موسمیاتی تبدیلی اور امراض قلب سے جڑی اموات میں تعلق کا انکشاف

ویب ڈیسک  منگل 18 جون 2024
[فائل-فوٹو]

[فائل-فوٹو]

بوسٹن: موسمیاتی تبدیلی دنیا کے لیے کوئی نیا خطرہ نہیں، سائنسدان مسلسل عالمی اقوام کو خبردار کرتے رہے ہیں کہ وہ اسے کم کرنے کے لیے اہم اقدامات اٹھائیں، اب سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ اس موسمیاتی تبدیلی سے دنیا بھر کے لوگوں کی قلبی صحت کو کافی نقصان پہنچ رہا ہے۔

جاما کارڈیالوجی نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، انتہائی درجہ حرارت، سمندری طوفان اور دیگر خطرناک موسمی واقعات، یہ سب دل کی بیماریوں اور اس سے متعلق اموات کی بڑھتی شرح میں معاون ہیں۔

امریکا میں میڈیکل سینٹر فار آؤٹکمز ریسرچ کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر اور محقق، دھروو کازی کا کہنا تھا موسمیاتی تبدیلی پہلے ہی دنیا بھر میں قلبی صحت کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سے متعلقہ قلبی خطرات کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

محققین نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پچھلی صدی کے دوران عالمی درجہ حرارت میں اوسطاً 2 ڈگری فارن ہائیٹ سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ علاوہ ازیں ریکارڈ پر اب تک کہ گرم ترین 10 سال پچھلی دہائی کے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

1970 اور 2023 کے درمیان کیے گئے مطالعات نے قلبی صحت اور موسمی تبدیلیوں و واقعات کے درمیان تعلق کو دیکھا جس میں انتہائی درجہ حرارت، جنگل کی آگ کا دھواں، اوزون کی سطح پر آلودگی، گھریلوں استعمال میں نمکین پانی کی آمیزش، سمندر اور مٹی کے طوفان اور خشک سالی جیسے واقعات شامل ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔