شہباز شریف تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس لگانے کے حق میں نہیں تھے، وزیرمملکت

ویب ڈیسک  جمعرات 13 جون 2024
فوٹو فائل

فوٹو فائل

 اسلام آباد: وزیر مملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بڑھانےکے حق میں نہیں تھے۔ جبکہ سیلز ٹیکس18 فیصد سے بڑھانے پر وزیر اعظم نے اتفاق نہیں کیاتھا۔ کم از کم تنخواہ ادائیگی کو یقینی بنانے کا معاملہ ہر فورم پر اٹھاوں گا۔

وزیر مملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک نے  پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ہدایات دی تھیں کہ  تنخواہ دار  طبقے پر ٹیکس نہیں بڑھنا چاہیے ، سب کو احساس ہے کہ کچھ عرصے سے  ڈبل ڈیجٹ  مہنگائی چل رہی ہے، تاہم  آئی ایم ایف کے ساتھ   معاملات کو مد نظر رکھ کر یہ اقدامات کیے گیے اور کمزور ترین  طبقے کو حکومت نے ریلیف دیا ہے۔

تنخواہ دار طبقے پر   ٹیکس سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا  کہنا تھا کہ ہر فورم پر کم از کم تخواہ ادائیگی کو یقینی بنانے کا معاملہ ہرفورم پر اٹھاوں گا، حکومت کی جانب سے کم سے کم تنخواہ 37 ہزار کی گئی ہے، اس پر عمل نہیں ہوتا تو سخت کارروائی ہونی چاہیے،  یہ انفورسمنٹ کا ایشو ہے۔

وزیر مملکت برائے خزانہ کا کہنا تھا کہ سیلز ٹیکس18 فیصد سے  بڑھانے پر وزیر اعظم نے اتفاق نہیں کیا، مہنگائی سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے  وزیر مملکت برائے خزانہ  کا کہنا تھا کہ مہنگائی بیماری کی علامات ہیں لیکن بیماری نہیں، مہنگائی  بخار ہے مگر کینسر نہیں ہے،بیماری کا علاج کرنا ہو گا  علامات کا نہیں، مہنگائی کے اسباب پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان  دیوالیہ  پن  کے دہانے پر کھڑا تھا، بدقسمتی سے70  سالوں میں ہم نے آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے اور اس دوران بہت سے آئی ایم ایف پروگرام سے گزرے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔