اقتصادی رابطہ کمیٹی اجلاس؛ ڈیڑھ لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی مشروط اجازت، وزارتوں کو فنڈز کی منظوری

ارشاد انصاری  جمعرات 13 جون 2024
وزیرخذانہ محمد اورنگزیب کی زیرصدارت ای سی سی کا اجلاس منعقد ہوا—فوٹو: پی آئی ڈی

وزیرخذانہ محمد اورنگزیب کی زیرصدارت ای سی سی کا اجلاس منعقد ہوا—فوٹو: پی آئی ڈی

 اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی)نے ڈیڑھ لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی مشروط اجازت دے دی ہے تاہم چینی کی خوردہ قیمت میں اضافے کی صورت میں برآمد کی اجازت منسوخ کر دی جائے گی، اس کے علاوہ وزارت داخلہ سمیت دیگر وزارتوں کے لیے مختلف مد میں فنڈز کی منظوری دی گئی۔

وزارت خزانہ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ اور ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ای سی سی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین، وزیر پیٹرولیم مصدق ملک، وزیر بجلی سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات علی پرویز ملک، وفاقی سیکریٹریز اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

ای سی سی نے وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے ڈیڑھ لاکھ میٹرک ٹن فاضل چینی کی برآمد کرنے کی اجازت دی اور کہا ہے کہ چینی کی خوردہ قیمت میں اضافے کی صورت میں برآمد کی اجازت منسوخ کر دی جائے گی۔

اجلاس میں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ برآمدی آمدنی ملوں کے ذریعے کسانوں کی واجب الادا ادائیگیوں  کے لیے استعمال کی جائے گی۔

ای سی سی نے پیٹرولیم ڈویژن کو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے بقایات جات کی کلیئرنس اور بشمول پاکستان اسٹیٹ آئل(پی ایس او) کے پرائس ڈیفرنشل کلیمز کی کیئرنس کے لیے 9 ارب روپے جاری کرنے کی بھی منظوری دے دی ہے۔

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کے لیے تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹس کی منظوری بھی دی، جس کے تحت ای سی سی نے کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکس واجبات کی کلیئرنس کی مد میں کابینہ ڈویژن کے لیے 12 کروڑ68 لاکھ48 ہزار روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دے دی ہے۔

علاوہ ازیں صدر سیکریٹریٹ کوملازمین سے متعلقہ اخراجات پورے کرنے کے لیے دو کروڑ 90 لاکھ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ، وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اور کوآرڈینیشن کو فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن کے حفاظتی ٹیکوں کی سرگرمی کے لیے 5 ارب 40 کروڑ روپے،گلگت بلتستان میں تعلیم اور صحت کے شعبے میں تنخواہ اور الاوٴنسز، فیملی اسسٹنس پیکجز اور سماجی اقدامات کی مد میں وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کو 4 ارب 92کروڑ روپے کی منظوری دی گئی۔

اسی طرح وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کو پاسکو کے زیر التوا واجبات کی ادائیگی کے لیے 6 ارب انسٹھ کروڑ 60 لاکھ روپے، وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے زیر التوا واجبات کی ادائیگی کے لیے37 کروڑ روپے، وزارت اقتصادی امور کو نادرا کی طرف سے صومالی قومی شناختی نظام تیار کرنے کے لیے33کروڑ 20 لاکھ روپے، فنانس ڈویژن کو خواتین پر مشتمل مالیاتی منصوبے کے کامیاب نفاذ میں سہولت فراہم کرنے کے لیے 14 ارب 25 کروڑ روپے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

اجلاس میں فنانس ڈویژن کو آڈٹ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے نفاذ کے لیے9 کروڑ 69لاکھ روپے، ڈیفنس ڈویژن کو گرین ٹورازم پاکستان پروجیکٹ کے لیے 5 ارب روپے، دفاع ڈویژن کو رواں مالی سال کی تنخواہوں کی مد میں شارٹ فال کے لیے دو کروڑ 39 لاکھ 45 ہزار روپے کی منظوری دی گئی۔

وزارت داخلہ کو ہیڈ کوارٹرز فرنٹیر کور اور ہیڈ کوارٹرز گلگت بلتستان اسکاؤٹس کے لیے راشن کے زیر التوا واجبات کی ادائیگی کی مد میں 10 ارب روپے، وزارت داخلہ کو 3 اضافی کور ہیڈکوارٹرز کے قیام کے لیے 60 لاکھ روپے، وزارت داخلہ کواضافی فنڈز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے انسٹھ لاکھ 86 ہزار روپے، وزارت داخلہ کو نیشنل اکیڈمی برائے جیل انتظامیہ کے لیے 95 لاکھ 76ہزار روپے، وزارت داخلہ کو ہیڈ کوارٹرز فرنٹیئر کور کے پی کے حوالے سے 8کروڑ 70 لاکھ روپے، وزارت داخلہ کو سول آرمڈ فورسز کی آپریشنل ضروریات اور راشن کے زیر التوا واجبات پورے کرنے کے لیے 4 ارب 63 کروڑ 70 لاکھ روپے کی بھی منظوری دی گئی۔

وزیرخزانہ کی زیر صدارت اجلاس میں کمیٹی کے ارکان کی جانب سے اقتصادی امور ڈویژن کو مالی سال 24-2023 کے نظرثانی شدہ بجٹ تخمینوں کے حساب سے 168 ارب 83کروڑ 40 لاکھ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ فراہم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

کابینہ کی قومی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاور ڈویژن کی جانب سے 20 ارب روپے کی واپسی کی سمری کی بھی منظوری دے دی ہے، او جی ڈی سی ایل کی جانب سے پی ایچ ایل کو 82 ارب روپے کی مالیاتی سہولت فراہم کی گئی اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ او جی ڈی سی ایل اس انتظام کے ذریعے موصول ہونے والے فنڈز سے حکومت پاکستان کو ادائیگیاں کرکے اپنے واجبات کلیئر کرے گا۔

اجلاس میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کے لیے 229 ارب روپے سے زائد مالیت کی تکنیکی ضمنی گرانٹس کی بھی منظوری دی گئی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔