غزہ میں صحت کا نظام تباہ، 3500 بچوں کی زندگی خطرے میں

ویب ڈیسک  منگل 18 جون 2024
فوٹو فائل -- بشکریہ اے ایف پی

فوٹو فائل -- بشکریہ اے ایف پی

 غزہ: عید الاضحیٰ کے تیسرے روز اسرائیلی فوج نے نصیرات میں قائم پناہ گزین کیمپ پر بمباری کی جس کے نتیجے میں مزید 17 فلسطینی شہید ہوگئے جبکہ صحت کا نظام تباہ ہونے سے 3500 بچوں کی زندگی پر بن آئی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے منگل کے روز نصیرات کیمپ پر بمباری کی جس کے نتیجے میں بچوں اور خواتین سمیت مزید 17 فلسطینی شہید ہوگئے۔

اُدھر وزارت صحت نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی بربریت کی وجہ سے ہیلتھ کیئر کا 70 فیصد سسٹم تباہ ہوچکا ہے جبکہ متعدد ڈاکٹرز کو بمباری میں شہید کردیا گیا ہے۔

غزہ میں اب صرف چند فیلڈ اسپتالوں میں صرف بنیادی سروسز فراہم کی جارہی ہیں جبکہ اب شہر میں کسی اسپتال کا نام و نشان نہیں بچا۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں 7 جون تک اسرائیلی فوج نے 476 اسپتالوں پر حملے کیے جن میں 727 شہری جاں بحق جبکہ 933 زخمی ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ پر اختلافات، نیتن یاہو نے جنگی کابینہ توڑ دی

غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کی جانب سے جاری تہلکہ خیز بیان میں بتایا گیا ہے کہ طبی سہولیات، خوراک اور ویکسین کی عدم فراہمی کے باعث 3500 بچوں کی زندگی خطرے میں ہے اور وہ موت کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

غزہ میں سرکاری میڈیا آفس نے فلسطینی طبی عملے کے ساتھ اسرائیلی فوج کے سلوک سے متعلق ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی طبی عملے کی گرفتاری اور انہیں پھانسی دینے کے جرائم کی بین الاقوامی تحقیقات کی جائیں۔

وزارت صحت نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے جیل میں موجود ڈاکٹر ایاد الرنتیسی کو پھانسی دینا ایک بھیانک جرم ہے۔ اس کے علاوہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے 310 ڈاکٹرز، پیرا میڈیکٹس کو گرفتار کیا اور انہیں دوران حراست تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے، ہم طبی عملے کی جانوں اور حفاظت کے لیے قبضے اور امریکی انتظامیہ کو ذمہ دار سمجھتے ہیں۔”

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔