وفاقی حکومت، 100 دن کی کارکردگی کا میزانیہ

ایڈیٹوریل  پير 17 جون 2024
(فوٹو: ویب ڈیسک ایکسپریس)

(فوٹو: ویب ڈیسک ایکسپریس)

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پہلے 100 دن کے دوران اپنی حکومت کی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے معاشی استحکام اور عوامی فلاح و بہبود کے اپنے پانچ سالہ ایجنڈے کو اجاگرکیا، انھوں نے کہا کہ ملک معاشی مشکلات سے نکل کر ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہے، سرخ فیتے اور بدعنوانی کو ختم کریں گے، حکومتی اخراجات میں کمی کے لیے فیصلہ کن اقدامات اٹھا رہے ہیں، قوم پر بوجھ بننے والے اداروں کا خاتمہ اور نجکاری ناگزیر ہے، قرض اور امداد کے بجائے مقامی وسائل پر انحصار اور تجارت ہمارا ذریعہ آمدن ہو گا، مہنگائی میں نمایاں کمی ہوئی ہے، عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

بادی النظر میں تو کسی نئی حکومت کے لیے100دن بہت ہی کم ہوتے ہیں، اس محدود ترین وقت میں حکومت کی کارکردگی کا جانچنا اور تجزیہ کرنا آسان نہیں ہوتا، لیکن حکومت کے پہلے سو دنوں میں سمت کے تعین کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، بلاشبہ سمت مثبت لگ رہی ہے، معاشی طور پر ملک کے مستحکم ہونے کا آغاز ہوگیا ہے، حکومت نے نئے ٹیکس لگائے ہیں لیکن یہ بہتری کی طرف آغاز ہے، البتہ وفاقی حکومت اپنے اہداف حاصل کرسکے گی یا نہیں؟ اس سوال کا جواب آنیوالے وقت میں ملے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں حکومت کی صائب تجاویز اور اقدامات کا ذکر کیا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وفاقی حکومت کے پہلے سو دن کی کارکردگی، کاوشوں کے لحاظ سے نہ صرف اطمینان بخش ہے بلکہ قابل تعریف بھی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بہت ہی قلیل وقت میں ملکی معیشت کی بحالی کے لیے دوست ممالک سعودی عرب سمیت خلیجی ریاستوں کے مسلسل دورے کر کے اربوں ڈالرز کی یقین دہانیاں حاصل کی ہیں، جب کہ چین سی پیک ٹو مرحلے کے لیے آمادہ ہوچکا ہے، یقینًا آنے والے دنوں میں معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد ملے گی۔

اس وقت ملکی اقتصادی بحران کا حل یہ ہے کہ ہائی جی ڈی پی گروتھ کی طرف آیا جائے۔ پچھلے بیس تیس سالوں میں پاکستان کی اوسط شرح نمو پانچ فی صد سے زیادہ رہی ہے۔ ہمیں ایسی پالیسی بنانا چاہیے، جس سے ملک کی گروتھ پانچ چھ فی صد تک آ جائے۔ اسی صورت میں غربت میں کمی ہو گی، لوگوں کو روزگار ملے گا، قرضوں کا بوجھ کم ہوگا۔

جب ہم ہائی گروتھ کی طرف جائیں گے تو ملکی امپورٹس بڑھیں گی۔ تجارتی خسارے میں اضافہ ہو گا، لیکن حکومت بالکل اس سے بالکل نہ گھبرائے، قرضے لے کر قرضے ادا کرنے کی پالیسی سے اب باہر نکلنا ہوگا۔ اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ دستیاب وسائل کو پروڈکٹیو شعبوں میں ہی خرچ کیا جانا چاہیے۔ ہمیں آئی ایم ایف کے ساتھ بیٹھ کر ان کو یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان ویسے ہی ترقی کر سکتا ہے جیسا دوسرے ملکوں کی ہے، اگر وہ ہمیں تجارتی خسارے سے ہی ڈراتے رہیں گے تو حالات کیسے بدلیں گے؟

وفاقی حکومت نے نان فائلرزکے خلاف جو اقدامات شروع کیے ہیں ان سے ٹیکس نیٹ میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جاتا ہے۔ بجٹ میں نان فائلرز کے بیرونِ ملک سفر پر پابندی کی تجویز شامل ہے جب کہ اس سے قبل نان فائلرزکی سمیں بلاک کرنے اور اُن پر 75 فیصد موبائل ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ماہانہ لاکھوں روپے کمانے والے ٹیکس نادہندگان کے عمل کا بھگتان بھی پہلے سے ٹیکس دینے والوں کو مزید ٹیکسوں کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔

حکومتی آمدن میں اضافے کے لیے کسی مخصوص طبقے پر ٹیکس کا بوجھ بڑھاتے جانے کے بجائے ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہی واحد حل ہے۔ دکاندار طبقہ زیادہ تر کیش میں کاروبار کرتا ہے جس کی وجہ سے ان کی آمدن کے درست اعداد و شمار ایف بی آر کے پاس نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ تاجروں اور پرچون فروشوں کو پوائنٹ آف سیل سسٹم نصب کرنے کا پابند بنائے تاکہ ایف بی آر کو ان کی آمدن کے درست اعداد و شمار تک رسائی حاصل ہو اور انھیں آمدن کے مطابق ٹیکس ادائیگی کا پابند بنایا جا سکے، اگر ٹیکس نادہندگان قومی ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے باقاعدگی سے اپنی آمدن کے مطابق ٹیکس جمع کروائیں تو ملکی آمدنی میں خاصا اضافہ ہو سکتا ہے اور ملکی ضروریات کے لیے یہ جو ہر سال بھاری قرض لینا پڑتے ہیں، اس سے جان چھوٹ سکتی ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ چند روز قبل پیش کیے جانے والے بجٹ میں حکمران طبقہ اور اشرافیہ نے سارا بوجھ غریب عوام اور تنخواہ دار طبقہ پر ڈال دیا ہے۔38کھرب روپے کے اضافی ٹیکس عائد کیے گئے ہیں، یہ00 85ارب روپے کے خسارہ کا بجٹ ہے۔

اس وقت ملک میں سرکاری اہلکاروں کے زیر استعمال گاڑیوں کی تعداد لاکھوں میں ہے، جن کی قیمت کھربوں میں ہے اور یہ گاڑیاں سالانہ پٹرول اور مرمت کی مد میں اربوں روپے خرچ کرتی ہیں، جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔ امریکا جیسے امیر اور طاقتور ملک میں ماسوائے چند اداروں کے کسی کے پاس سرکاری گاڑی نہیں ہوتی، یہی حال دیگر ترقی یافتہ ممالک کا ہے۔ ملک کے سیاست دان، سرکاری عہدے دار معمولی کٹوتی پر بڑی سی اقامت گاہ جس میں بجلی کے کئی سو یونٹ مفت، بڑی بڑی گاڑیاں اور ان کے لیے پٹرول گویا ان کا حق ہے۔ اس کے بعد بالخصوص سرکاری اداروں میں مالی بدعنوانی اور رشوت ستانی ایک الگ باب ہے۔

پچھلے دنوں بجلی کے مفت یونٹس پر بھی سوشل میڈیا پر پاکستانی عوام نے اشرافیہ اور سرکاری افسران کی بے حسی اور عیاشیوں پر خوب برہمی اور شدید غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔ ہر سرکاری ادارے میں یہ افسر شاہی اپنی طاقت کی دھونس و دھاندلی چلاتی نظر آتی ہے۔ یہ اپنی نااہلیوں کا بوجھ ایک دوسرے کے کندھوں پر ڈال کر خود بری الذمہ ہو جاتی ہے۔ ملکی بگاڑ میں ان سب کا برابر کا حصہ ہے۔

پاکستان بھر کے محنت کش عوام کی آمدن ایک طرف رکھیں اور دوسری طرف اس افسر شاہی کی مراعات تو محنت کش طبقے کی آمدن کا دس فیصد بھی نہیں بنتی۔ اتنی مراعات کے باوجود یہ رشوت لینا اپنا قانونی حق تصور کرتے ہیں، کسی بھی ادارے میں بغیر رشوت کے عوام کا کوئی کام نہیں ہوتا۔ اس ملک کا مراعات یافتہ طبقہ اس کی تباہی کا ذریعہ بن رہا ہے۔ یہاں جس کو سب سے زیادہ تنخواہ اور مراعات دی جاتی ہیں وہ سب سے زیادہ کرپشن اور استحصال کرتا ہے اور جس کو جتنا اختیار دیا جاتا وہ اس کو اپنے ذاتی فائدے یا کسی اور کے فائدے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس لیے یہاں قانون کی پاسداری کہیں نظر نہیں آتی۔

نازک ملکی معیشت کی وجہ سے حکومت کو جو مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں، ان کا بوجھ غریب آدمی پر ڈالنے کے بجائے اشرافیہ اور حکمران طبقے پر منتقل ہونا چاہیے۔ یہ بات قابل جواز ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ حکومت کی طرف سے عوام الناس کو تو کفایت شعاری کا درس دیا جاتا ہے، لیکن وزیروں، مشیروں، سرکاری افسروں اور دیگر اعلیٰ عہدیداران کی مراعات اور سہولیات اسی طرح جاری رہتی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ صورتحال عام آدمی کے لیے تکلیف کا باعث ہوتی ہے۔ عام شہری اپنے آپ کو قربانی کا بکرا محسوس کرنے لگتا ہے۔ پاکستان کے کسی بھی شہر میں سرکاری گاڑیوں کو سرکاری افسروں کی بیگمات، بچوں اور رشتے داروں کو بے دریغ استعمال کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ہفتے اور اتوار کو چھٹی ہوتی ہے اس دن بھی یہ ساری گاڑیاں آپ کو مارکیٹوں اور دیگر جگہوں پر اس اشرافیہ کی خدمت میں ملیں گی۔

ملک میں جتنے اسمگلر ہیں ان کی سہولت کاری یہی کرتے ہیں۔ ٹمبر مافیا، قبضہ مافیا، ٹینکر مافیا، شوگر مافیا، بھتہ مافیا یہاں تک کہ بھیک مانگنے والا مافیا بھی ان سرکاری اہلکاروں کی مدد و تعاون سے اپنا کام کر رہا ہے۔ سرکاری افسران اور وزراء اپنے گاڑی کے شیشے کالے کروا سکتے ہیں، کلاشنکوف بردار رکھ سکتے ہیں، عدالت سے سزا پانے کے بعد بھی اپنے ہی گھر پر رہ سکتے ہیں۔

کسی بھی شہر میں جائیں تو اس شہر کی پولیس شاہراہیں خالی کر کے سیکڑوں کی تعداد میں جلوس کی شکل میں پروٹو کولز دیتی نظر آتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کو اپنے اعلان کے عین مطابق بیوروکریسی کی مراعات کو انتہائی کم یا ختم کرنا چاہیے۔ بلاشبہ خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجی کاری سے بھی صورتحال میں بہتری آنے کی امید ہے۔

اگرچہ حکومت مہنگائی میں نمایاں کمی کی دعویدار ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ماسوائے سستا آٹا، روٹی اور سستے علاج معالجے کی سہولیات کے باقی تمام اشیائے ضروریہ کے نرخ آسمانوں سے باتیں کررہے ہیں۔ غریب آدمی کے لیے اب بھی دو وقت کی روٹی کا حصول وبال جان بنا ہوا ہے۔

بجلی، گیس کے نرخوں میں آئے روز کیا گیا اضافہ ان کی مشکلات کو مزید گھمبیر کرتا نظر آرہا ہے۔ جب تک ان کے نرخوں میں کمی نہیں کی جاتی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو عالمی سطح کے مطابق نیچے نہیں لایا جاتا، مہنگائی پر قابو پانا ممکن نہیں، کیونکہ عام اشیاء کی قیمتیں بجلی، گیس اور پٹرولیم کے نرخوں کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ہی جڑی ہیں۔ مہنگائی کی کمی میں سب سے بڑی رکاوٹ ناجائز منافع خور، ذخیرہ اندوز اور مصنوعی مہنگائی کرنے والا مافیا بھی ہے جو عوام کو ریلیف دینے کی حکومتی کوششوں پر پانی پھیر رہا ہے، جب تک ان مافیاز کے خلاف کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی، حکومت کی تمام تر کوششیں بے سود رہیں گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔