پرنس ہیری سے اختلافات، میگھن مارکل خود کو قید تصور کرتی ہیں، برطانوی مصنف

ویب ڈیسک  اتوار 7 جولائی 2024
ماہر شاہی امور کے مطابق میگھن مارکل زیادہ دباؤ میں ہیں—فوٹو: این ڈی ٹی وی

ماہر شاہی امور کے مطابق میگھن مارکل زیادہ دباؤ میں ہیں—فوٹو: این ڈی ٹی وی

 نیویارک: برطانوی شاہی امور کے ماہر اور مصنف ٹوم کوئن نے دعویٰ کیا ہے کہ پرنس ہیری اور میگھن مارکل کے درمیان سب کچھ ٹھیک نہیں دونوں کے درمیان دراڑ وسیع ہوگئی ہے اور میگھن خود کو قید تصور کرتی ہیں۔

امریکی ویب سائٹ دی مرر یوایس کی رپورٹ کے مطابق ٹوم کوئن نے بتایا کہ ہیری اور میگھن مارکل کو اس وقت مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ انہیں چند دھچکے لگے ہیں اور دونوں درمیان اختلافات میں اضافہ ہوگیا، جس کی وجہ سے میگھن کی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے کہ ان کی زندگی جس طرح منصوبہ بندی کی تھی اس کے مطابق درست سمت میں نہیں جا رہی ہے۔

ٹوم کوئن نے بتایا کہ میگھن کو میڈیا میں رہنا پسند ہے اور ان سرویز سے شدید اختلاف ہے کہ وہ اور ہیری امریکی عوام سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ پرنس ہیری اور میگھن مارکل نے شاہی خاندان سے دست برداری کے بعد نیٹ فلیکس کے ساتھ 5 سالہ معاہدہ کیا تھا جبکہ میگھن جلد ہی نیا شو شروع کرنے والی ہیں لیکن تاحال کوئی خبر نہیں ہے کہ ان کے معاہدے کی تجدید ہوگی یا نہیں۔

میگھن مارکل نے اپنا لائف اسٹائل برانڈ امریکن ریویرا اورکڈ شروع کیا تھا لیکن مصنوعات کی فروخت کے لیے انتظار ہے ۔

ٹوم کوئن کا کہنا تھا کہ جوڑے کا نیٹ فلیکس کے ساتھ معاہدہ خطرے میں ہونے کی خبروں اور اپنے آن لائن برانڈ کے حوالے سے میگھن بہت دباؤ میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میگھن کے برانڈ کی ابتدائی مصنوعات کے حوالے سے منفی باتیں کی گئیں اور اس سے مہنگا قرار دیا گیا تو وہ بہت پریشان ہوئی تھیں اور وہ یہ سمجھنے لگی ہیں کہ وہ جو کچھ بھی کریں گی اس پر غیرضروری تنقید کی جائے گی۔

شاہی امور کے ماہر نے بتایا کہ اپنے شوہر کی طرح میگھن سمجھتی ہیں لوگ ان پر غیرضروری تنقید کرتے ہیں اور یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ لوگ ان کے کام کی تعریف کیوں نہیں کرتے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ میگھن مارکل ممکنہ تنقید کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں تھیں اور وہ خاص طور پر امریکی پرتعیش زندگی گزارنے پر ہونے والی تنقید کے حوالے سے حساس ہیں۔

ٹوم کوئن کا کہنا ہے کہ اپنے لائف اسٹائل کے حوالے سے میگھن مارکل سمجھتی ہیں اس پر انہیں تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے ان کی تعریف کرنی چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔