اے غزالِ شب

اقبال خورشید  جمعرات 10 جولائ 2014

یہ عہد، ہنگاموں کا عہد ہے۔

ایک سمت امن کے لیے جنگ، اور دوسری طرف الزامات کی سیاست۔ دھاندلی کا شور۔ جلسوں کا زور۔ عبادت گاہوں اور مزارات کے ملبے پر کھڑے ہو کر خلافت کا اعلان کیا گیا۔ مشرق وسطی میں انتشار کا عفریت پھنکارا۔ اور اسرائیل غزہ پر جھپٹ پڑا۔اِس گہماگہمی میں انقلاب کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے، جس کی تفہیم کی ناکام کوششوں کے بعد ذہن خاموشی سے ماضی میں چلا جاتا ہے۔ اُن زمینوں پر پہنچ جاتا ہے، جہاں دس عشروں قبل ایک عظیم انقلاب کا جنم ہوا۔ انقلاب، جو فلسفے کے باطن سے پیدا ہوا۔ جدوجہد کی گئی۔ قربانیاں دی گئیں۔ اور یوں ایسی نظریاتی ریاست وجود میں آئی، جس کے لہلہاتے سرخ نغمے دنیا میں پھیل گئے۔ مزدوروں کے مردہ جسم امید سے جی اٹھے۔

یہ اکتوبر انقلاب کا تذکرہ ہے، جس کی قیادت لینن نے کی، جو مساوات پر مبنی معاشرے کا آرزو مند تھا۔ مارکس کے نظریے سے لیس تھا۔ اس انقلاب کے نتیجے میں پہلی سوشلسٹ جمہوریہ، سوویت یونین کا قیام عمل میں آیا۔ سرمایہ دارانہ نظام لرز اٹھا۔ کمیونسٹ نظریات نے دنیا کو دو حصوں میں منقسم کر دیا۔ خواب سانس لینے لگے۔سرخ انقلاب اور اُس سے وابستہ خوابوں کا تذکرہ کرتے سمے ذہن میں ایک ناول کی جھلکیاں ہیں۔ اردو میں تحریر کردہ ایک ناول۔

ہر صنف ادب کا اپنا رومانس ہوتا ہے۔ البتہ میرے لیے ناول کی دنیا، حیرتوں کی دنیا ہے کہ ناول زندگی کی گہرائی میں اتر کر اَن سنے، اَن دیکھے حقائق آشکار کرتا ہے۔ نہ صرف متعدد زندگیاں، بلکہ ایک سے زاید زمانوں کا احاطہ کرنے کی انوکھی صلاحیت رکھتا ہے۔ جین آسٹن نے سچ ہی کہا تھا: ’’یہ فقط ناول ہے، جہاں انسانی ذہن اپنی کُل صلاحیتیں آشکار کرتا ہے۔ جہاں ہر انسانی جذبہ بہترین زبان میں اظہار پاتا ہے۔‘‘

ناول، جسے مارکیز نے’’کوڈز‘‘ میں بیان کردہ حقیقت قرار دیا، ایک پُرقوت گھوڑے کے مانند ہے۔ گھوڑا، جو خوشی کی وادی سے گزرتا ہے۔ کرب کے صحرا عبور کرتا ہے۔ جذبات کے سمندر میں اتر جاتا ہے۔ اور احساسات کے میدانوں میں سفر کرتا ہے۔ اور گھوڑے کی باگ ناول نگار کے ہاتھ ہوتی ہے۔ جو اپنے فن میں طاق ہو، تو ایک تحیر خیز دنیا تخلیق کر سکتا ہے۔ ایسی زندگی ہمارے سامنے منظر کر سکتا ہے، جو اُس زندگی سے، جو ہم جی رہے ہوتے ہیں، مختلف ہونے کے باوجود مشابہہ ہوتی ہے۔ اور یہی امر ناول نگار کو عظمت کی سند عطا کرتا ہے۔

ہم اُس کے وسیلے زمان و مکاں کے کسی اور ٹکڑے میں سانس لیتی زندگی سے جڑ جاتے ہیں۔ شاید اِسی مہارت کی بنا پر ڈی ایچ لارنس نے بہ طور ناول نگار خود کو سائنس داں، فلسفی اور شاعر سے برتر جانا۔واقعی ناول کی دنیا، حیرتوں کی دنیا ہے۔ بڑا ناول نگار فقط حقیقت کی عکاسی نہیں کرتا، بلکہ اُن عناصر زندگی کو بھی گرفت میں لاتا ہے، جس سے حقیقت تخلیق ہوتی ہے۔ وہ سوالات کا جواب فراہم کرنے بجائے ہمیں ایک سوال فراہم کرتا ہے۔ فقط جزئیات نگاری پر کمربستہ نہیں ہوتا، بلکہ ہمیں جزئیات میں موجود ایک مشترکہ احساس تک رسائی فراہم کرتا ہے۔

مذکورہ پہلو اور تقاضے مدنظر رکھے جائیں، تو ’’اے غزال شب‘‘ کا تخلیق کار واقعی ایک بڑا تخلیق کار ہے، جو ایک حقیقی داستان گو کے مانند ہمیں اپنے شبدوں سے باندھ لیتا ہے۔ ہم الائو کے گرد بیٹھ جاتے ہیں، اور بیتتے پلوں سے بے پروا ہو جاتے ہیں۔

بین الاقوامی معیارات سے ہم کوسوں دُور سہی، سچ ہے کہ یہاں ڈکنز، ٹالسٹائی، دوستو فسکی، ہیمنگ وے، جارج آرویل، کافکا اور ہوسے سارا ماگو جیسے ناؓبغے پیدا نہیں ہوئے، البتہ اردو، خصوصاً پنجاب نے چند ایسے فکشن نگاروں کو ضرور جنم دیا، جن کا قلم المیوں کے اِس دور میں ہمارے دلوں کو خوشی سے بھرنے کی قوت رکھتا ہے۔ اور مستنصر حسین تارڑ اُن میں سے ایک ہیں۔بے شک یہ سفر نامے تھے، جو اُن کی ابتدائی شناخت بنے۔ ٹی وی نے اُس شناخت کو شہرت میں تبدیل کیا۔ مگر وہ شے، جس کے ساتھ قاری کی دھڑکن ہم آہنگ ہو جاتی ہے، اُن کے ناول ہی ہیں۔ بہائو، راکھ، ڈاکیا اور جولاہا، پیار کا پہلا شہر، پکھیرو اور اب: ’’اے غزال شب!‘‘

کہتے ہیں، داستان گوئی پنجاب کی سرشت میں ہے۔ کرشن چندر، بیدی، منٹو، کنہیالال کپور ادھر سے پیدا ہوئے۔ ہاں، جو تجربہ تارڑ صاحب کے حصے میں آیا، وہ کم تخلیق کاروں کا نصیب بنا۔ آوارہ گردی رحمت ثابت ہوئی۔ ورجینا وولف کے بہ قول: ’’ناول مکڑی کے جالے کے مانند ہے، جو ہلکا سہی، مگر چاروں کونوں سے زندگی سے جڑا ہوتا ہے۔‘‘ یہی معاملہ اُن کے فکشن کا ہے۔

’’اے غزال شب‘‘ خوابوں کی شکست و ریخت کا ایک مربوط اور گُتھا ہوا قصّہ ہے۔ اُن پاکستانیوں کا حزنیہ، جنھوں نے مساوات پر مبنی اُجلے معاشرے کا سپنا دیکھا۔ سوویت یونین قبلہ ٹھہرا۔ نظریات اپنے وطن سے میلوں دور لے گئے۔ کوئی ماسکو میں جا بسا، کسی نے برلن کو ٹھکانہ بنایا، کسی نے بوداپیسٹ میں خود کو دریافت کیا۔ اپنا وطن چھوڑ کر نئی زمینوں پر ذات کا بیج بویا۔ مزدوروں کے راج میں وہ خوش تھے کہ اچانک سب ڈھے گیا۔ سرمایہ دارانہ نظام نے کاری وار کیا۔ سوویت یونین منہدم ہوا۔ اپنی جڑوں سے کٹ چکے ان انسانوں کی زندگیاں یک دم بدل گئیں۔

اِس بدلاؤ نے اُن کی سماجی اور نفسیاتی زندگیوں کو اتھل پتھل کر دیا۔ ’’اے غزال شب‘‘ اُس اتھل پتھل کی بپتا ہے۔ ایسی بپتا، جس کے کچھ حصوں سے آپ اختلاف تو کر سکتے ہیں، مگر اُسے خود میں گہرا اترنے سے روک نہیں پائیں گے۔اِس ناول میں تارڑ کا فن اپنے عروج پر نظر آتا ہے۔ آوارہ گردی کا وسیع تجربات رنگ دیکھتا ہے۔ تخیلاتی جست نئے امکانات تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ ہے تو بیانیہ تکنیک میں، مگر نیاپن بیانیے کے ساتھ چلتا ہے۔ ایک مقام پر خود ناول نگار قاری سے مخاطب ہو کر چونکا دیتا ہے۔ اور اختتامیہ میں ایک نیا کرشن نمودار ہوتا ہے۔

مصنف کی دیگر تخلیقات کی طرح اِس ناول میں بھی طلسمی حقیقت نگاری کا ذایقہ ہے، جو مارکیز کی طلسمی حقیقت نگاری نہیں، بلکہ وہ طرز ہے، جس کا آغاز تارڑ نے اپنے ناول ’’پکھیرو‘‘ میں کیا۔ الغرض یہ ایک قابل مطالعہ ناول ہے۔ اور انتشار کے زمانوں میں قابل مطالعہ کتاب سے بڑھ کر کوئی نعمت بھلا کیا ہو سکتی ہے۔ کچھ دیر تو شور و غل سے نجات ملے۔ ماریو برگس یوسا کے بہ قول: ’’بری قسمت کا سامنا کرنے کے لیے ادب ہی وہ بہترین شے ہے، جو کبھی تخیلق ہوئی!‘‘

تو یہ عہد، ہنگاموں کا عہد ہے۔ اور اِس شور میں انقلاب کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ اور تفہیم کی ناکام کوششوں کے بعد ذہن ایک ناول کی سمت جاتا ہے۔۔۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔