مہنگائی سے نجات کے لیے اقدامات

ایم آئی خلیل  جمعـء 4 جولائ 2014
   ikhalil2012@hotmail.com

[email protected]

اگر کسی شے کی قیمت کے تعین میں اجارہ دارانہ قوتیں کام نہ کر رہی ہوں تو قیمت کا تعین طلب و رسد کے توازن پر ہوتا ہے، لیکن حکومت یہ محسوس کرے کہ قیمت زیادہ ہے یا افراط زر کی شرح بڑھ جائے گی تو حکومت اس شے کے لیے کنٹرول ریٹ بھی مقرر کر دیتی ہے، جسے کنٹرول قیمت بھی کہا جاتا ہے۔ جس سے صارفین کو تو فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ قیمت کم ہو تو ان کی طلب پوری ہو جاتی ہے۔

لیکن کم قیمت پر اشیا کی فراہمی کے لیے عموماً سرکاری اسٹوروں، راشن شاپس یا جیسے آج کل پاکستان میں یوٹیلیٹی اسٹورز پر کم قیمت پر اشیا دستیاب ہوتی ہیں یا پھر صوبائی حکومتیں اپنی نگرانی میں سستے بازار لگاتی ہیں، جہاں پر سبزیاں، پھل اجناس اور دیگر بہت سی ضروریات زندگی کی اشیا فروخت کی جاتی ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں میں سستے بازار لگائے گئے ہیں لیکن ایک دفعہ پھر ماہ رمضان میں شہری ضروریات زندگی، سبزیاں، پھل، دالیں اور دیگر بہت سی اشیا مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہوگئے۔

پنجاب کے کئی اہم شہروں کے بارے میں یہ اطلاعات ہیں کہ وہاں سستے بازار لگائے جانے کی اطلاع پر ایک ماہ قبل سے ہی دکانداروں، تاجروں نے اپنے اسٹال بک کروا رکھے تھے، لیکن بعض وجوہات کی بنا پر من پسند افراد یا سفارشی افراد وغیرہ کو اسٹالز فراہم کیے جا رہے ہیں، اب ایسے افراد جو کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا رشوت دے کر اسٹال لگائیں گے تو ایسی صورت میں بھلا کیسے وہ سستے دام اشیا فروخت کریں گے۔ البتہ ایسے تاجر جنھوں نے پہلے ہی اسٹالز بک کروا رکھے تھے لیکن رمضان سستے بازار میں ان کو جگہ فراہم نہیں کی گئی ایسے تاجروں نے یقینی طور پر سستی اشیا کی فراہمی کا لائحہ عمل طے کر رکھا ہوگا۔

اس کے علاوہ حکومت نے یوٹیلیٹی اسٹورز کے ذریعے سستی اشیا کی فراہمی کا بندوبست کیا ہے جوکہ کہیں کامیابی سے اس پر عملدرآمد ہو رہا ہے لیکن عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ ایسی اشیا جن کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے یا پھر جوکہ بڑی مقدار میں فروخت کی جاتی ہیں مثلاً گھی، آٹا، چینی وغیرہ ان کے ٹرک یوٹیلیٹی اسٹورز پہنچنے سے قبل ہی راستے میں غائب ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف عوام کا جم غفیر آٹا، چینی، گھی یا کسی اور اہم ترین سستے داموں شے کے حصول کے لیے جب کھڑے کھڑے تھک جاتے ہیں تو سارا دن گزرنے کے بعد انھیں مطلع کیا جاتا ہے کہ فلاں شے آج دستیاب نہ ہو سکے گی۔

بعض اوقات یہ دیکھا گیا کہ آٹا یا چینی وغیرہ کے ٹرک یوٹیلیٹی اسٹورز کے دروازے پر کھڑے ہیں اور عوام سے کہہ دیا جاتا ہے کہ کل صبح سے فروخت کا عمل شروع کیا جائے گا۔ لیکن دوسرے روز جب عوام اسٹوروں کا رخ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسٹاک ہی ختم ہو گیا ہے۔ ان اسٹورز میں بعض اوقات سستے داموں جو اشیا فروخت کی جاتی ہیں ان میں سے کئی اشیا غیر معیاری و ناقص ہوتی ہیں۔

ملک میں زرعی اشیا کی قیمتوں کے تعین کا انتظام اور زرعی پیداوار کے بارے میں ناقص منصوبہ بندی کے باعث سبزیاں، پھل، دالیں، گندم، چاول، چینی اور دیگر بہت سی اشیا کی قیمتوں میں سارا سال رد و بدل ہوتا رہتا ہے۔ اسے مکڑی کے جالے کی مانند قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بھی کہتے ہیں۔

ماہ رمضان المبارک میں اشیا کی طلب بہت ہی زیادہ بڑھ جاتی ہے جب کہ  کئی زرعی اشیا کے علاوہ مصنوعات اور دیگر بہت سی اشیا ہیں جن کی قیمت میں اضافے کے شدید امکانات پیدا ہو جاتے ہیں، رمضان المبارک میں حکومت چاہے وفاقی ہو یا صوبائی ان کے لیے انتہائی لازم ہوتا ہے کہ وہ اشیا پر اپنا مکمل کنٹرول جتائیں۔ بہت زیادہ اضافے کے امکانات کو شروع سے ہی کنٹرول کیا جائے۔ صحیح منصوبہ بندی کی جائے۔ کھپت کے بارے میں انتہائی احتیاط سے کام لیا جائے کہ بالکل صحیح ترین اندازے لگائے جائیں کہ کسی بھی شے کی کتنی کھپت ہو گی۔ اس کی پیداوار کس حد تک ہو سکتی ہے، مارکیٹ میں رسد کی کیا صورت حال ہے۔

قیمت کا تعین طلب و رسد کے توازن سے کیا جائے گا یا پھر حکومت کو کنٹرول ریٹ جاری کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔ کئی اشیا، اجناس وغیرہ ایسی ہیں جن کی طلب رمضان المبارک میں بہت ہی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ مثلاً اس وقت سیب لگ بھگ دو سو سے ڈیڑھ سو روپے فی کلو ہے۔ آلو 60 تا 80 روپے فی کلو دستیاب ہے جب کہ  گزشتہ سال قیمت 30 روپے تک مقرر تھی۔ اس ماہ مبارک میں کیلا ڈیڑھ سو روپے درجن میں فروخت کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ آڑو بھی لگ بھگ ان ہی داموں فروخت ہو رہا ہے۔ خربوزہ وغیرہ تقریباً 100 روپے فی کلو فروخت کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ سبزیوں کی قیمت بھی دگنی ہو چکی ہے۔ چاول، چینی وغیرہ کی قیمت میں اضافہ ہو چکا ہے۔ کئی اقسام کی دالیں مہنگی کر کے فروخت کی جا رہی ہیں۔

جہاں تک سبزیوں اور پھلوں کے مہنگے ہونے کا تعلق ہے، ملک کے مختلف شہروں میں واقع سبزی منڈی اور فروٹ منڈی میں جب نیلامی کی جاتی ہے تو اس وقت آڑھتی اور کمیشن ایجنٹ اپنے منافع میں اضافے کی خاطر مختلف زرعی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کر کے نیلام کرتے ہیں۔ جس کے باعث ان اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ انتظامیہ کو اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ اس طرح سے سبزیوں اور پھلوں وغیرہ کے دام بڑھنے نہ پائیں۔ ناجائز منافع خوروں اور گرانفروشوں کے خلاف سختی کا عمل جاری ہونا چاہیے۔

وفاقی سطح سے لے کر مقامی انتظامیہ تک ہر ایک کے فرائض منصبی میں یہ شامل ہے کہ وہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ناجائز منافع خوری کو شامل نہ ہونے دیں۔ نیز ذخیرہ اندوزوں اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر سے انتہائی سختی کے ساتھ نمٹا جائے۔ عوام کا بنیادی حق یہ ہے کہ انھیں تمام اشیا مناسب قیمت پر خریدنے کے لیے دستیاب ہوں۔ مصنوعی قلت کے باعث اشیا کی طلب میں شدید اضافہ ہو جاتا ہے جس سے قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے، بعد میں رسد کی بحالی کے باوجود قیمت میں کمی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے عوام مہنگائی کے عذاب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ وفاقی حکومت ہو یا صوبائی حکومتیں انھیں عوام کو مہنگائی کے عذاب سے نجات دلانے کے لیے کسی قسم کے تساہل اور غفلت کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

رمضان المبارک کا آغاز ہوتے ہی ملک بھر میں جس انداز میں راتوں رات قیمتوں میں شدید اضافہ ہو چکا ہے ناجائز منافع خور، درمیانے تاجر، کمیشن ایجنٹ، ذخیرہ اندوز اور دیگر عناصر دراصل حکومت کی طرف سے لاپرواہی کا خوب ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں، جس کی وجہ سے عوام شدید اذیت کا شکار ہیں۔ خاص طور پر کم آمدن والا طبقہ شدید غذائی قلت کے باعث مختلف اقسام کی بیماریوں اور عوارض میں مبتلا ہوچکا ہے۔ 95 فیصد آبادی کے لیے یہ ممکن نہ رہا کہ وہ اپنی قلیل آمدن کے مطابق اپنے اخراجات پورے کرسکیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔