بگاڑ

رئیس فاطمہ  ہفتہ 5 جولائ 2014
fatimaqazi7@gmail.com

[email protected]

میری ایک کولیگ جو نہ صرف میرے ساتھ ایک ہی کالج میں پڑھاتی رہیں بلکہ ہم دونوں کے گھر بھی قریب قریب تھے، کئی سال پہلے شوہر اور بچوں کے ساتھ امریکا شفٹ ہو گئیں کہ ان کے بھائی وہاں بہت پہلے سے موجود تھے۔ وہ سال دو سال بعد جب کراچی آتی ہیں تو ملنے ضرور آتی ہیں۔

پچھلی بار جب وہ آئیں تو چھوٹی بچی جو امریکا ہی میں پیدا ہوئی ہے اسے بخار کے ساتھ کھانسی بھی ہو گئی۔ ڈاکٹر نے کچھ اپنی دوا دی اور کچھ سیرپ میڈیکل اسٹور سے لینے کے لیے کہا۔ جس وقت ان کے شوہر دوائیں لے کر آئے تو انھوں نے شیشی کھولنے سے پہلے اس کی ایکسپائری ڈیٹ چیک کی تو وہاں سوائے کالی لمبی لکیر کے کچھ نہ تھا۔ یعنی تاریخ پہ سیاہی پھیر دی گئی تھی۔ اسی طرح قیمت پہ بھی دوسرا اسٹیکر لگا تھا۔

خاتون نے کہا کہ یہ دوا پرانی ہے اسے بدلنا ہو گا۔ لیکن یقین جانیے کہ جب دونوں میاں بیوی اس میڈیکل اسٹور پہ سیرپ واپس کرنے گئے تو اول تو اس نے ماننے سے ہی انکار کر دیا کہ دوائیں ایکسپائری ڈیٹ کی ہیں۔ ساتھ ہی اس نے دکان پہ آویزاں بورڈ کی طرف اشارہ کر دیا۔ جس پہ جلی حروف میں لکھا تھا ’’خریدی ہوئی دوائیں نہ واپس ہوں گی نہ تبدیل ہوں گی‘‘ تب انھوں نے غصے سے کہا کہ اگر امریکا میں ایسا ہوتا تو خریدار کی شکایت پر میڈیکل اسٹور کا نہ صرف لائسنس معطل ہوتا بلکہ جرمانہ الگ ہوتا۔ یہ سن کر سیلز مین بولا کہ ’’کیا آپ کو پتہ نہیں کہ یہ پاکستان ہے، یہاں سب چلتا ہے۔ اگر میں دوائیں واپس لوں گا تو اگلے دن نوکری سے نکال دیا جاؤں گا۔‘‘

پھر وہ مجھے بتانے لگیں کہ ایک دفعہ وہ جب خریداری کے لیے ایک سپر اسٹور گئیں تو دیگر سامان کے علاوہ گرائپ واٹر کی چھ بوتلوں کی پیکنگ بھی اٹھا کر ٹرالی میں رکھ لی، تمام اشیا کی قیمت ادا کی اور گھر آ گئیں۔ تقریباً دو تین گھنٹے بعد اسٹور کی مالکہ جو کہ ایک بھارتی ہندو خاتون تھیں، انھوں نے فون کر کے پوچھا کہ وہ گرائپ واٹر کی بوتلیں لے کر گئی ہیں ان میں سے کسی کو استعمال تو نہیں کیا گیا۔ خاتون نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ نہیں بالکل نہیں۔ کیونکہ ابھی پچھلا گرائپ واٹر باقی ہے۔

ادھر سے جواب ملا کہ ’’ان کے نمائندے کے آنے تک وہ بوتلیں ویسے ہی رہنے دیں۔‘‘ تقریباً ایک گھنٹے بعد اسٹور کی مالکہ اپنے سیلز مین کے ساتھ دروازے پہ کھڑی تھیں۔ پہلے اس نے بوتلیں سیلز مین کو دیں۔ دوسری چھ بوتلیں خاتون کو دیں اور کہنے لگیں کہ ’’جو بوتلیں آپ نے اٹھائیں تھیں وہ ایکسپائری ڈیٹ کی تھی، ملازم کی لاپرواہی کی وجہ سے انھیں وہاں سے ہٹانے میں دیر ہو گئی۔ بل سے پتہ چلا کہ آپ لے کر گئی ہیں۔

اگر آپ متعلقہ محکمے کو اس کی رپورٹ کر دیتیں، یا بچی کو پلا دیتیں تو لینے کے دینے پڑ جاتے۔ جرمانہ بھی ہوتا اور لائسنس بھی معطل ہو جاتا۔‘‘ پھر اس خاتون نے بوتلوں کی ایکسپائری ڈیٹ دکھائی جسے گزرے صرف پندرہ دن ہوئے تھے۔ اور ادھر ایک ہم ہیں کہ اپنے ہاتھوں اپنی تصویر بگاڑنے پہ آمادہ ہیں۔ اور پھر دعویٰ کہ ہم صاحب ایمان ہیں، مسلمان ہیں۔ کیا پاکستان میں اس بات کا تصور بھی کیا جا سکتا ہے کہ ایکسپائری ڈیٹ کی دوائیں کمپنی کو واپس کر دی جائیں۔ کیونکہ دواؤں کے کاروبار میں فائدہ ہی فائدہ ہے۔ لیکن افسوس کہ کمپنی خود پرانی دواؤں پہ نئے لیبل لگا کر واپس میڈیکل اسٹورز پہ بھیج دیتی ہے۔

بڑے بڑے لوگ جن کے ناموں کے ساتھ ’’حاجی‘‘ کا لاحقہ بھی لگا ہوا ہے۔ وہ گلے گلے جعلی دواؤں کے کاروبار سے جڑے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستانی عوام کو مذہب کے نام پر دھوکا دینا بہت آسان ہے۔ اسی لیے تمام ناجائز کاروبار عروج پر ہے۔ جس میں مختلف جماعتوں، اداروں کی جانب سے زکوٰۃ اور فطرانے کی ڈیمانڈ سرفہرست ہے۔ کالم لکھنے کے دوران تین SMS اسی سلسلے میں وصول ہوئے، ایک نابینا بچوں کی امداد کے لیے صدقہ فطرہ اور زکوٰۃ کے لیے لاہور سے آیا تھا۔ دوسرا ’’عافیہ بہن (ڈاکٹر عافیہ) کہ رہائی کے لیے عافیہ ویلفیئر فنڈز میں اپنا ڈونیشن جمع کرانے کے لیے بینک کا ایک اکاؤنٹ نمبر بھی دیا گیا ہے۔ جس میں آپ رقم جمع کروا سکتے ہیں۔ لاہور والے SMS میں بھی ایک اکاؤنٹ نمبر ہے۔ تیسرا SMS ایک دینی مدرسے کے بچوں کے لیے راشن ڈلوانے کا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ان SMS کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ کوئی بھی کسی کا بھی نام استعمال کر کے فنڈز اکٹھے کر سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے جن لوگوں کے نام پر چندہ مانگا جا رہا ہے انھیں سرے سے اس کی خبر ہی نہ ہو۔پاکستان میں صارف کے کوئی حقوق نہیں ہیں۔ امریکا اور یورپ دونوں جگہ رہنے والے پاکستانی اس بات کی ہمیشہ تصدیق کرتے ہیں کہ خریدی ہوئی شے وارنٹی کی مدت کے اندر اگر آپ کسی بھی وجہ سے اس سے مطمئن نہیں ہیں تو واپس کر کے چاہیں تو کوئی دوسرا آئٹم لے سکتے ہیں یا واپس کر کے پوری رقم بھی وصول کر سکتے ہیں۔ ایک پاکستانی گھرانے میں واشنگ مشین خریدی گئی۔

بیسمنٹ میں لے جانے کے لیے اسے کھول کر سیڑھیوں کے پاس رکھ دیا گیا۔ اچانک چھ سالہ بچے نے اسے سیڑھیوں پہ دھکا دے کر گرا دیا۔ پلاسٹک باڈی کو نقصان پہنچا۔ ماں نے دیکھا تو شوہر کو فون کیا، انھوں نے جہاں سے مشین خریدی تھی انھیں فون کر کے بتایا کہ پیکنگ کھولنے پر باڈی ایک جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہے۔ اور بس ۔ شام کو نئی مشین کمپنی والوں نے انھیں پہنچادی اور ٹوٹی ہوئی اٹھاکر لے گئے۔ انھوں نے نہ کوئی اعتراض کیا نہ ہی ان پہ شک کیا کہ وہ لوگ غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں۔ لہٰذا ہمارے بیشتر پاکستانی گھرانے وارنٹی ختم ہونے سے پہلے پہلے بہت سی چیزیں بدلوا لیتے ہیں یا واپس کر کے پوری رقم بھی وصول کر لیتے ہیں۔

لیکن ہمارے پیارے وطن میں خریدار کی کوئی اوقات نہیں۔ صرف تاجر برادری اور منافع خوروں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے کہ جس طرح چاہو خریدار کو لوٹو۔ گزشتہ ماہ طبیعت بہت خراب تھی فلو کا زبردست اٹیک تھا۔ اتوار کا دن تھا کلینک بند تھے۔ فون پر ڈاکٹر کو حال بتایا، انھوں نے فوری طور پر دو قسم کی ٹیبلیٹ بتائیں۔ گھر سے قریب ایک مشہور میڈیکل اسٹور سے دوائیں منگوائی گئیں۔ جہاں جلی حروف میں ہمیشہ سے یہ لکھا ہے کہ خریدا ہوا مال /دوائیں نہ واپس ہوں گی نہ بدلی جائیں گی۔

لیکن صرف یہی اسٹور اتوار کو کھلا تھا۔ ساتھ ہی ڈسپرین کا ایک پتا بھی منگوا لیا۔ دو دن تک دوائیں لینے کے باوجود جب رتی بھر افاقہ نہ ہوا تو ڈسپرین لینے میں ہی عافیت سمجھی کہ سر کا درد اسی سے ٹھیک ہوتا ہے۔ یقین کیجیے کہ دو گولیاں ڈسپرین کی پانی کے گلاس میں ڈالنے کے باوجود حل نہ ہوئیں۔ انھیں چمچے سے نکال کر انگلی سے مسلا تو یوں لگا جیسے چاک کا پاؤڈر ہو۔ دیکھنے میں بھی وہ کچھ میلی میلی لگ رہی تھیں۔ اسی دن میڈیکل اسٹور جا کر حقیقت بتائی تو وہ کسی طور سے ماننے کو تیار نہ تھے کہ ڈسپرین جعلی ہے یا ان ہی کے اسٹور سے خریدی گئی ہے جب کہ رسید بھی موجود تھی۔ تب میں نے اپنے صارف ہونے کا حق استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اب واضح ہو گیا کہ انھوں نے خریدی ہوئی دوائیں تبدیل نہ ہوں گی نہ واپس ہوں گی کا بورڈ حفظ ماتقدم کے طور پر کیوں لگایا ہے۔

کیا ان خرابیوں کو دور کرنا جہاد نہیں ہے؟ ہماری دینی جماعتیں اگر اپنے خول سے باہر آ کر حقیقت کا ادراک کریں تو سب سے بڑا جہاد جعلی دواؤں کی روک تھام ہے کہ بعض اوقات جان بچانے والی دوائیں بھی ایکسپائری ڈیٹ کی اور نقلی ہوتی ہیں لیکن ادھر توجہ کون دے؟ بے حسی، لالچ، منافع خوری اور دولت کمانے کا شارٹ کٹ ہی سب کچھ ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔