وفاقی بجٹ کے بعد سے مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافے کا رجحان

نمائندہ ایکسپریس  جمعـء 4 جولائ 2014
8 ہزار ماہانہ کمانے والا طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا۔   فوٹو: فائل

8 ہزار ماہانہ کمانے والا طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: رواں مالی سال کے وفاقی بجٹ کے بعد ملک میں مسلسل مہنگائی کی شرح میں اضافے کا رجحان ہے۔

بجٹ کے نفاذ کے بعد تین جولائی کو ختم ہونیوالے ہفتے کے دوران ملک بھر میں آلو، ٹماٹر، پیاز،چینی، انڈے،مٹن اور دالوں سمیت اکیس اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ حساس قیمتوں کے اشاریے کے لحاظ سے مہنگائی(افراط زر)کی شرح میں 0.59 فیصد اضافہ ہوا ہے تاہم آٹھ ہزار روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلیے گزشتہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اشاریے کے لحاظ سے مہنگائی(افراط زر)کی شرح میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا جو کہ 0.67 فیصد  ہے جبکہ 35 ہزار روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے امیر طبقے کیلیے مہنگائی کی شرح میں سب سے کم اضافہ ہوا ہے جو کہ 0.55 فیصد  ہے۔

اس کے علاوہ گزشتہ ہفتے کے دوران ملک میں مجموعی طور پر21اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ اور5 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے جبکہ 27 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستحکم رہی ہیں۔ اس ضمن میں وفاقی ادارہ شماریات کی طرف سے جاری کردہ اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں 3 جولائی 2014 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران آٹھ ہزار روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلیے حساس قیمتوں کے اشاریے کے لحاظ سے مہنگائی(افراط زر)کی شرح میں0.67فیصد، آٹھ ہزار ایک روپے سے بارہ ہزارروپے ماہانہ آمدنی رکھنے والے طبقے کیلیے حساس قیمتوں کے اشاریے کے لحاظ سے مہنگائی (افراط زر) کی شرح میں 0.64 فیصد،بارہ ہزارایک روپے سے اٹھارہ ہزارروپے ماہانہ آمدنی رکھنے والے طبقے کیلیے حساس قیمتوں کے اشاریے کے لحاظ سے مہنگائی(افراط زر) کی شرح میں0.62 فیصد، اٹھارہ ہزار ایک روپے سے 35ہزار روپے ماہانہ آمدنی رکھنے والے طبقے کیلیے حساس قیمتوں کے اشاریے کے لحاظ سے مہنگائی(افراط زر) کی شرح میں0.60 فیصد اضافہ ہے۔

اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران ملک میں35 ہزار روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کیلیے حساس قیمتوں کے اشاریے کے لحاظ سے مہنگائی (افراط زر) کی شرح میں 0.55 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ تین جولائی 2014 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران ملک بھر میں جن 21 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ان میں ٹماٹر، آلو، پیاز، انڈے، مٹن، سُرخ مرچ، تازہ دودھ، ایل پی جی،کھُلا ویجی ٹیبل گھی، دال ماش،دال مسور اور دال مونگ سمیت دیگر اشیائے ضروریہ شامل ہیں جبکہ جن پانچ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی ہوئی ان میں زندہ چکن،لہسن،آٹا،مٹی کا تیل اور دال چنا سمیت دیگر اشیائے ضروریہ شامل ہیں اس کے علاوہ 27 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستحکم رہی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔