عید تک نئے ٹی وی اسٹار سے دل بہلائیے

نصرت جاوید  منگل 8 جولائ 2014
nusrat.javeed@gmail.com

[email protected]

باکس آفس پر سپر ہٹ فلمیں بنانے والوں کی زندگی بڑی کٹھن ہوتی ہے۔ بہت سارے لوگ کئی دنوں تک مسلسل بیٹھ کر کوئی اچھوتا خیال سوچتے ہیں۔ پھر تلاش ہوتی ہے ایک اسکرپٹ رائٹر کی۔ کوئی اکیلا بندہ یہ کام نہ کر پائے تو کہانی کی Out Line بنانے کے بعد اسے کسی منظر نگار کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ وہ اسکرین پلے لکھ بھی لے تو اسے مزید جاندار بنانے کے لیے کبھی کبھار ایک اور مکالمہ نگار کی ضرورت بھی آن پڑتی ہے۔ اس کے بعد بھی کام مکمل نہیں ہوتا۔

ہدایت کار اور اس کی پسند کے کیمرہ مین ڈھونڈ لینے کے بعد درکار ہوتے ہیں بڑے منجھے ہوئے دھانسو اداکار۔ وہ سارے مل کر کئی مہینوں کی مسلسل مشقت کے بعد بے پناہ سرمایہ خرچ کر کے کوئی فلم مکمل کر بھی لیں تو کوئی گارنٹی نہیں کہ یہ سپرہٹ ہو جائے۔ کے آصف جیسے نامور ہدایت کار کی ’’مغلِ اعظم‘‘ بھی تو بالآخر ’’ڈبہ‘‘ ثابت ہو گئی تھی ۔  پاکستانیوں پر سارے جہاں کو رزق دینے والا ربّ مگر خاص طور پر بہت مہربان ہے۔

ہمارے ہاں 24/7 ٹی وی آ چکا ہے۔ الزام ان میں سے زیادہ تر پر نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز پیش کرنے کا دھرا جاتا ہے۔ خبروں اور حالاتِ حاضرہ کے نام پر لیکن دکھانے کے لیے وہ جو Segments  تیار کرتے ہیں میڈیا کے سیانے انھیں Infotainment میں شمار کرتے ہیں۔ ان Segments  سے کہیں زیادہ اہمیت مگر ان ٹاک شوز کی ہے جو شام سات بجے سے رات 12 بجے تک ہمیں سیاسی بصیرت عطا کرنے کے دعوے دار ہوا کرتے ہیں۔

بصیرت فروشی کے یہ دن مگر عرصہ ہوا تمام ہو گئے۔ پھر سیزن چلا فروغ پارسائی کا۔ اس سے جی بھر گیا کہ تو اب اس صدی کے انیسؔ و دبیرؔ پیدا ہو گئے ہیں۔ اکیلے اینکر پرسن کے ساتھ بیٹھتے ہیں اور ٹپکتی چھتوں کے نیچے پناہ گزین غریب عوام کے دُکھوں پر نوحے پڑھتے ہیں۔ قصیدہ خوانی میں جیسے گریز و نشیب سے گزر کر ممدوح کی مدح خوانی پر آیا جاتا ہے۔ اسی طرح غریب عوام کے مصائب کا دل فگار ذکر ہمیشہ انقلاب کی نوید پر ختم ہوتا ہے۔

میں بھی کئی برسوں سے ’’لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘‘ کے نشے میں مست رہا ہوں۔ ہر نوع کے انقلابیوں کے بھاشن سنے۔ مگر انقلاب کم بخت ایسا ڈھیٹ ہے کہ اس ملک میں آ کر ہی نہیں دیتا۔ ہمارے زمانہ طالب علمی میں ہوسٹل کے کچھ سنکی رہائشیوں نے ’’ سرخ ہے نہ سبز ہے۔ ایشیاء کو قبض ہے‘‘ کا نعرہ متعارف کروایا تھا۔ بڑھاپے کی دہلیز تک پہنچ کر وہ سنکی نوجوان مجھے تو بہت بڑے Visionary لگنا شروع ہو گئے ہیں۔

بہرحال انقلاب آئے نہ آئے ٹی وی اسکرینوں پر کچھ تو رونق لگانی ہوتی ہے۔ Ratings کا سوال ہے بابا۔ راولپنڈی کے اکیلے شیر نے بڑے دنوں تک یہ رونق لگائے رکھی۔ پھر وہ اپنے آپ کو ہرانا شروع ہو گئے۔ ان کی مارکیٹ ذرا مندی ہوتی نظر آنے لگی تو کینیڈا سے ہمارے دلوں کو گرمانے علامہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب تشریف لے آئے۔ انھیں مگر اب ’’یومِ انقلاب‘‘ کی حتمی تاریخ طے کرنے کے لیے پوری یکسوئی اور تنہائی میں استخارہ کرنا ہے۔

ساتھ ہی ساتھ ان ’’عوامی انقلابی کونسلوں‘‘ کی مسلسل رہ نمائی اور نگہبانی بھی جو ’’یومِ انقلاب‘‘ کے عین ایک روز بعد ملک بھر میں ریاستی اقتدار و اختیار کو اپنی مکمل گرفت میں لے لیں گے۔ شیخ صاحب اور علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کی عدم دستیابی سے پیدا ہونے والے خلاء کو ابراہیم مغل نامی ایک مہربان نے پر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ میاں مرغوب احمد نے ان کی تان سے تان ملائی مگر آخر میں معاملہ ’’ہتھ جوڑی‘‘ پر ختم ہو گیا۔ ہم اسکرین پر آخری فتح تک جاری رہنے والا دنگل دیکھنے سے محروم رہے۔

سارے جہاں کو رزق دینے والا رب مگر ہم پر بالخصوص مہربان ہی رہا۔ وہ تو پتھر میں دھنسے کیڑے کے لیے بھی کسی نہ کسی طرح زندہ رہنے کے اسباب پیدا کر دیتا ہے۔ ایسے اسباب ہمارے ٹاک شوز والوں کو مراد سعید جیسے لائٹ ویٹ پہلوانوں کی صورت میسر ہیں۔ تلاش تھی تو مگر ایک نئے چہرے کی جو ایسے پہلوانوں کو اشتعال دلا سکے۔ آپ کو مبارک ہو اور بہت بہت مبارک کہ ارسلان افتخار کی صورت ہمارے 24/7 والوں کو یہ نیا اسٹار مل گیا ہے۔

موصوف جو خود کو ’’نسلی بلوچستانی‘‘ ثابت کرنے کو ان دنوں مرے جا رہے ہیں کسی نہ کسی طرح بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک کو اس بات پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ اگر ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے تو وہ قدرتی وسائل سے بھرپور اس صوبے کی ترقی کے لیے رشک آمیز سرمایہ کاری کا بندوبست کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر مالک قوم پرست ہی نہیں کٹر سوشلسٹ بھی رہے ہیں۔ سوشلزم مگر اب ایک نظریے کی صورت ناکام ہو چکا ہے۔ چین جیسا ملک جو اب بھی خود کو کمیونسٹ کہتا ہے اپنے تمام ریاستی وسائل دُنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو اپنے ہاں Invest  کرنے کو قائل کرنے پر مرکوز رکھتا ہے۔

مالک صاحب نے بلوچستان کا ڈینگ سیائوپنگ بننا چاہا تو ارسلان افتخار سے بہتر معاون اور کون ہو سکتا تھا۔ جب ارسلان کے والد سپریم کورٹ سے دور رکھے گئے تھے تو اس ہونہار بروا نے ٹیلی کام جیسے جدید شعبے میں اپنی کامیابی کے رستے ڈھونڈ لیے۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے کبھی 17 ویں گریڈ میں اچھی پوسٹنگ کا خواہش مند یہ نوجوان خوش حال سے خوش حال تر ہوتا گیا۔ بڑے لوگوں کی طرح اب وہ روزانہ جِم جا کر خود کو فٹ رکھتا ہے۔ Designers Suits پہنتا ہے۔ قیمتی گھڑیاں اور Elite کے لیے مختص Smart Phones کا مالک ہے جسے ہر سال Relax ہونے کے لیے یورپ میں چھٹیاں بھی گزارنا ہوتی ہیں۔

بغیر کسی ظاہری وسیلے کے محض اپنی ذہانت و محنت کی بنیاد پر وہ دیکھتے ہی دیکھتے ’’سالا میں تو صاحب‘‘ بن گیا تو بلوچستان کے وسائل تک ریاستی سرپرستی میں اس کی Access تو یقیناً اس صوبے میں معجزے برپا کر سکتی تھی۔ ڈاکٹر مالک نے ارسلان افتخار کی صلاحیتوں سے اپنے غریب عوام کی مدد کرنا چاہی تو اسلام آباد میں بیٹھے میرے جیسے جل ککڑوں نے ہا ہا کار مچا دی۔ میرے جیسوں کی ہاہاکار کا شاید کچھ اثر پھر بھی نہ ہوتا۔ مگر میدان میں آ گئے عمران خان۔ ’’35 پنکچروں‘‘ کے بعد انھیں مل گئی ایک اور کہانی یہ ثابت کرنے کہ مئی 2013ء میں ان کے ساتھ پنجابی والا ’’ہتھ‘‘ ہو گیا تھا۔

لاہور کے شریف بھائیوں کی جوڑی کو علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کی پاکستان آمد اور چوہدری نثار علی خان کی مجبوریوں والی بے اعتنائی نے پہلے ہی تنگ کر رکھا۔ اب ارسلان افتخار کی ڈاکٹر مالک سے محبت نے ’’ایک اور کٹا‘‘ کھول دیا۔ میر حاصل بزنجو اسلام آباد میں تھے۔ کسی زمانے میں انقلابی سمجھے جانے والے ان کے چند دیرینہ صحافی دوستوں کے ساتھ ہی ساتھ مسلم لیگ نواز والوں نے ان سے شکوے کرنا شرع کر دیے۔ موصوف بڑی پریشانی میں کوئٹہ پہنچے اور کسی نہ کسی طرح ارسلان افتخار کا استعفیٰ Manage کرلیا۔

استعفیٰ دینے کے بعد ارسلان افتخار مگر اب بپھر گئے ہیں۔ راجپوتی خون ویسے بھی کب تک جوش میں نہ آتا۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر کہ غصے سے بپھرے ہوئے ارسلان افتخار صرف عمران خان کو اپنی بدنامی و رسوائی کا ذمے دار سمجھ رہے ہیں اور بات جب کپتان سے بدلہ لینے پر آ جائے تو ٹی وی اسکرینوں پر رونق کیوں نہ آئے۔ کم از کم دو ایک مزید ہفتے تو ارسلان vs عمران والا مقدمہ اپنے گھروں میں بیٹھ کر اطمینان سے سنیے۔ روزہ بہل جائے گا اور تھوڑی بہت سیاسی بصیرت بھی مل جائے گی۔ اس کے بعد ویسے بھی عید کی خوشیاں ہیں۔ ان کے آنے تک ٹی وی کے نئے اسٹار۔ ارسلان افتخار۔ سے دل بہلائیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔