بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں ٹرین حادثہ، 15 افراد ہلاک

ویب ڈیسک  پير 17 جون 2024
پولیس نے حادثے کی ذمہ داری مال گاڑی کے ڈرائیور پر عائد کردی—فوٹو: رائٹرز

پولیس نے حادثے کی ذمہ داری مال گاڑی کے ڈرائیور پر عائد کردی—فوٹو: رائٹرز

 کولکتہ: بھارت کے مغربی بنگال میں مال گاڑی مسافر بردار ریل سے ٹکراگئی، جس کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ مال بردار ریل نے پیچھے سے ٹکر ماری اور یہ حادثہ ڈرائیور کی غلطی سے پیش آیا۔

بھارتی میڈیا میں نشر ہونے والی تصاویر میں مال گاڑی سے گرنے والے کنٹینر نظر آرہے ہیں اور ایک بوگی تقریباً کھڑا ہوگیا ہے۔

جائے وقوع پر موجود مغربی بنگال کے ضلع درجیلنگ کے سینئرپولیس عہدیدار ابھیشک رائے نے بتایا کہ الٹنے والی بوگی سے 15 لاشیں نکالی جاچکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس حادثے میں 54 افراد زخمی ہوئے ہیں تاہم پولیس اور نیشنل ڈیزاسٹر کا عملہ پٹڑی سے ملبہ ہٹا کر راستہ صاف کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مال بردار ریل نے کنچن جنگا ایکسپریس کو نشانہ بنایا جو ریاست تریپورہ سے مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ جارہی تھی اور ریل سے تین بوگیاں کٹ گئی ہیں۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ مسافر ریل میں کتنے افراد موجود تھے۔

ریلوے بورڈ کے سربراہ جیا ورما سنہا نے بتایا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد میں ریل کا ڈرائیور اور مسافر بس میں تعینات گارڈ بھی شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حادثہ مال گاڑی کے ڈرائیور کی جانب سے سگنل توڑنے کی وجہ سے پیش آیا ہے جبکہ امدادی کام مکمل کرلیا گیا ہے اور حکام ٹریفک بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ریلوے عہدیدار نے بتایا کہ زخمیوں کی تعداد زیادہ ہے لیکن ابتدائی طور پر خدشہ تھا کہ نقصان زیادہ ہوگا تاہم اتنا زیادہ نقصان نہیں ہوا۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ریلوے حادثے میں انسانی جانی ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ وزیرریلوے ایشوینی ویشنا جائے وقوع کی طرف روانہ ہوگئے ہیں۔

یاد رہے کہ ایک سال قبل ہی اوڈیسہ میں بدترین ریل حادثے میں 288 افراد ہلاک ہوگئے تھے جو سگنل کی خرابی کے باعث پیش آیا تھا اور دو دہائیوں میں بدترین ریلوے حادثہ قرار دیا گیا تھا۔

بھارت کی حزب اختلاف کی جانب سے نریندر مودی کو ریلوے کے ناقص نظام کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان پر شدید تنقید کی گئی تھی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔