یہ کہاں کی حب الوطنی ہے ؟

شبیر احمد ارمان  اتوار 7 جولائی 2024
shabbirarman@yahoo.com

[email protected]

یہ آج کی بات نہیں مدتوں سے پاکستان دشمنوں کے نرغے میں چلا آرہا ہے مشرقی پاکستان کا دولخت ہونا بھی دشمنوں کا مشترکہ کامیاب کوشش قرار پایا ہے، اس پر انہوں نے بس نہیں کیا ہے، ہر دور میں دشمن کسی نہ کسی بہانے اور آڑ میں پاکستان کی سالمیت سے کھیلتے رہے ہیں۔ بدقسمتی یہ رہی ہے کہ ہمارے اپنے دشمن کے سہولت کار بنتے رہے ہیں ۔ دور جانے کی بات چھوڑیں تو ابھی کی بات یہ ہے کہ امریکا کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کا کیا حق پہنچتا ہے؟ جبکہ پاکستان ایک آزاد، خودمختار اور ذمہ دار ملک ہے۔ گزشتہ دنوں امریکی کانگریس نے پاکستان کے 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں مداخلت اور بے ضابطگیوں کی شکایتوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کرلی تھی۔

قرارداد کے حق میں 368 ووٹ پڑے جب کہ مخالفت میں صرف 7 ارکان نے ووٹ دیا۔ قرارداد میں پاکستان کے جمہوری عمل میں لوگوں کی بلا خوف شرکت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کے دوران امیدواروں اور ووٹرز کو ہراساں کرنے، دھمکیاں دینے، تشدد، من مانی حراست، انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن تک رسائی پر پابندی اور سیاسی حقوق کی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہیں۔ قرارداد میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ پاکستان جمہوری اور انتخابی اداروں، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھے اور وہ پاکستانی عوام کی آزادی صحافت، آزادیِ اجتماع اور تقریر کی بنیادی ضمانتوں کا احترام کرے۔ خیال رہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کی یہ ایک نان بائنڈنگ قرارداد ہے جس پر عمل کرنا حکومت کے لیے ضروری نہیں ہوتا۔

جس کے جواب میں حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی شائستہ پرویز ملک نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں قرارداد پیش کی جس کو اکثریت کی بنیاد پر منظور کر لیا گیا جبکہ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے احتجاج اور شور شرابا کیا گیا اور نعرے بازی کی گئی۔ شائستہ پرویز ملک نے قرارداد کا متن پڑھتے ہوئے کہا کہ امریکی ایوان نمائندگان میں 25 جون 2024 کو ’’ پاکستان میں جمہوریت کی حمایت کا اظہار‘‘ کے عنوان سے منظورکی گئی قرارداد کا ایوان نوٹس لے رہا ہے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان 1973 کے آئین کی روح کے مطابق جمہوریت کے عالمی اصولوں اور اس میں درج بنیادی انسانی حقوق کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ ہمارے عوام کی امنگوں اور ہمارے بانیان کے وژن کے مطابق مذکورہ بالا اصولوں کی حفاظت اور ان کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کا اعادہ کرتے ہیں، ایک مضبوط اور مستحکم جمہوری معاشرے کی تعمیر کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد واضح طور پر پاکستان کے سیاسی اور انتخابی عمل کے نامکمل اور غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔

یہ بات بھی افسوس ناک ہے کہ یہ قرارداد 8 فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات میں لاکھوں پاکستانیوں کے حق رائے دہی کے آزادانہ استعمال کو تسلیم نہیں کرتی۔ ایک آزاد اور خودمختار ملک کی حیثیت سے پاکستان اپنے اندرونی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت قبول نہیں کرے گا اور مذکورہ امریکی قرارداد ایسا کرنے کی کوشش ہے۔

یہ ایوان امریکا کے ساتھ مضبوط، باہمی احترام اور تعاون پر مبنی برابری کی بنیاد پر دوطرفہ تعلقات کے عزم کا اعادہ کرتا ہے اور اس امید کا اظہارکرتا ہے کہ مستقبل میں امریکی کانگریس ہمارے عوام اور دونوں ممالک کے باہمی فائدے کے لیے تعاون کے راستوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے پاک، امریکا دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے میں مزید تعمیری کردار ادا کرے گا۔ ہمارے ملک کے اندرونی معاملات میں اس طرح کی مداخلت نامناسب ہے، یہ کسی صورت عالمی طاقتوں کو زیب نہیں دیتا کہ کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرے۔ امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد کے خلاف قومی اسمبلی میں قرارداد حکومتی اتحادی جماعتوں کی جانب سے پیش کی گئی اور قرارداد پر شگفتہ جمانی، ڈاکٹر مہیش ملانی، منزہ حسن، نزہت صادق، شائستہ پرویز ملک اور شذرہ منصب نے دستخط کیے جبکہ سنی اتحاد کونسل ( پی ٹی آئی ) کے ارکان نے قرارداد پیش کیے جانے کے دوران شدید احتجاج کیا اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑکر پھینک دیں، اپوزیشن ارکان نے ایوان میں سائفر، سائفر کے نعرے لگائے۔

اپوزیشن کی جانب سے شور شرابے پر شائستہ پرویز ملک نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’ جس طرح ساری دنیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے ہمیں اس کی مذمت کرنی چاہیے۔ ہمیں شرم آتی ہے کہ اس وقت پاکستان کی خود مختاری پر حملہ ہورہا ہے اور یہ لوگ اس حملے کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں، مجھے افسوس ہے کہ آج ہمارے ملک کے اندرونی معاملات پر بیرونی طاقتیں مداخلت کر رہی ہیں، ہمیں ان طاقتوں کی روک تھام کرنی ہوگی۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ہم سب کو ان اقدامات کی مذمت کرنی چاہیے، لیکن یہ لوگ اندرونی مداخلت پر ان کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ ملک کی خودمختاری کا سوال ہے۔

جوکوئی بھی ہو جو ملک کی سلامتی اور اس کے مفادات کے خلاف بات کرے یا اقدام کرے یا اس کی حوصلہ افزائی کرے اسے اپنے آپ کو پاکستانی کہلانے کا حق نہیں، یہ ہمارا ملک ہے اور ہمارے ملک میں دشمن اور اس کے سہولت کار مداخلت چھوڑ دیں، محب الوطن پاکستانیوں میں امریکی قرارداد پر شدید غصہ پایا جاتا ہے ایسے میں قومی اسمبلی میں موجود سنی اتحاد کونسل ( پی ٹی آئی) کے ارکان پاکستان کی اس مذمتی قرارداد کو پھاڑ کر ہوا میں اچھال دیتے ہیں یہ کہاں کی حب الوطنی ہے ؟ ان لوگوں کا رویہ دیکھ کر قوم کا سر شرم سے جھک گیا ہے، پاکستانی قوم امریکا کو خبردارکر رہی ہے کہ ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت چھوڑ دیں، یہ ہمارا ملک ہے۔ کسی کی جاگیر نہیں ہے اور نہ ہی پاکستانی قوم کسی کی غلام ہے اور جو غلام ہیں وہ ان کے سہولت کار تو ہوسکتے ہیں لیکن پاکستانی نہیں۔

امریکا نے پوری دنیا میں دہشت گردی مچائی ہوئی ہے پاکستانی قوم امریکا کو پاکستان میں دہشت گردی نہیں کرنے دیں گے اور ایسے لوگوں کو ڈوب مرنا چاہیے جو ان کے کندھوں پر چڑھ کر آتے ہیں۔ پی ٹی آ ئی والے کل تو کہہ رہے تھے کہ ہمارا امریکا سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور آج امریکا کے حق میں کتابیں پھاڑ رہے ہیں، ان کو شرم آنی چاہیے۔ خیال رہے کہ پی ٹی آئی نے امریکا میں فرم ہائر کی ہوئی ہے جہاں پاکستان مخالف کام ہو رہا ہے، جب تک ایک بھی محب وطن پاکستانی زندہ ہے، پاکستان کی سالمیت اور آزادی پر آنچ نہیں آنے دیں گے اور نہ ہی پاکستان کے اندرونی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت قبول کریں گے ۔

پی ٹی آئی والے تو اپنی مخالفین جماعتوں کو کہتی نہیں تھکتی تھی کہ یہ امپورٹڈ حکومت ہے اور عوام کو کہتی رہی ہے کہ کیا ہم کوئی غلام ہیں؟ اب یہ بتائیں کہ پی ٹی آئی نے امریکا میں اپنی لابنگ فرمز ہائر کی ہے کہ نہیں ؟ اور اس کے ساتھ مل کر وہاں پر اس امریکی قرارداد کو منظور کرانے میں کوئی کسر چھوڑی بھی ہے کہ نہیں؟

پی ٹی آئی والے بتائیں قوم کو کہ انہوں نے قومی اسمبلی میں کشمیری ، فلسطینی اور پاکستانی خود مختاری کے حوالے سے پیش کی گئی قرارداد کی شدید مخالفت کیوں کی؟ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم اور فلسطین میں اسرائیل کی بربریت پر پی ٹی آئی کیوں خاموش ہے؟ اور نہ ہی امریکا اس پر بات کرتا ہے ، امریکا انسانی حقوق کا چمپیئن نہیں ہے، ایک خونخوار ملک ہے ، سچ تو یہ ہے کہ آہستہ آہستہ کرکے بلی تھیلی سے باہر آتی دکھائی دے رہی ہے، پاکستان کے بیرونی و اندرونی دشمن ایک ایک کرکے صاف دکھائی دینے لگے ہیں ۔ نام نہاد سیاست کی آڑ میں پاکستان کی جڑیں کاٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ محب وطن پاکستانی سب کچھ دیکھ رہے ہیں، سمجھ رہے ہیں کہ دشمن کیا چال چل رہا ہے ؟ لیکن ہمیشہ کی طرح قومی یکجہتی کی طاقت سے ناکام ہونگے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔