سیر و سیاحت، خوشگوار زندگی میں بہترین اضافہ

صدام ساگر  اتوار 7 جولائی 2024

سیاحت نہ صرف سیر و تفریح اور صحت افزائی کے لیے مفید ہے بلکہ سیاحت سے مقامی آبادی اور اس ملک کی اقتصادیات کو تقویت ملتی ہے، لوگوں کو کام کے مواقعے فراہم ہوتے ہیں۔ سیاحت سے مختلف ثقافتوں اور خطے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کوایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے اور مختلف اچھی چیزیں ایک معاشرے میں دوسرے میں رائج ہو جاتی ہیں۔ سیاحت کی مختلف اقسام ہیں جیسے قدرتی نظاروں کو دیکھنے والی سیاحت، مذہبی سیاحت جس میں لوگ مذہبی جگہوں کو دیکھنے جاتے ہیں، تاریخی سیاحت جس میں لوگ آثارِ قدیمہ وغیرہ دیکھتے ہیں۔

سیر و سیاحت سے آپ کا دل صحت مند رہتا ہے، یہ مشغلہ آپ کو دوبارہ جوان بنا دیتا ہے، یہ آپ کے ذہن کو تیز بناتا ہے، یہ آپ کی تخلیقی صلاحیتوں کو بہتر بناتا ہے، یہ آپ کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے، یہ آپ کو ذاتی فروغ کے مواقعے فراہم کر سکتا ہے، اچھی صحت کے لیے سفر معاون ہے۔ اسی طرح سیر و سیاحت کے ساتھ ساتھ ورزش بھی بہت ضروری ہے، جو آپ کی جِلد کو صحت مند بنانے، وزن میں نمایاں کمی، دائمی بیماروں سے بچاؤ، یاد داشت اور دماغی صحت میں بہتری، توانائی میں اضافہ اور نیند میں بہتری کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’سال میں ایک بار سیاحت کے لیے نکلنا دل و دماغ پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔‘‘ اسی لیے بہت سے تعلیمی ادارے اپنے طلبہ کو سیر و سیاحت کے لیے دور دراز مقامات پر لے جاتے ہیں، جہاں نئی جگہ کی سیر، اس کو دیکھنا اور وہاں جانے سے قبل خوش اور پرجوش ہونا، یہ سب طلبا کی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ایسے ہی ایک آشفتہ چنگیزی کا ایک خوبصورت خیال یاد آ رہا ہے کہ۔

کس کی تلاش میں ہمیں کس کے اثر میں ہیں

جب سے چلے ہیں گھر سے مسلسل سفر میں ہیں

میری طرح کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ ’’ کچھ نہیں کرسکتے تو باہر نکلو، دنیا کو دیکھو، اس سے دیکھو،کائنات کی بناوٹ پر غورکرو، سیر و سیاحت کے لیے گاڑی نہ ہو تو پیدل نکل پڑو۔‘‘ کتنی ہی ایسی مثالیں موجود ہیں کہ کسی نے ہزار میل کا سفر اکیلے طے کر لیا، کسی نے دنیا کا گرم ترین صحرا پیدل ہی عبور کر لیا، کوئی ہمالیہ کی چوٹی سر کر بیٹھا، سیاحت نہ ہوتی تو انسان کبھی نہ جان پاتا کہ کاغان میں جھیل سیف الملوک اپنے روح پرور مناظر صدیوں سے بکھیر رہی ہے، اگر سیاحت نہ ہوتی توکوئی نہیں جان پاتا کہ سطح سمندر سے آٹھ ہزار میٹرزکی بلندی پر ہمالیہ، ہندوکش، کے ٹو اور راکا پوشی کے پہاڑ صدیوں سے برف کی لپیٹ میں چاندی کی چادر اوڑھے ہوئے ہیں اور صرف پاکستان ہی نہیں دنیا بھر کے دیگر ممالک کی ایسی بہت سے مثالیں مجروح سلطان پوری کے اس شعر کے مصداق پتہ چلتی ہیں۔

میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اورکارواں بنتا گیا

اگر انسان کی زندگی میں سیر و سیاحت نہ ہوتی تو شاید زمین پر انسان تو ہوتے مگرکوئی بھی کسی تک رسائی حاصل نہ کر پاتا۔ آج انسان جو اتنا علم رکھتا ہے ساری دنیا کے چپے چپے کی معلومات اس میں سیاحت کا بڑا ہاتھ ہے اور جو علم کے حصول کے لیے سیر و سیاحت کرتے ہیں وہ واقعی مسائل کی بہت سی چوٹیاں سر کر لیتے ہیں۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ سفرکے دوران بہت سی ایسی اجنبی جگہ پر انسان پہنچ جاتا ہے جہاں خاص طور پر ثقافت اور روایات سے بالکل انسان آشنا نہیں ہوتا، تو یہ سیاحت آپ کے اندر مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرے گی اور آپ مختلف مسائل اور مشکل حالات کا منطقی حل نکالنے کے قابل ہوں گے۔ بہت سے لوگ اجنبی راستوں، اجنبی منزلوں کی وجہ سے چپ چاپ اپنا راستہ الگ کر لیتے ہیں۔ بقول اختر شمار کے اس شعر کی طرح۔

ابھی سفر میں کوئی موڑ ہی نہیں آیا

نکل گیا ہے یہ چپ چاپ داستان سے کون

سیر و سیاحت کے دوران نت نئے لوگوں سے ملنا، ان کی کہانیاں سننا، ان کے رہن سہن کا مشاہدہ کرنا اور ان کے تجربات سے فائدہ اُٹھانے سے آپ کی ذہنی استعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ دنیا سمجھنے کا موقع ملتا ہے، اگر آپ ان کی لینگویج سمجھ نہیں پائے، لیکن باڈی لینگویج سمجھ میں آتی ہے۔ اپنے کلچر اور دوسرے ممالک کے کلچرکی آگاہی کے لیے نت نئے مقامات کے سفر پر نکلنے سے نئے لوگوں سے ملاقاتیں، ان کے رسم و رواج سے آگاہی اور مزے مزے کے کھانے اور موسموں کے بدلتے نظارے آپ کی زندگی کو خوبصورت بنا دیتے ہیں۔ ایسے میں جب ہم سفر سے لوٹتے ہیں تو ہمارے پاس بہت سارا مواد، تصویریں اور سلیفیز ہوں گی جو ہم دوستوں اور عزیز و اقارب کو شیئر کرتے ہیں تاکہ ہماری طرح دوسرے لوگوں میں بھی خوشگوار تبدیلی آ سکے۔

سیر و سیاحت کے دوران بہت سے ایسے مناظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جنہیں انسان پہلی ہی نظر میں دیکھ کر خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ زندگی میں پہلی بار جب میں اپنی فیملی کے ہمراہ گوجرانوالہ سے شہرِ لاہور میں واقع شاہی قلعے کے تاریخی مناظر دیکھنے کوگیا تو اچانک سے خوف زدہ ہوگیا۔ اتنی پرانی اور تاریخی عمارت کو دیکھ کر اس سوچ میں پڑگیا کہ کیا وہ زمانہ ہوگا جب یہ درودیوار روشنیوں اور شہنائیوں سے جگمگاتے ہونگے۔ اس کی موجودہ حالت کو دیکھ کر بھی اشک بار اور افسردہ دل کے ساتھ وہاں سے واپس لوٹ آیا اور کبھی دوسری بار واپس نہیں گیا۔ اسی طرح اپنے بڑے بھائی خواجہ آفتاب عالم کے ہمراہ گوجرانوالہ کے کئی تاریخی مقامات کی سیر و سیاحت کا موقع میسر آیا اس دوران بہت سی تاریخی عمارتوں کوکھنڈر ہوتے ہُوا دیکھا، ان میں تمام تر تاریخی عمارتیں سکھوں کی بنائی ہوئی ہیں جو ہر سال وساکھی کے مہینے میں ان مقامات کا رُخ کرتے ہیں۔ ان کھنڈر ہوتی عمارتوں اور یہاں اکثر سناٹا دیکھ کر جاوید اختر کا یہ شعر شدت سے یاد آیا کہ:

ڈر ہم کو بھی لگتا ہے رستے کے سناٹے سے

لیکن ایک سفر پر اے دل اب جانا تو ہوگا

بس اس شعر کی مانند ہم نے اپنا سفر جاری رکھا گوجرانوالہ سے کبھی لاہور،کبھی سیالکوٹ توکبھی اسلام آباد اس کے علاوہ کبھی کام سے اتنی فراغت نہیں ملی کہ سیر و سیاحت کے لیے جایا جائیں۔ زندگی اس قدر مصروف ہو کر رہ گئی ہے کہ راستوں میں فاصلے زیادہ اور منزلیں دور لگنے لگ گئی ہیں۔

ہر شہر ہر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ایسے شہر موجود ہیں، جہاں تاریخی مقامات سیر و تفریح کے لیے موضوع سمجھتے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں بہت سے قلمکاروں کے سفر نامے کتابی صورت میں پڑھنے کو ملتے ہیں جن سے ہمیں دیگر ممالک کی سیر و سیاحت کے حوالے سے جاننے کا موقع میسر ہوتا ہے۔ احمد فراز کے اس شعر کے سوا اورکیا کہا جائے۔

کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل

کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔