مسدس حالی اور مسدس حال

نسیم انجم  ہفتہ 5 جولائ 2014
nasim.anjum27@gmail.com

[email protected]

خواجہ الطاف حسین حالی کا مدوجزر اسلام یا مسدس حالی اردو کی تاریخ میں ایک ناقابل فراموش کارنامہ ہے، حالی چونکہ سرسید احمد خان کے ہم خیال تھے وہ سرسید احمد خان سے دلی عقیدت رکھتے تھے، حالی نے سرسید کی تحریک پر ہی اپنی مشہور اور طویل نظم مسدس حالی لکھی، سرسید احمد خان نے ایک موقع پر کہا کہ شاید مسدس حالی میری بخشش کا سامان بن جائے چونکہ سرسید احمد خان کے ایما پر ہی انھوں نے یہ نظم تخلیق کی تھی۔ حالی نے مسلمانوں کے عروج و زوال کو بڑی ہی دردمندی کے ساتھ شاعری کے پیکر میں ڈھالا اور اسے موثر ترین بنادیا ہے۔

بقول ناقدین کہ تہذیب الاخلاق کے مضامین مسلمانوں کو اس قدر متاثر ہرگز نہ کرتے جیسا کہ اس نظم کی بدولت ہوا اور مسلمانوں کے ماضی اور حال کو انھوں نے اشعار کے سانچے میں فٹ کردیا۔ حالی کی اس کاوش نے سوتے ہوؤں کو جگا دیا۔ حالی ایک مزاج شناس طبیب کی مانند مریض کے مرض سے اچھی طرح واقف تھے، انھوں نے ایک تجربہ کار سرجن کی طرف کامیاب آپریشن کیا حالی نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں قوم کو اندھیروں سے نکالنے کی بھرپور کوشش کی۔

مولانا حالی نے وقت کے تقاضوں کو مدنظر رکھا اور شاعری کو موثر ترین ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ حالی کی شاعری میں پاکیزہ جذبات، سادگی اور اپنائیت نمایاں ہے ان کی یہ طویل نظم انسانی خامیوں اور خوبیوں کا مرقع ہے:

خدا رحم کرتا نہیں اس بشر پر
نہ ہو درد کی چوٹ جس کے جگر پر
کسی کے گر آفت گزر جائے سر پر
پڑے غم کا سایہ نہ اس بے اثر پر
کرو مہربانی تم اہل زمیں پر
خدا مہرباں ہوگا عرش بریں پر

اپنوں کا درد وہی رکھتا ہے جو صاحب ضمیر اور محب وطن ہوتا ہے ہر دور میں ایسے لوگ نظر آتے ہیں جو گمراہ لوگوں کو اندھیرے میں سفر کرتا دیکھ کر پریشان ہوجاتے ہیں اور انھیں راہ پر لانے کی سعی مسلسل کرتے ہیں کہ یہ حکم ربی بھی ہے اور اخلاقی و دینی فرض بھی ہے، امربالمعروف ونہی عن المنکر کا سبق اسی لیے پڑھایا گیا ہے کہ اس پیغام پر عمل کیا جائے اور دور تک پھیلایا جائے۔

آج کے دور میں بھی اپنے وطن اور ہم وطنوں سے محبت کرنے والوں کی کمی نہیں ہے ان ہی لوگوں میں آفتاب مضطر بھی شامل ہیں یہ بہت اچھے شاعر ہیں، نثر بھی اچھی لکھتے ہیں، اس کا ثبوت ان کے مضامین میں، جو ان کی کتابوں میں ان کے افکار و خیالات کو عیاں کرتے ہیں اس کتاب سے قبل بھی ان کی کئی کتابیں بعنوان ’قبول ورد کے فیصلے، سورج کے اس پار، (مجموعہ ہائیکو) اس کا جاپانی زبان میں ترجمہ بھی ہوچکا ہے ترجمہ نگار ہیں ازشیگی یوکی جن کا اسلامی نام عظمت ہے آفتاب مضطر جامعہ کراچی سے پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔

موضوع ہے ’’اردو کا عروضی نظام اور عصری تقاضے‘‘ آفتاب مضطر نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کی بنا پر ایوارڈ بھی حاصل کیے ہیں ان کی کئی غزلوں کو سجاد علی نے بڑے دلنشیں انداز میں گایا ہے، ساحل پہ کھڑا ہوں ابھی ڈوبا تو نہیں … اس غزل کو بے حد پسند کیا گیا ہے ’’ہر ظلم تیرا یاد ہے‘‘ کو سال رواں کا مقبول ترین گیت قرار دیا گیا ہے، یقینا یہ ان کی خوش بختی ہے کہ انھیں اپنی زندگی میں ہی قدر دان میسر آگئے اور ان کی شاعری کے قارئین و ناقدین نے ان کے فن کو خراج تحسین پیش کیا۔

جس کتاب کو میں نے احاطہ تحریر میں لانے کی کوشش کی ہے اس کا نام ہے ’’لاکلامی‘‘ اور یہ آفتاب کی تیسری کتاب ہے جو اپنی خوبصورتی و دلکشی کے ساتھ منظر عام پر آئی ہے، اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ’’مسدس‘‘ پر مشتمل ہے اس کے دو حصے ہیں پہلا حصہ ’’در احوال امت مسلمہ‘‘ اور دوسرے میں ’’در احوال ملت پاک‘‘ درج ہے۔ اور آخری صفحات پر تضمین ہے۔ برمصرعہ خواجہ الطاف حسین حالی۔ ان کی شاعری پڑھنے کے بعد اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ خواجہ الطاف حسین حالی کے بصیرت افروز افکار سے بے حد متاثر ہیں، آفتاب مضطر نے بڑے مبارک خواب دیکھے اور ان کی یہ بہت بڑی خوش نصیبی ہے کہ انھوں نے حضرت خضر کے حکم کے مطابق ملت کا احوال بڑی دردمندی کے ساتھ بیان کردیا ہے۔

انھوں نے سقوط پاکستان کا نوحہ بھی بیان کیا ہے اور نام نہاد ان مولویوں کا بھی تذکرہ کیا ہے جو اپنی راہ سے ہٹ گئے ہیں۔ حفاظ و نعت خواں بھی دنیاوی فائدے کی خاطر اللہ کے پیغام کو بھلا بیٹھے ہیں۔ اس کتاب میں بھی ماہ صیام میں پڑھنے والی تراویح کے ذکر کے ساتھ، گرانی کی تباہ کاریوں کو اجاگر کیا ہے کہ کس طرح افلاس زدہ لوگ سحری و افطار کا انتظام کرتے ہیں ماہانہ آمدنی اس قدر محدود ہوتی ہے کہ غریب آدمی اپنی خواہش کے مطابق نہ افطاری کے لیے کچھ خرید سکتا ہے اور نہ سحری کے انتظام کرنے کی سکت پاتا ہے۔

عبادت بھی نفع و نقصان کو مد نظر رکھ کر کی جاتی ہے، تاجر حضرات پورا قرآن ہفتے 10 دن یا تین روزہ تراویح پڑھانے اور پڑھنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ آفتاب مضطر نے معاشرتی خرابیوں اور مصائب کو شاعری کے سانچے میں خلوص دل کے ساتھ ڈھالا ہے کہ شاید آئینہ جعلسازوں کو ان کی شکل دکھا سکے کہ شاعر کا کلام ایک صاف و شفاف آئینے کی مانن دہے، جس میں ہر شخص اپنا چہرہ دیکھ کر نادم بھی ہوسکتا ہے اور اپنے آپ کو بدلنے کا عزم بھی کرسکتا ہے۔ آفتاب مضطر نے 30 صفحات پر قوم کی پستی و زبوں حالی اور شکست و ریخت کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے شاید یہی وجہ ہے کہ قوم کی تباہی کی مکمل کہانی بیان ہونے سے رہ گئی ہے۔

اور تشنگی کا احساس بڑھ گیا ہے۔ آج پاکستان کا کون سا ایسا ادارہ ہے جہاں دیانت داری سے کام ہو رہا ہے یا تعلیمی ادارے بھی حرص و ہوس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، مدارس دینی تعلیم دینے سے قاصر رہے ہیں اسی سبب برائیاں بہت تیزی سے پنپی ہیں، اسلام کی روح کو کسی نے سمجھنے کی کوشش نہیں کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شہر سے زیادہ گاؤں، گوٹھ میں انسان کا استحصال ہوا، قتل و غارت اور نجی جیلوں میں اضافہ ہوا۔ وہی لوگ جب شہر منتقل ہوئے تو شہر میں بھونچال آگیا جہلا کم علم حضرات جہاں بھی رہیں گے اندھیروں کو بڑھانے کے ذمے دار ہوں گے اور علم و آگہی کے دیے بجھانے میں پیش پیش نظر آئیں گے۔

شاعر نے مسدس 2 میں پاکستان کا احوال پیش کیا ہے، یہاں بھی خواب کا معاملہ ہے، خواب میں ہی قائد اعظمؒ سے مکالمہ ہوتا ہے اور موجودہ صورت حال کو قائد کے سامنے بیان کیا جاتا ہے ۔کتاب میں کئی اہم و اعلیٰ حضرات کی آرا شامل ہیں، محسن اعظم محسن ملیح آبادی کا طویل مضمون خاصے کی چیز ہے۔ بے حد عرق ریزی کے ساتھ مضمون لکھا ہے ان کی تحریر کتاب کو معتبر بنانے کے لیے کافی ہے کہ آفتاب کی شاعری فنی لوازمات سے مزین ہے۔ اور قابل مطالعہ ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔