- عید میلادالنبیﷺ پر سندھ میں رینجرز کی جانب سے سخت سیکیورٹی انتظامات
- گیمرز کیلئے پینے والے نوڈلز متعارف
- شادیوں کی تقاریب کو برباد کرکے پیسہ کمانے والا شخص
- اپنے گاؤں کیلئے پُل تعمیر کرنے پر شہری کو 2 سال قید
- گلشن اقبال کراچی میں سیوریج کا نظام درہم برہم، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار
- سابق صدر عارف علوی کی مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات، مجوزہ آئینی ترامیم پر گفتگو
- ڈی ایس پی علی رضا کے قاتلوں کی اطلاع پر 5 ملین روپے مقرر کرنے کی درخواست
- انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کے رائزنگ اسٹار پلیئر میں پاکستان کے سفیان خان بھی نامزد
- ایشین ہاکی چیمپیئنز ٹرافی میں بہترین کارکردگی، کھلاڑیوں کیلیے فی 100 ڈالر انعام کا اعلان
- عام آدمی پارٹی کے سربراہ نے اپنی جگہ نئے وزیراعلیٰ کے نام کا اعلان کردیا
- آئی جی سندھ کا بھتہ خوری میں ملوث کراچی پولیس افسران کیخلاف کارروائی کا حکم
- سفاری پارک لاہور کی نیلامی؛ بولی دینے والی کمپنیاں پیچھے ہٹ گئیں
- ایران؛ بس حادثے میں 10 مسافر جاں بحق اور 41 زخمی
- راولپنڈی؛ شہری سے 5لاکھ روپے کی رقم چھیننے والا گینگ گرفتار
- روسی نائب وزیراعظم کل دورے پر پاکستان پہنچیں گے
- ٹانگوں کو طاقتور بنانے والی جدید ٹیک پتلون
- کراچی سمیت سندھ بھر میں مچھروں کا راج، ڈینگی، چکن گونیا کے مریضوں سے اسپتال بھر گئے
- پاکستان نے 8سال بعد ایشین ہاکی چیمپیئنز ٹرافی میں کانسی کا تمغہ حاصل کرلیا
- سعودی عرب میں لیفٹیننٹ جنرل ملازمت سے فارغ، 20 سال قید
- پاکستان، جمہوریت اور عمران خان سے متعلق سوال؛ امریکی ترجمان کا ردعمل آگیا
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم، ن لیگ کے 3 ارکان قومی اسمبلی کی کامیابی کا فیصلہ بحال
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کے تین حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی میں لیگی امیدواروں کی کامیابی سے متعلق درخواستیں منظور کرلیں۔
سپریم کورٹ میں قومی اسمبلی کے تین حلقوں میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف لیگی امیدواروں کی درخواستوں کی سماعت ہوئی۔
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ن لیگ کے امیدواروں کی اپیلیں منظور کرلیں۔ سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے این اے 154 لودھراں، این اے 81 گوجرانوالہ اور این اے 79 گوجرانوالہ میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ بحال کردیا۔
سپریم کورٹ نے پی پی 133 ننکانہ صاحب سے مسلم لیگ ن کے امیدوار رانا محمد ارشد کو بھی بحال کر دیا۔
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس نعیم اختر افغان نے 2:1 کی اکثریت سے فیصلہ سنایا۔ جسٹس عقیل عباسی نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔
اکثریتی فیصلے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے جو احترام کا مستحق ہے، لاہور ہائیکورٹ کے ججز نے الیکشن کمیشن کے سربراہ اور ممبران سے متعلق غیر ضروری ریمارکس دیے، لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔
مزید پڑھیں : الیکشن کمیشن احترام کا حق دار ہے مگر کچھ ججز تضحیک آمیز ریمارکس دیتے ہیں، چیف جسٹس
عام انتخابات میں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے تین آزاد امیدوار این اے 154 سے رانا فراز نون، این اے 81 گوجرانوالہ سے بلال اعجاز اور این اے 79 گوجرانوالہ سے احسان اللہ ورک کامیاب امیدوار قرار پائے تھے۔
ن لیگ کے عبدالرحمان کانجو، اظہر قیوم نارا اور ذوالفقار احمد نے دوبارہ گنتی کیلئے الیکشن سے رجوع کیا۔ دوبارہ گنتی کے بعد الیکشن کمیشن نے ن لیگ کے تینوں امیدواروں کو کامیاب قرار دیا۔
الیکشن کمیشن کے فیصلے کو آزاد اراکین نے لاہور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن کے تحت چیلنج کیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تینوں امیدواروں کو کامیاب امیدوار قرار دیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف ن لیگ کے اراکین نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ سپریم کورٹ نے اکثریتی فیصلے کے ذریعے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو بحال کرتے ہوئے ن لیگ کے امیدواروں کی اپیلیں منظوری کیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ن لیگ کے تینوں اراکین قومی اسمبلی کامیاب قرار پائے۔
ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔