بجٹ معاشی پھندا ہے، رہی سہی انڈسٹری بھی بند ہو جائے گی، پختونخوا کے تاجر پھٹ پڑے

ویب ڈیسک  پير 24 جون 2024
(فوٹو: فائل)

(فوٹو: فائل)

 پشاور: پختونخوا میں تاجر تنظیموں اور نمائندوں نے وفاقی بجٹ اور ٹیکسز کی بھرمار کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ عوام کے لیے معاشی پھندا ہے، اس سے رہی سہی انڈسٹری بھی بند ہو جائے گی۔

سرحد بزنس الائنس کے رہنما، سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر اور بزنس کمیونٹی وفاقی حکومت کے پیش کردہ بجٹ اور اس میں تجویز کیے گئے ٹیکسز کی بھرمار کے خلاف پھٹ پڑے۔ سرحد بزنس الائنس اور صوبے کی بزنس کمیونٹی نے پشاور پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی بجٹ اور نئے ٹیکسز ، پاکستان کو صومالیہ و افریقا جیسا قحط زدہ ملک بنانے کی سازش ہے۔

تاجر نمائندوں نے کہا کہ ہر ایک سیکٹر میں مزید نئے ٹیکسز کی بھرمار، عوام کے لیے معاشی پھندا تیار کیا گیا ہے۔ ملک کے صنعتکار اپنا کاروبار بیرون ملک منتقل کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں اور بہت سے جا بھی چکے ہیں۔ صنعتوں پر، دکانداروں پر، عوام پر، بجلی کے گھریلو صارفین سمیت سب پر ٹیکس لگائے جارہے ہیں، قوم کا بچنا اب مشکل نظر آرہا ہے۔ تاجر دوست اسکیم دراصل تاجر دشمن اسکیم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے روزمرہ کی اشیا سمیت ادویات پر بھی ٹیکس کی بارش کر دی ہے، اس بارش سے ہر کوئی سیلاب میں بہے گا۔ پاکستان میں ہر چیز پر اتنے ٹیکس لگا دیے گئے ہیں کہ اب گھر بنانا تو کجا، گھر خریدنا بھی بس ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ اگر وفاقی حکومت نے ٹیکسز پالیسیز پر نظر ثانی نہ کی اور ریلیف کا اعلان نہ کیا تو حالات بد سے بدتر ہو جائیں گے۔

سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر فواد اسحاق نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی بجٹ دراصل آئی ایم ایف کا بنایا ہوا ، جس پر تاجر برادری کو شدید تحفظات ہیں۔

بجٹ اس شکل میں پاس ہوا تو رہی سہی انڈسٹری بھی بند ہو جائے گی۔ تاجر دوست اسکیم نہیں تاجر دشمن اسکیم ہے۔ ہم نے تاجر دوست اسکیم ماننے کے لیے جو شرائط رکھی تھیں، حکومت اس پر عمل کے لیے تیار ہی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر مزید ٹیکس لگایا گیا ہے۔ تاجروں پر اس قسم کے ٹیکس پوری دنیا میں نہیں ہیں۔ ٹیکس جمع کرنے میں تاخیر پر جرمانے ڈبل کردیے گئے ہیں۔

تاجر رہنما شوکت علی خان نے کہا کہ ہم ٹیکس دینا چاہتے ہیں، مگر رشوت نہیں۔ ٹیکس سب لوگ دیتے ہیں، ٹیکس برطانیہ والے مانگ رہے ہیں اور سہولیات صومالیہ والے۔ خیبر پختونخوا میں ہر تیسرے تاجر کو بھتے کے لیے فون آتے ہیں۔ طور خم کے راستے اسمگلنگ میں تمام ادارے ملوث ہیں۔ ایک دروازہ بتا دیں، نیشنل بینک یا اسٹیٹ بنک، جہاں تاجر ٹیکس جمع کریں گے۔

دوسری جانب تاجر رہنما سینیٹر الیاس بلور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایکسپورٹ پر 2 فیصد ٹیکس لگانے کا مطلب حکومت ایکسپورٹ نہیں کرنا چاہتی۔ آئی پی پیز سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں، سمجھ میں نہیں آرہا کہ آئی پی پیز سے کس کو فائدہ ہے۔ حیثیت سے زیادہ چارج کریں گے، تو لوگ بجلی چوری ہی کریں گے۔ گھریلو صارفین پر فکس ٹیکس لگانا سمجھ سے بالاتر ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔