یوں ہوتا تو کیا ہوتا

سعد اللہ جان برق  پير 17 جون 2024
barq@email.com

[email protected]

ویسے تو یہ ایک چھوٹا سا پانچ لفظی جملہ ہے، یوں ہوتا تو کیا ہوتا لیکن ایسا کوئی انسان اس دنیا میں کم ہی گزرا ہوگا جس کے ذہن میں یا زبان پر کبھی نہ کبھی کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی وقت یہ جملہ نہ آیا ہو خاص طور پر ’’ناکام‘‘ لوگوں کے دماغوں یا زبانوں پر تویہ جملہ چپکا رہتا ہے۔

ناکام تمنا دل یہ سوچتا رہتا ہے

یوں ہوتا تو کیا ہوتا ، یوں ہوتا تو کیا ہوتا

’’کرنے والے‘‘ تو کر لیتے ہیں لیکن نہ کرنے یا نہ کرسکنے والے اسی جملے سے دل کو بہلا لیتے ہیں، دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے یا تیرا پتہ نہ پائیں تو ناچار کیا کریں… اپنے پیر و مرشد بھی اپنے وقت کے بہت بڑے ’’ناکام تمنا‘‘ تھے، اتنے بڑے کہ مرنے کے بعد بھی یہ جملہ ہی ان کا کل اثاثہ بن گیا:

ہوئی مدت کہ غالب مرگیا پر یاد آتا ہے

جو ہر اک بات پر کہتا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

دراصل یہ جملہ لگتا تو اکیلا ہے لیکن دنیا میں کبھی کوئی چیز اکیلی نہیں ہوتی ہے، ہر مثبت کاایک منفی اور ہر منفی کا ایک مثبت بھی ہوتا ہے چنانچہ اس جملے کا بھی ایک منفی ضرور ہے… یعنی یوں ہوتا تو کیا ہوتا اور اس کا جوڑی دار… کہ یوں نہ ہوتا تو کیا ہوتا لیکن کثرت استعمال سے منفی اور مثبت آپس میں ٹوئن ہو گئے ہیں، اس لیے دو مرتبہ دہرا کر اس سے منفی ومثبت کا کام لیا جاتا ہے یعنی یوں ہوتا تو کیا ہوتا تو دوسری مرتبہ دہرانے سے کام بھلایا جاتا ہے جیسا کہ مولانا چراغ حسن حسرت نے کہا ہے… یوں ہوتا تو کیا ہوتا… یوں ہوتا تو کیا ہوتا… یہ مولانا کی اس مشہور غزل کا شعر ہے کہ

غیروں سے کہا تم نے غیروں سے سنا تم نے

کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا

یعنی پکے وٹے ناکام تمنا دل رکھتے تھے جو ہر وقت یوں ہوتا توکیا ہوتا، یوں ہوتا تو کیا ہوتا پکارتے تھے۔ سمجھنے والے سمجھتے ہیں کہ دوسری نہ میں کہیں نہ کہیں ایک ’’نہ‘‘ بھی منہ چھپائے بیٹھی ہے… یوں ہوتا تو کیا ہوتا… یوں نہ ہوتا توکیا ہوتا لیکن اس کی تشریح فیض نے کی ہوئی ہے:

یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے

سارے لوگ ہی چاہتے ہیں کہ یوں ہو جائے لیکن چڑیوں اور چوہوں کی دعائیں قبول ہوتیں تو دنیا میں بلیوں کا نام ونشان ہی نہ رہتا لیکن یوں صرف چاہا جاتا ہے ہوتا بالکل بھی نہیں۔

اب پوراجملہ یوں بنے گا کہ فلاں صدر ہوتا تو کیا ہوتا اور فلاں صدر نہ ہوتا تو کیا ہوتا۔ دنیا میں لیڈر ہیں توکیا ہو رہا ہے اور لیڈر نہ ہوتے تو کیا ہوتا بلکہ جملے کو مزید وسعت دے کر کچھ اور پھیلاتے ہیں کہ اگر حکومت ہوتی تو کیا ہوتا اور حکومت نہ ہوتی تو کیا ہو جاتا۔ قانون ہوتا تو کیا ہوتا اور اگر نہ ہوتا تو کیا ہوتا۔ قانون کے محکمے اور ادارے میں تو کیا ہوا ہے اور اگر نہ ہوتے تو کیا ہو جاتا، محکموں کے وزیر وسربراہ ہیں تو کیا ہوا ہے اور اگر نہ ہوتے تو… بلکہ اگر سیاست، جمہوریت، انتخابات، منتخب نمایندے انتخاب، اسمبلیاں نہ ہوتے تو کیا ہوتا اور اگر ہیں تو کیا ہوا ہے۔ اب اگر:

بدنام مرے عشق کا افسانہ ہوا ہے

دیوانے بھی کہتے ہیں کہ دیوانہ ہوا ہے

تو عشق کا افسانہ بدنام نہ ہوتا اور دیوانے کچھ بھی نہ کہتے تو کیا ہوتا۔ویسے حساب لگانا تو ناممکن ہے کہ اس ہونے نہ ہونے سے کیا ہوتا یا ہوا ہے لیکن اتنا ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ کم ازکم وہ نہ ہوتا جو ہوا ہے اور وہ بھی نہ ہوتا جو نہیں ہوا ہے اور یہ بھی کہ ہم پاکستان کے بارے میں اور گزشتہ ستتر سال کے بارے میں وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا، اور یوں نہ ہوتا تو کیا ہوتا:

رشتہ تھا کبھی تو کسی بے درد نے توڑا

اپنا تھا کبھی کوئی تو بیگانہ ہوا ہے

مثال کے طور پر اگر آئی ایم ایف کی صورت میں نہ ہوتا تو ہم قرضے کس سے لیتے اور اگر قرضے نہ لیتے تو انکم سپورٹ اور دوسرے بہت سارے لنگرخانے کیسے چلاتے، دسترخوان کیسے چلاتے اور ان پر ’’منہ‘‘ کہاں سے بٹھاتے… بلکہ سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا کہ اگر انکم سپورٹ اور نکمے سپورٹ، نکھٹو سپورٹ سلسلے نہ ہوتے تو پارٹیاں اپنے کارکنوں کو تنخواہیں یا اجرت کہاں سے ادا کرتیں، یہ جلسے جلوس اور دھرنے ورنے مفت میں تو نہیں ہوتے ۔

اس یوں ہوتا تو کیا ہوتا کے سلسلے میں ہمیں اکثر یہ خیال آتا ہے کہ اگر ابتداء میں ہی ان لوگوں کو ’’پار‘‘ اور پاسڈ اوے نہ کیا جاتا جنھوں نے یہ ملک بنایا تھا قوم کے لیے اور وہ گھس بیٹھیئے قابض نہ ہو جاتے جنھوں نے یہ ملک ’’بنوایا‘‘ اپنے لیے، یعنی اگر یوں نہ ہوتا اور یوں ہوتا تو کیا ہوتا۔

چلیے ہم بتاتے ہیں یوں ہوتا کہ یہ ملک ’’کھیت‘‘ بن جاتا اور اس سے دہقان کو روزی روٹی میسر آتی، اب اگر ایسا ہوتا تو یہ چڑیاں کہاں جاتیں جو اب کھیت چگ رہی ہیں اور یہ بلیاں اور بلے کہاں جاتے جوگوشت خوری کر رہے ہیں:

نہ ملتا غم تو بربادی افسانے کہاں جاتے

اگر دنیا چمن ہوتی تو ویرانے کہاں جاتے

صرف افسانے ویرانے اور بیگانے ہی نہیں بلکہ وہ پروانے کہاں جاتے جو ’’روشن‘‘ شمع پر نثار ہورہے۔ بلکہ وہ ’’دانے‘‘ بھی پیدا نہ ہوتے جنھوں نے اس مالامال ملک کو بھکاری اورگداگر بنا کر رکھ دیا ہے ۔

تم ہی نے غم کی دولت دی بڑا احسان فرمایا

زمانے بھرکے آگے ہاتھ پھیلانے کہاں جاتے

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔