موجودہ دنیا صرف اسباب کی ہے!

راؤ منظر حیات  پير 8 جولائی 2024
raomanzarhayat@gmail.com

[email protected]

صوفی صاحب مزے سے رس ملائی نوش فرما رہے تھے۔ میرا دفتر ایم ایم عالم روڈ پر ہے، اردگرد ان گنت لگژری ریسٹورنٹ ہیں۔ صوفی صاحب جب بھی تشریف لاتے ہیں تو چائے کافی کے بجائے شیرینی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ حد درجہ دیدہ زیب کپڑے پہنتے ہیں۔ بہت بڑے کاروباری شخص ہیں۔ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ان کی اربوں روپے کی آمدن ہے۔ سوٹ ہمیشہ لاہور کے بہترین درزی ’’پٹ مین‘‘ سے سلواتے ہیں جو تقریباً ایک صدی سے زیادہ عرصے سے اپنا اعلیٰ معیار قائم رکھے ہوئے ہیں۔

صوفی صاحب اٹالین جوتے پہنتے ہیں۔ قیمتی ترین گھڑی کلائی پر موجود ہوتی ہے۔ تقریباً بیس کروڑ روپے کی گاڑی میں سفر کرتے ہیں۔ کلین شیو ہیں اور صحت کا بھی بہت خیال رکھتے ہیں۔ ٹینس کھیلتے ہیں اور ہفتہ میں کم از کم پانچ دن‘ شام کو ٹینس کھیلنے میں مشغول رہتے ہیں۔ مگر یہ ان کی ذات کا صرف ایک پہلو ہے۔ دوسرا رخ تھوڑی دیر میں عرض کرتا ہوں۔صوفی صاحب کی ایک عادت ہے ۔ ان کے پاس اگر کوئی فقیر آئے تو اسے پیسے تو دے دیتے ہیں ۔ مگر پیار سے یہ ضرور کہتے ہیں کہ ہمارے دین بلکہ کسی بھی مذہب میں محنت کے سوا کوئی بھی درس نہیں دیا گیا۔ جاؤ ! اپنے لیے محنت کے اسباب پیدا کرو۔ صوفی صاحب کہتے ہیں کہ کبھی قدرت کے اصولوں کے خلاف نہ جاؤ ۔ یہ اٹل اور انمٹ ہیں۔ کروڑوں اربوں سال سے موجود ہیں اور ابد تک قائم رہیں گے۔ یہاں تک میں نے کسی قسم کی کوئی نئی یا اہم بات عرض نہیں کی۔

اس ملک میں لاکھوں خاندان اور لوگ ہیں‘ جنھیں اپنی دولت کا واقعی علم نہیں ہے۔ وہ صرف کھرب پتی ہیں اور بس۔ صوفی صاحب‘بظاہر اسی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ مگر حد درجہ مختلف انسان ہیں۔ ان کی شخصیت کے چند چھپے ہوئے پہلو ایسے ہیں‘ جن کو کبھی سامنے نہیں آنے دیتے۔ بہت کم لوگوں کو ان کے اصل رہن سہن کا علم ہے۔ بتاتا چلوں‘ محل نما گھر میں ان کے کمرے میں کوئی بیڈ یا قیمتی بستر نہیں ہے۔ چٹائی بچھا کر زمین پر سوتے ہیں۔

کمرے میں اے سی نہیں رکھتے بلکہ سادہ پنکھے لگے ہوئے ہیں۔ جن کی گرم یا نیم گرم ہوا میں بڑے آرام سے بلکہ بڑے مزے سے گہری نیند سوتے ہیں۔ گھر کے اندر ٹاٹ کے بنے ہوئے کپڑے زیب تن کرتے ہیں۔ مذہب سے شدید لگاؤ ہے۔ اکیلے میں عبادت کرتے ہیں یا استغراق میں آنکھیں بند کیے بیٹھے رہتے ہیں۔ ہر دم درود شریف کا ورد کرتے رہتے ہیں۔ باوضو رہتے ہیں۔ چند گھنٹے سوتے اور آرام کرتے ہیں، باقی رات‘ تہجد اور ورد میں گزار دیتے ہیں۔

صبح پھر‘ وہی قیمتی ترین کپڑے ‘ گاڑیاں اور شاہانہ لائف اسٹائل واپس آ جاتا ہے۔ کشف القبور پر دسترس ہے۔ مگر کبھی ذکر نہیں کرتے کہ مرنے والے کے کیا حالات ہیں۔ صرف ان کی بخشش کے لیے ہاتھ اٹھا کر دعائیہ کلمات ادا کرتے ہیں، پھر خاموش ہو جاتے ہیں اور گھنٹوں مراقبے میں بیٹھے رہتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ جیسے عالم ارواح سے رابطہ ہے مگر چھوڑییِ، اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتا۔

اب ایک انتہائی عجیب پہلو کی طرف توجہ مبذول کراتا ہوں۔ صوفی صاحب ‘ زکوٰۃ حد درجہ عجیب طریقے سے دیتے ہیں۔ ہر برس وہ اپنے منافع اور جائیداد کو پرکھتے ہیں ۔ جو بھی زکوٰۃ کے پیسے نکلتے ہیں ان کو دو سے ضرب دیتے ہیں۔ پھر یہ رقم اپنے ہی اکاؤنٹ میں منتقل کر دیتے ہیں۔ جوہری نکتے کی طرف آتا ہوں۔ پورے ملک کی جدید ترین درس گاہوں کے منتظمین سے ان کا عملہ رابطے میں رہتا ہے۔ یہ کوئی دس بارہ لوگوں کی ٹیم ہے۔ جو پاکستان کی یونیورسٹیوں ‘ کالجوں‘ اسکولوں اور دیگر اداروں کے سربراہان سے براہ راست بات کرتے رہتے ہیں۔ وہاں‘ وہ ایسے تمام طلباء اور طالبات ‘ جو فیس ادا نہیں کر سکتے، ان کی پوری سالانہ فیس‘ درسگاہ کے اکاؤنٹ میں بھیج دیتے ہیں۔کئی بار ایک بچے یا بچی کی فیس لاکھوں روپے بنتی ہے۔ مگر شرط صرف ایک رکھی جاتی ہے کہ درسگاہ کے منتظمین کے علاوہ ‘ کسی طالب علم کو پتہ نہ چلے کہ اس کے اخراجات کون برداشت کر رہا ہے۔

صوفی صاحب براہ راست کالج یا یونیورسٹی میں کسی سے بھی معمولی سا تعلق تک نہیں رکھتے۔ طلباء تو خیر دور کی بات‘ پرنسپل اور وائس چانسلر تک کو علم نہیں ہوتا کہ یہ وظیفہ کون دے رہا ہے۔پچھلے برس صوفی صاحب نے پچیس کروڑ روپے‘ تعلیمی شعبہ میں طلبہ اور طالبات کے لیے مختص کیے تھے۔ ہاں! ایک اور بات ‘ وہ کوشش کرتے ہیں کہ صرف جدید علوم کے طلباء اور طالبات کی معاونت کریں۔ کہتے ہیں کہ اگر ایک بچہ بھی اپنے پیروں پر کھڑا ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ایک خاندان‘ متوسط طبقے میں شامل ہو گیا۔ شاید آپ کے لیے یقین کرنا مشکل ہو کہ گزشتہ بیس برسوں میں وہ کئی ارب روپے‘ مکمل گمنامی میں رہ کر‘ تقسیم کر رہے ہیں۔ کسی کے علم میں ہی نہیں ہے کہ اتنے بڑے دل والا بالآخر ’’درویش‘‘ کون ہے ۔

رس ملائی کھاتے کھاتے‘ صوفی صاحب نے پوچھا کہ یہ بتاؤ کہ ہماری دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں۔ اربوں مسلمان روزانہ اپنی عبادت گاہوں میں اسلام کے غلبہ کی دعائیں گڑگڑا کر مانگتے ہیں۔ پھر کیا بات ہے کہ ان میں سے ایک بھی اجتماعی دعا قبولیت کا شرف حاصل نہیں کرتی ۔ فلسطین میں مسلمانوں کو اسرائیل ‘ اطمینان سے موت کے گھاٹ اتار رہا ہے۔ ہندوستان میں مسلمان ‘ اب تیسرے درجہ کے شہری بنا دیے گئے ہیں۔ انھوں نے اپنے اسلامی نام ترک کر کے‘ ہندوؤں جیسے نام رکھنے شروع کر دیے ہیں۔ برما کے روہنگیا مسلمان ‘ جانوروں کی سطح پر زندگی گزارنے پر مجبور کر دیے گئے ہیں۔ ان کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔ ڈیڑھ سو کروڑ مسلمان ‘ ہر جگہ غریب اور مغلوب ہیں۔

اپنے ملکوں میں بھی اور بیرون ممالک میں بھی۔ مغربی دنیا میں مسلمانوں کے خلاف انتہائی نفرت والا ماحول بن رہا ہے۔ صوفی صاحب کی بات کو کاٹ کر سوال کیا، بات تو درست ہے مگر آپ کی اس معاملہ میں توجیح کیا ہے؟ صوفی صاحب کا جواب بہت آسان تھا۔ ہم نے اسلام کو محض عبادات اور روایات تک محدود کر رکھا ہے۔ مگر اسلام کے انقلابی فلسفہ کو سمجھنے سے عاری ہوچکے ہیں۔ سیرت النبی کو بیان تو کرتے ہیں۔مگر نبی ﷺ کی علمی محنت‘ کوشش اور جدوجہد کی طرف نظر نہیں دوڑاتے۔ رسول کریم ﷺ کی حیات طیبہ تو علم اور جدوجہد ہے۔ مگر ہم علم اور جدوجہد میں بالکل فارغ ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہمیں اس کا احساس تک نہیں۔ہم دھڑلے سے قوانین قدرت کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔

صوفی صاحب کی یہ بات میرے سر کے اوپر سے گذر گئی کہ ہم مسلمان قوانین قدرت کی نفی کس طرح کر رہے ہیں۔ صوفی صاحب نے ہنستے ہوئے جواب دیا ، ذرا سچ کی طرف دیکھنا پسند فرمائیں گے۔ کہنے لگے دعائیں بھی ہو رہی ہیں، پھر بھی ہمارا ملک دنیا کا پسماندہ ترین ملک کیوں گردانا جاتا ہے۔ ہمارے وزیراعظم کو کوئی بھی ترقی یافتہ ملک گھاس ڈالنے کے لیے تیار نہیں ۔ ہمارے حکمران کشکول لے کر اتنے شاہانہ طریقے سے مشرق وسطیٰ کے ممالک جاتے ہیں کہ ان کے بادشاہ تک احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

صوفی صاحب کا جواب انھیں کے الفاظ میں سامنے رکھنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ ڈاکٹر‘ دراصل یہ اسباب کی دنیا ہے۔ جو جو قوم‘ اپنے لیے بہتر اسباب پیدا کرتی ہے۔ وہ پوری دنیا کو مسخر کر لیتی ہے۔ ذرا بتاؤ ۔ تمام اسلامی ممالک میں جدید تحقیق کا کتنا رجحان ہے؟ مسلمانوں نے اپنے ممالک میں معاشرتی‘ سماجی‘ معاشی انصاف ختم کر ڈالا ہے۔ صرف روایتیں ہیں، ظاہری عبادات ہیں‘ شاید اب ہم بہترین دنیاوی اسباب پیدا کرنے کے عمل سے ہی مبرا ہو چکے ہیں۔ نتیجہ وہی ہے جو قوانین قدرت کے عین مطابق ہے، اس لیے‘ ہماری دعائیں قبولیت تک پہنچتی ہی نہیں ہیں!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔