت کے شعبے میں کام کرنے والے بڑے مزدور بھی حکومت کے کسی کھاتے میں رجسٹرڈ نہیں اور اسی لیے حکومتی سطح پر ملنے والے کسی بھی فائدے کے مستحق نہیں ہوپاتے، جس کا اثر مختلف راستوں سے گزرتا ہوا آخرکار بچوں پر ہی آکر ٹھہرتا ہے۔

بچوں کی مشقت ایک سنگین اور سنجیدہ مسئلہ ہے جو اقتصادی و معاشی حالات کی وجہ سے مزید پیچیدہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ بچے کو کم عمری میں مشقت کرنے پر مجبور کردینا تاکہ وہ اپنے خاندان کی مالی معاونت کرسکیں، بہت عام سی بات ہو کر رہ گئی ہے۔ کارخانوں، ورکشاپس، گھروں اور کھیتوں میں بچے غیر محفوظ اور خطرناک حالات میں کام کرتے ہیں، جس سے ان کی صحت اور اخلاقیات کے ساتھ مستقبل بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ آئے دن گھریلو بچہ مزدوری کا شکار بچوں پر تشدد کے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ تعلیم اور شعور کی کمی، غربت اور قوانین پر عملدرآمد نہ ہونا اس مسئلے کی جڑیں ہیں جن کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا۔

بچوں سے مشقت کو ختم کرنے کےلیے موثر، جامع اور کثیرالجہتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ پنجاب میں مفت اور لازمی تعلیم کا قانون مجریہ 2014 پر مکمل عملدرآمد ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ پانچ سے سولہ سال تک کے بچے اسکول میں ہوں۔ اگر بچے اسکول میں ہوں گے تو ان کے مشقت میں جانے کے امکانات معدوم ہوجائیں گے۔ بچوں سے مشقت کی روک تھام کے موجودہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ذمے داری ہے۔ نہ صرف ان قوانین کی پاسداری کےلیے ضرورت کے مطابق بجٹ کا مختص کیے جانا ناگزیر ہے بلکہ ان قوانین پر عملدرآمد کروانے کےلیے ایسے تجربہ کار لوگوں کا موجود ہونا بھی ضروری ہے جو قوانین اور اس پر عمل درآمد کی تمام جزئیات کو سمجھتے ہوں۔ حکومت زراعت کے شعبے کو بھی قانون کے دائرہ کار میں لانے کےلیے اقدامات کرے تاکہ دور دراز کھیت کھلیانوں میں مشقت کرنے والے مزدوروں کو بطور مزدور نہ صرف شناخت مل سکے بلکہ یہ مزدور اور ان کے بچے سماجی تحفظ کے مختلف پروگرامز سے مستفید ہوسکیں۔

حکومتی سطح پر عوام میں شعور بیدار کرنے کےلیے آگاہی کے پروگرام تسلسل کے ساتھ چلائے جانے چاہئیں۔ قانون کا بنا دینا کافی نہیں بلکہ اس کی تشہیر بھی اتنی ہی ضروری ہے جس میں میڈیا کے کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ ٹی وی، ریڈیو، اخبارات اور سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں میں چائلڈ لیبر کے نقصانات اور تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا جاسکتا ہے۔ میڈیا ایسے لوگوں کو ماڈل بنا کر سامنے لائے جو غربت اور نامساعد حالات کے باوجود اپنے بچوں کو تعلیم کے حصول کےلیے تعلیمی اداروں میں بھیجتے ہیں تاکہ معاشی تنگدستی کے شکار دیگر افراد کو بھی بچوں کو اسکول بھیجنے کےلیے تحریک دی جاسکے۔ اگر کسی بھی وجہ سے بچہ تعلیم حاصل نہیں کرسکا اور اب اسکول جانے کی عمر سے آگے نکل چکا ہے تو اس کےلیے باعزت طریقے سے ہنر سیکھنے کے مواقع ہونے چاہئیں۔

یہاں ان حکومتی اداروں کا ذکر کرنا ضروری ہے جو بچوں اور نوجوانوں کو مختلف ہنر سکھا کر کارآمد شہری بنانے میں مدد کر رہے ہیں جس میں پنجاب ووکیشنل ٹریننگ سینٹر اور ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی جیسے ادارے قابل ذکر ہیں۔ مگر ان اداروں میں داخلہ لینے کےلیے کم سے کم مڈل تک تعلیم ہونا لازمی ہے جس کی وجہ سے وہ بچے جو تعلیم حاصل نہیں کرسکے ان کےلیے استاد کی مار کھا کر ہنر سیکھنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچتا ۔ ان اداروں کو اپنے SOPs میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے اور ان بچوں کےلیے بھی کچھ کورسز متعارف کروائے جائیں جو اسکولوں سے باہر رہنے کی وجہ سے تدریسی عمل سے مستفید نہیں ہوپائے۔

بچوں کی مشقت کی روک تھام میں والدین کے کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ ماں باپ ہی اپنے بچوں کو مزدوری کےلیے بھیجتے ہیں اور بچوں کے مشقت کرنے سے فائدہ بھی والدین ہی اٹھا رہے ہوتے ہیں۔ غربت ایک واحد وجہ نہیں بلکہ والدین کا رویہ اور سوچ بھی چائلڈ لیبر میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ والدین وقتی فائدے کےلیے اپنی ذمے داریوں کا بوجھ خود اٹھانے کے بجائے معصوم جانوں پر ڈال دیتے ہیں۔ بچوں کی پرورش والدین کی ذمے داری ہے نہ کہ بچہ والدین کے نان و نفقہ کا ذمے دار ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے ماں باپ کا رتبہ بہت بلند رکھا ہے۔ باپ کی فضیلت اور ماں کے قدموں تلے جنت سے کسی کو انکار نہیں۔ تو کیا یہ فضیلت اور جنت صرف اس لیے ہے کہ والدین بچوں کو دنیا میں لانے کا سبب بنے؟ یا والدین سے بھی یہ سوال ہو گا کہ انھوں نے اپنے بچے کی پرورش کیسے کی؟

مہنگائی کے جن کو تو ہم بوتل میں قید نہیں کرسکتے لیکن اپنے معاشی وسائل کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنے کنبے کا حجم کم ضرور کرسکتے ہیں۔ ہمیں پھر سے ’’کم بچے خوشحال گھرانہ’’ اور ’’بچے دو ہی اچھے‘‘ جیسے مقولوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے اور کسی سیانے نے یہ بھی تو کہا تھا ناں کہ چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے چاہئیں، مگر ہمارے ہاں سمجھا جاتا ہے کہ پاؤں پھیلاؤ، چادر کہیں نہ کہیں سے مل ہی جائے گی۔

ہماری حکومتیں دنیا کے سامنے بڑی شان اور مان کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کردیتی ہیں جس میں اقوام متحدہ کا عالمی معاہدہ برائے حقوق اطفال اور پائیدار ترقی کے اہداف جن کو 2030 Agenda بھی کہا جاتا ہے، قابل ذکر ہیں۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی آر نہیں کہ بچوں کی مزدوری عالمی معاہدے برائے حقوق اطفال کی سب سے بڑی خلاف ورزی ہے کیونکہ جتنے حقوق اس معاہدے کے مطابق بچوں کو ملنے چاہئیں چائلڈ لیبر ان تمام حقوق کی پامالی کا سبب بنتی ہے۔

بچے بہت معصوم اور نازک ہوتے ہیں، ان کی حفاطت کرنا اور ان کو بہتر ماحول فراہم کرنا ہم بڑوں کی ذمے داری اور اولین فرض ہے۔ اپنے فرائض سے کوتاہی برت کر اپنا ہی مستقبل خراب مت کریں۔ بچوں کو پڑھنے، آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کا موقع دیں، وہ آپ کو مایوس نہیں کریں گے۔ لیکن اگر آپ بچوں کی زندگی سے مایوسیوں کے اندھیرے ختم کرنے میں ان کی مدد کریں گے تو وہ ہمارے ملک کو روشنیوں سے بھر دیں گے۔

 نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

راشدہ قریشی

راشدہ قریشی

بلاگر بچوں اور عورتوں کے حقوق کی فعال کارکن ہیں اور غیر سرکاری تنظیم سرچ فار جسٹس کے ساتھ وابستہ ہیں۔ آپ انھیں ٹوئٹر پر @RashadaQureshi فالو کرسکتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔