تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کو جلسے کی اجازت نہ دینے پر توہینِ عدالت کی درخواست

ویب ڈیسک  ہفتہ 6 جولائی 2024
عدالت کارکنوں کو ہراساں کرنے سے روکنے کے احکامات جاری کرے، درخواست میں مؤقف (فوٹو : فائل)

عدالت کارکنوں کو ہراساں کرنے سے روکنے کے احکامات جاری کرے، درخواست میں مؤقف (فوٹو : فائل)

 اسلام آباد: تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کو جلسہ کی اجازت نہ دینے پر توہین عدالت کی درخواست دائر کردی گئی۔

حکومت کے خلاف اپوزیشن الائنس تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے کوآرڈینیٹر نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا ۔ عدالت میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈی سی اسلام آباد نے 4 جولائی کو عدالت کو بتایا کہ این او سی جاری کردیا گیا ہے، جس کے بعد عامر مغل سرکاری حکام کو جلسہ گاہ کے دورے پر لے جانے کے لیے ڈی سی آفس گئے، جہاں سے عامر مغل کو پولیس نے گرفتار کرلیا ۔

یہ خبر بھی پڑھیں: تحریک انصاف کا آج اسلام آباد میں ہر صورت جلسہ کرنے کا فیصلہ

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلام آباد پولیس کے ٹویٹ سے معلوم ہوا کہ جلسہ کا این او سی منسوخ کردیا گیا ہے۔ بعدازاں ڈی سی اسلام آباد نے کل این او سی منسوخ کرنے کا لیٹر بھیج دیا ۔ عدالتی حکم کے باوجود ترنول جلسے کا این او سی معطل کرنا توہینِ عدالت ہے۔ عدالت این او سی منسوخ کرنے والوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد: سیکیورٹی خدشات کے باعث تحریک انصاف کے جلسے کی اجازت منسوخ

تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کو جلسے کی اجازت نہ دینے پر دائر درخواست میں چیف کمشنر ، ڈی سی ، آئی جی، ایس ایچ او تھانہ ترنول اور دیگر فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ جلسہ کرنے کی اجازت دینے کے احکامات جاری کیے جائیں۔ فریقین کو عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرنے کا حکم دیا جائے اور پی ٹی آئی کارکنوں کو ہراساں کرنے سے روکنے کے احکامات بھی جاری کیے جائیں۔

دریں اثنا بیرسٹر گوہر سمیت پی ٹی آئی قیادت بھی اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچی، جہاں جلسے کا اجازت نامہ منسوخ کرنے کی درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کردی گئی۔ اس موقع پر عمر ایوب، عمیر نیازی، شہریار آفریدی، ارکان قومی اسمبلی ثنا اللہ مستی خیل، شاہد خٹک اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں: کارِ سرکار میں مداخلت؛ پی ٹی آئی رہنما عامر مغل کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم

دوسری جانب آئی جی اسلام آباد پولیس سید علی ناصر رضوی کی زیرصدارت علی الصبح اعلی سطح کا اجلاس ہوا، جس میں تمام ڈی آئی جیز، ایس ایس پیز، اے آئی جیز، ایس پیز نے شرکت کی۔ اجلاس میں شہر میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال اور دیگر اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔

آئی جی اسلام آباد کا اس موقع پر کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت میں قیام امن اسلام آباد پولیس کی ذمے داری ہے۔ پولیس شہر کے امن اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو ہرصورت یقینی بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانسٹیبل سے آئی جی تک ہم سب ایک ٹیم ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔