بھارت میں غیر ملکی صحافی بھی مودی سرکار کے نشانے پر

ویب ڈیسک  ہفتہ 22 جون 2024
حساس موضوعات  اور آزادی اظہار پر بات کرنے والے صحافیوں کو حکومتی سرزنش کا نشانہ بنایا جا رہا ہے

حساس موضوعات اور آزادی اظہار پر بات کرنے والے صحافیوں کو حکومتی سرزنش کا نشانہ بنایا جا رہا ہے

نئی دہلی: بھارت میں آزادی صحافت خطرے میں پڑگئی اور غیر ملکی صحافی بھی نشانے پر آگئے۔

مودی مخالف بھارتی صحافیوں کے بعد اب غیر ملکی صحافی بھی مودی سرکار کے نشانے پر آگئے۔ ورک پرمٹ میں توسیع نہ ملنے کا بہانہ بنا کر بھارت نے فرانسیسی صحافی سبسٹین فارس کو ملک سے نکل جانے پر مجبور کردیا۔

حساس موضوعات اور آزادی حق پر بات کرنے والے صحافیوں کو حکومتی سرزنش کا نشانہ بنایا جا رہا ہے. بھارتی میڈیا کے مطابق مودی سرکار غیرملکی صحافیوں پر دباؤ ڈالنے کیلئے ہر ناجائز حربہ استعمال کر رہی ہے۔

فرانسیسی صحافی نے کہا کہ؛ ” بھارت میں 13 سال گزارنے کے بعد جا رہا ہوں کیونکہ بھارت نے مجھے ورک پرمٹ دینے سے انکار کر دیا ” مارچ میں بتایا گیا کہ مجھے بھارت میں صحافتی ذمہ داریاں ادا کرنے کی مزید اجازت نہیں دی جائے گی ، صحافت پر لگنے والی اس پابندی سے مجھے بہت بڑا جھٹکا لگا ہے۔

صحافی سبسٹین فارس نے بتایا کہ؛ “بھارت کے عام انتخابات کی کوریج کرنے سے بھی مجھے روکا گیا ” بار ہا پوچھے جانے پر بھی ورک پرمٹ جاری نہ کرنے کی وجہ نہیں بتائی گئی ، معاوضہ دیے بغیر ہی مجھے اور میرے خاندان کو بھارت سے نکال دیا گیا۔

پہلے ہی بھارت عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں 180 ممالک کے نمبر سے گر کر 159 ویں نمبر پر آ چکا ہے۔ بھارت میں آزادی صحافت خطروں اور حملوں کی زد میں ہے جس پر عالمی میڈیا مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔