عزم استحکام: پاکستان کا افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے خلاف نیا سفارتی منصوبہ

کامران یوسف  اتوار 23 جون 2024
نئے فوجی آپریشن کے اندرونی سیکیورٹی اور بیرونی خطرات کا تدارک پر مشتمل دو پہلو ہیں—فوٹو/فائل: رائٹرز

نئے فوجی آپریشن کے اندرونی سیکیورٹی اور بیرونی خطرات کا تدارک پر مشتمل دو پہلو ہیں—فوٹو/فائل: رائٹرز

 اسلام آباد: پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے نئے فوجی آپریشن کی منظوری دیتے ہوئے افغانستان کی عبوری طالبان حکومت پر وہاں موجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی کے لیے دباؤ بڑھانے کی غرض سے نئی ٹھوس سفارتی کوششیں شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ دہشت گردوں کے خلاف اس نئے فوجی آپریشن  کے دو پہلو ہیں، پہلا نمبر اندرونی سیکیورٹی کی صورت حال جبکہ دوسرا پہلو بیرونی خطرات کا تدارک کرنا جو افغانستان سے ہے۔

نئے آپریشن کے تحت خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی ہوگی جو انسداد دہشت گردی مہم کا حصہ ہے اور نئی سفارتی کوشش شروع کی جائے گی تاکہ ہمسایہ ممالک سے درپیش خطرات کو ختم کیا جائے۔

خیال رہے کہ ہفتے کو نیشنل ایکشن پلان کی مرکزی ایپکس کمیٹی نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے نئی عسکری مہم ‘عزم استحکام’ شروع کرنے کی منظوری دی تھی۔

افغانستان میں اگست 2021 میں طالبان کی حکومت کے بعد پاکستان پر کئی دہشت گردی کے حملے ہوئے ہیں، جس پر اسلام آباد کی جانب سے احتجاج بھی کیا جاتا رہا ہے۔

رواں برس کے ابتدائی 5 برسوں میں دہشت گردی کے واقعات میں 83 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے حکام کو دہشت گرد گروپس کے خلاف نیا آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔

ذرائع نے بتایا کہ نئے منصوبے کے مطابق پاکستان ایک مرتبہ پھر افغان حکومت سے رابطہ کرے گا اور انہیں دہشت گرد عناصر کے خاتمے کے لیے کیا گیا اپنا وعدہ پورا کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کیخلاف عزم استحکام آپریشن کی منظوری

مزید کہا گیا کہ پاکستان اس حوالے سے چین کی مدد بھی لے گا کہ وہ افغان طالبان کو کالعدم ٹی ٹی پی سے متعلق اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے کے لیے قائل کرے۔

چین کے طالبان کے ساتھ تعلقات بظاہر پاکستان کے مقابلے میں بہتر ہیں اور ان کے طالبان کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں تاہم حکومت میں آنے کے بعد طالبان اور پاکستان کے درمیان تعلقات خراب سے خراب تر ہوگئے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کی سیکیورٹی پر چین کے اسٹیکس ہیں جبکہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات سے ان کی سرمایہ کاری سست ہوچکی ہے۔

چین کے ایک اہم وزیر نے حال ہی میں دورہ پاکستان کے موقع پر چینی باشندوں پر ہونے والے حملوں سے خبردار کیا تھا کہ اس سے چینی سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہو رہا ہے۔

چینی وزیر نے مستقبل میں سرمایہ کاری کو پاکستان میں سیکیورٹی کی بہتری اور سازگار کاروباری ماحول سے جوڑ دیا تھا۔

ایک روز بعد ہی ملک کی سول اور عسکری قیادت نے دہشت گرد گروپس کے خلاف فوجی آپریشن کی منظوری دے دی تھی۔

چین کے سیکیورٹی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات بنیادی وجہ تھے جس سے پاکستان انسداد دہشت گردی مہم شروع کرنے پر مجبور ہوا۔

پاکستان کا ماننا ہے کہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی اصل وجہ سرحد پار موجود کالعدم ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں سے جڑی ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی آپریشن کی حمایت نہیں کرسکتے، عسکری قیادت پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے، پی ٹی آئی

دوسری جانب پاکستان نے جمعے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بیان میں کہا تھا کہ افغانستان کے اندر اور افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کا خاتمہ عالمی برادری، افغانستان کے پڑوسیوں اور خود افغانستان کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کے مطابق افغانستان کی عبوری حکومت نے داعش کا خاتمہ کر رہی ہے لیکن القاعدہ، ٹی ٹی پی، ای ٹی آئی ایم اور آئی ایم یو سمیت دیگر دہشت گرد گروپس بدستور افغانستان میں متحرک ہیں۔

پاکستان نے افغان عبوری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی متعد قراردادوں پر عمل کرتے ہوئے ان دہشت گرد گروپس کے خلاف مؤثر اور پائیدار کارروائی کریں۔

افغانستان پر ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران منیر اکرم نے افغانستان میں دہشت گرد گروپس کو حاصل آزادی کی وجہ سے درپیش خطرات سے آگاہ کیا، انہوں نے زور دیا کہ سرمایہ کاری، سماجی اور معاشی ترقی اور انفرااسٹرکچر کے منصوبوں جیسے اہداف کی تکمیل اس وقت تک نہیں کی جاسکتی جب تک یہ گروپس افغانستان کے اندر اور وہاں سے باہر آزادی کے ساتھ سرگرم رہتے ہیں۔

منیراکرم نے ٹی ٹی پی کو پاکستان کے لیے براہ راست اور سنگین خطرے سے تعبیر کیا تھا اور ٹی ٹی پی کی دہشت گردی کی کارروائیوں کی تفصیلات بھی شامل کردی تھیں جس کے نتیجے میں ہزاروں شہریوں اور فوجی اہلکاروں کی شہادتیں ہوئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی مخصوص ہتھیاروں تک رسائی کی وجہ سے اپنے حملوں میں شدت لاتی ہے، پاکستان کی جانب سے افغان عبوری حکومت سے ٹی ٹی پی کے خلاف اقدامات، سرحد پار حملے روکنے، دہشت گردوں کو غیرمسلح کرنے اور دہشت گردوں کو ہمارے حوالے کرنے کے مسلسل مطالبے کے باوجود اب تک کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرحد کے قریب ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں اور حالیہ سرحد پار دہشت گردی کے حملوں سے داسو ہائیڈروپاور پروجیکٹ پر کام کرنے والے چینی انجینئرز سمیت متعدد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پاکستانی سفیر نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ افغانستان کی عبوری حکومت کو ٹی ٹی پی اور ان کے سہولت کاروں سے تعلق کی سنگینی سے آگاہ کرے اور پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشت گردی روکنے، ٹی ٹی پی کو غیرمسلح کرنے اور ٹی ٹی پی کی قیادت کو گرفتار کرکے پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے اندر صورت حال معمول پر لانے کے لیے افغان عبوری حکومت کی مدد کے حوالے سے پاکستان بدستور تعاون جاری رکھے گا، دوحہ میں رواں ماہ کے آخر میں ہونے والی کانفرنس میں طالبان کی شرکت کا فیصلہ افغانستان سے جڑے تمام بنیادی مسائل پر تعمیری مذاکرات کا ایک اہم موقع فراہم کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی آج بھی فوج کیخلاف دہشت گردوں کے ساتھ کھڑی ہے، وزیر دفاع

پاکستانی سفیر نے عالمی برادری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے معاشی حالات معمول پر لانے کے لیے واضح اہداف کی ضرورت ہے اور اس موقع پر انہوں نے اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان کی جانب سے نمایاں کیے گئے مسائل کے حل پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری دو کروڑ 30 لاکھ افغان شہریوں کی مدد اور انسانی بنیاد پر ہنگامی ضروریات پوری کرے، بدقسمتی سے افغانستان میں انسانی بنیاد پر درکار ضروریات کے لیے 3.06 ارب ڈالر کے ہدف کے مقابلے میں صرف 16.2 فیصد موصول ہوگئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اہم ضروریات پوری کرنے کے لیے تمام ممکنہ ذرائع سے مکمل فنڈنگ کی ضرورت ہے۔

منیر اکرم نے کہا کہ افغان معیشت کی بحالی اور پائیدار ترقی کے لیے دیگر راستے نکالنا بہت ضروری ہے، افغان بینکنگ نظام کی بحالی، تجارتی سرگرمیاں اور نجی سرمایہ کاری کی بحالی بھی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے منجمد اثاثوں کا اجرا اور اس کی افغان سینٹرل بینک میں منتقلی بہت اہم ہے، منظم انفرااسٹرکچر اور خطے میں رابطے کاری کے منصوبے شروع کیے جائیں اور افغانستان کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات میں توسیع کے لیے پاکستان کے عزائم کا بھی اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغان عبوری حکومت نے اقتصادی تعلقات کے فروغ کے لیے تجارت اور ٹرانزٹ مسائل پر مارچ میں 9 نکاتی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

اپنے اختتامی کلمات میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ تاریخی، مذہبی، زبان اور ثقافتی گہرے تعلقات ہیں، افغانستان میں امن، استحکام اور ترقی پاکستان کے لیے قومی ضرورت ہے۔

منیر اکرم کا کہنا تھا کہ ہم ہر سطح پر دو طرفہ، علاقائی، بین الاقوامی اور اقوام متحدہ کے ساتھ ان تمام مقاصد کے حصول کے لیے کام جاری رکھیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔