عدت کیس؛ کوئی فریق اگر نا بھی آیا تو ریکارڈ دیکھ کر فیصلہ کر دوں گا، جج

ویب ڈیسک  جمعـء 21 جون 2024
(فوٹو: فائل)

(فوٹو: فائل)

 اسلام آباد: عدت کیس میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیے کہ 27 جون سے پہلے سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ کرنا ہے، کوئی فریق اگر نا بھی آیا تو ریکارڈ دیکھ کر فیصلہ کر دوں گا، ابھی 25 جون کے لیے کیس رکھ رہا ہوں۔

بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ اور بشریٰ بی بی کے وکیل محمد عثمان گل بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

سماعت شروع ہوئی تو خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے التوا کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کچھ وقت دے دے میں دلائل دے دوں گا، جس پر جج نے کہا کہ پاور آف اٹارنی واٹس ایپ پر منگوا لیں۔ وکیل نے کہا کہ آپ پیر کے لیے رکھ لیں یا کل کے لیے رکھ لیں۔

عدالت نے خاور مانیکا کے وکیل کو آج ہی پاور اٹارنی جمع کرانے کی ہدایت کی۔

جج نے ریمارکس میں کہا کہ ہائیکورٹ میں خاور مانیکا کے وکیل موجود تھے ان کو نوٹس بھی تھا، ہائیکورٹ کے آرڈر کا بھی خاور مانیکا کو پتہ ہے، مختصر دورانیے کی سزا سے متعلق عدالت کی معاونت کریں، آپ نے اپنی پٹیشن میں لکھا ہوا ہے یہ مختصر دورانیے کی سزا نہیں، سزا اس وقت معطل کی جاتی ہے جب اپیل کا فیصلہ ہونے میں دیر ہو رہی ہو اس پر بھی عدالت کی معاونت کریں۔

بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل کا آغاز کیا تو جج نے سوال کیا کہ اگر اعلیٰ عدلیہ کے دو فیصلوں ہوں ایک آپ کے حق اور دوسرا آپ کے خلاف ہو تو کس کو لیں گے؟

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جو فیصلہ اعلیٰ عدلیہ سے بعد میں آیا ہے اس پر عدالت عمل کرے گی، 1985 کی آئینی ترمیم کے بعد صورت حال تبدیل ہوئی ہے، 1985 سے پہلے کے فیصلوں کو اس نکتے پر نہیں دیکھا جائے گا۔

بشری بی بی کے وکیل عثمان گل نے کہا کہ میں نے اڈیالہ جیل جانا ہے سلمان صاحب آج دلائل دیں میں آئندہ سماعت پر کروں گا۔ وکیل عثمان گل اڈیالہ جیل سماعت میں جانے کے لیے عدالت سے چلے گئے۔

سلمان اکرم راجہ نے دلائل میں کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا تقی عثمانی نے یہ فیصلہ لکھا ہے ہم اس کو سائیڈ پر نہیں رکھ سکتے، اسلام میں ایک اصول ہے خاتون کی ذاتی زندگی میں نہیں جھانکنا، جب تک کہ کوئی چوراہے میں کھڑا ہو کر ببانگ دہل اظہار نا کرے، جب کوئی خاتون بیان دے دے تو ہم اس کو حتمی مانیں گے، 39 دن گزر گئے، جس کے بعد خاتون کا دیا گیا بیان ہم مانیں گے۔

عمران خان کے وکیل نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے میں عدالت نے عورت پر کوئی ذمہ داری نہیں ڈالی تھی، عدالت نے اس بنیاد پر مقدمہ ختم کر دیا تھا کہ 39 دن گزر چکے تھے۔ مفتی تقی عثمانی، پیر کرم شاہ الازہری اور محمد رفیق تارڑ نے یہ فیصلہ لکھا تھا، مفتی تقی عثمانی دیوبندی مکتبہ فکر کے اعلی پائے کے عالم ہیں، پیر کرم شاہ الازہری بریلوی مکتبہ فکر کے اعلی پائے کے عالم دین تھے اور تیسرے ممبر رفیق تارڑ تھے جو بعد میں صدر بھی بنے۔

اپنے دلائل میں سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اس فیصلے کی حکمت اور 80 کی دہائی میں قانون کی تبدیلی کو بھی عدالت نے دیکھنا ہے، آپ کے سامنے اس مقدمے میں ہر کوئی یہ مان رہا ہے کہ طلاق تو بہرحال ہوگئی، 14 نومبر 2017 کو طلاق ہونے میں فریقین میں کوئی اختلاف نہیں، ہمارا یہ موقف ہے کہ بشریٰ بی بی کو اپریل 2017 میں طلاق ہوئی، انہوں نے عدت پوری کی پھر نیا نکاح کیا، چونکہ ہمیں گواہی نہیں دینے دی گئی اس لیے ہم کہتے ہیں 14 نومبر سے ہی شروع کر لیں، 90 دن کا مطلب نوٹس کے بعد کے ہیں۔

جج نے ریمارکس دیے کہ وہ تو خاوند پر ہوگا کہ نوٹس ہی نہیں دیا آپ کا تعلق نہیں، اپیل میں فیصلے کرنے کے لئے 12 جولائی تک کا میرے پاس وقت ہے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں جن نکات پر بات کر رہا ہوں اپیل میں ان کو نہیں دہراؤں گا، میں جناب کا وقت بار بار نہیں لوں گا اس لیے بنیادی باتیں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ خاور مانیکا کے انٹرویو کی یو ایس بی عدالت کے سامنے پیش کر دی گئی۔ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ خاور مانیکا نے مانا کہ ان کا شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ ایک انٹرویو ہے، اگر عدالت ایک دفعہ سن لے۔

جج نے استفسار کیا کہ کیا ہو ایس بی فرانزک کے لیے آپ کی جانب سے کوئی درخواست دی گئی؟ سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ یکم فروری کو یہ کیس شروع ہو کر دو فروری کو ختم ہو جاتا ہے۔ جج افضل مجوکا نے سوال کیا کہ دو دن میں ختم ہوگیا؟

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 12، 12 اور 14، 14 گھنٹے روزانہ ہم اڈیالہ جیل کے سامنے عدالت کے سامنے کھڑے رہے، انہوں نے کہا بحث ابھی ہوگی کل میں نے فیصلہ سنانا ہے۔ خاور مانیکا نے مان لیا کہ ویڈیو میں ہوں اور یہ بھی مانا کہ اس نے کہا بشریٰ بی بی متقی پرہیزگار ہیں، جو الفاظ ویڈیو میں بشریٰ بی بی کے حوالے سے کہے گا ان کا بھی خاور مانیکا نے مانا، یہ سب کچھ ہونے کے بعد ہمیں فرانزک کرانے کی کیا ضرورت تھی؟ خاور مانیکا نے مانا کہ یہ کلپ اس زمانے کا ہے جب وہ میری بیوی تھیں، خاور مانیکا نے اپنے کلپ کے حوالے سے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔

نجی ٹی وی کے اینکر (شاہ زیب خانزادہ) کے ساتھ خاور مانیکا کا انٹرویو عدالت میں چلایا گیا۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ خاور مانیکا ویڈیو میں کہہ رہا بشریٰ بی بی میری سابقہ اہلیہ ہیں، خاور مانیکا بشریٰ بی بی کے سابقہ اہلیہ ہونے کا بھی کہہ رہا ہے وہ ایک متقی پرہیزگار خاتون ہیں، خاور مانیکا کا یہ کہنا کہ وہ سابقہ اہلیہ ہیں اس کا مطلب ہے وہ یکم جنوری 2018 کے بعد یہ بات کر رہے ہیں، خاور مانیکا اس کا مطلب ہے جھوٹا شخص ثابت ہے۔

خاور مانیکا کو جھوٹا کہنے پر وکیل زاہد آصف ایڈووکیٹ نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایسے الفاظ استعمال نا کریں پہلے بھی میرے کلائنٹ کے ساتھ ایک نا خوشگوار واقعہ ہو چکا ہے، آپ کوئی اور مناسب الفاظ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جہاں کہیں شک پیدا ہو جائے اس کا فائدہ ملزم کو جاتا ہے۔

مفتی سعید کا بیان بھی عدالت کے سامنے چلایا گیا۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مفتی سعید کا بیان بطور عالم دین نہیں بلکہ بطور گواہ آپ کے سامنے چلایا گیا، ‏جیل سے نکلنے کے بعد 25 نومبر 2023 کو بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی کے خلاف شکایت فائل کرتے ہیں، خاور مانیکا جب چلا مکمل کرکے واپس آئے تو انھیں یاد آیا کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوگئی، بطور گواہ میں مفتی سعید کا جھوٹ سامنے لا رہا ہوں۔

وکیل بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ جھوٹ کی جگہ کوئی شائستہ جملہ ہو تو تلاش کرتا ہوں، فارسی عربی سے تلاش کرتا ہوں جھوٹ کی جگہ کوئی شائستہ جملہ ہو، پہلے ایک کمپلینٹ محمد حنیف نے دائر کی پھر خاور مانیکا نے دائر کی، پہلے جو شکایت کنندہ تھا اس نے کمپلینٹ واپس لی، پھر دوسری کمپلینٹ میں بھی کردار وہی تھے جو پہلی کمپلینٹ میں تھے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت کے سامنے مفتی سعید نے جھوٹ بولا، مفتی سعید نے اپنے ویڈیو بیان کے حوالے سے کہا کہ میں نے کہا کہ میری بات ختم ہوگی، حالانکہ ویڈیو میں واضع نظر آرہا تھا کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ خاتون کے بیان پر انحصار ہو گا بات ختم ہوگی، عدالت کو یہی بتانا چاہ رہا تھا کہ مفتی سعید کے بیان پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔

وکیل خاور مانیکا نے کہا کہ اس گواہ کے بیان میں کچھ چیزیں مناسب نہیں ہیں، اگر یہ نا پڑھیں تو مناسب ہوگا، عورتیں بھی کمرہ عدالت میں بیٹھی ہوئیں ہیں۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عورتوں کا خیال آپ کو پہلے کرنا چاہیے تھا، یہ بیان پہلے بھی پڑھا گیا اب بھی میں پڑھوں گا، اصل میں بتانا چاہتا ہوں کمپلیننٹ کا کردار کیا ہے، عون چوہدری استحکام پارٹی میں گئے ٹکٹ کا ان کو دانا ڈالا گیا، پھر الیکشن ہوئے جیسے ہوئے وہ بھی زندگی بھر یاد رکھے جائیں گے۔

جج نے استفسار کیا کہ خاور مانیکا کے نوٹس میں یکم جنوری 2018 کا نکاح کب آیا ہے؟ وکیل زاہد آصف چوہدری نے کہا کہ فائل میرے پاس نہیں ہے پوچھ کر بتا دوں گا، جس پر جج افضل جوکا نے ہدایت کی کہ یہ آپ نے بتانا ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کوئی ثبوت نہیں کہ فراڈ نکاح کیا گیا۔

عدت کیس کی مزید سماعت 25 جون تک ملتوی کر دی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔