طنز ایک ناپسندیدہ فعل

نسیم انجم  اتوار 13 جولائ 2014
nasim.anjum27@gmail.com

[email protected]

انسان کی سرشت میں سنجیدہ و غیر سنجیدہ رویہ شامل ہے، کبھی وہ ہنستا ہے، قہقہے لگاتا اور خوب طعنوں و تشنوں کے تیر برساتا ہے، دانشور حضرات طنزیہ فقروں کو مزاح کی چاشنی میں ڈبو کر اپنے ہدف کو نشانہ بناتے ہیں اور خوب خوب لطف اٹھاتے ہیں۔ اردو ادب میں طنز کی تعریف اس طرح بیان کی گئی ہے کہ مزاح کی طرح طنز میں بھی مبالغے، موازنے اور بذلہ سنجی سے کام لیا جاتا ہے، لیکن بنیادی طور پر طنز و مزاح میں نمایاں فرق موجود ہے۔ ناقدین طنز کے بارے میں لکھتے ہیں کہ بہترین طنز کی اساسی شرط یہ ہے کہ ذاتی جذبہ محض ذاتی نہ رہے بلکہ عالمگیر بن جائے۔

ڈاکٹر قدیر آغا نے طنز و مزاح کے فرق کو اس طرح واضح کیا ہے کہ طنز زندگی اور ماحول سے برہمی کا نتیجہ ہے، طنز نگار جس چیز پر ہنستا ہے اس سے نفرت کرتا ہے اور اسے تبدیل کردینے کا خواہاں ہوتا ہے، اس کے برعکس مزاح زندگی اور ماحول سے انس اور مفاہمت کی پیداوار ہے۔ جس طرح خالص طنزیہ گفتگو ایک دوسرے سے عداوت پیدا کرتی ہے بالکل اسی طرح ’’ہجو‘‘ کا بھی کردار رہا ہے۔

اردو شاعری میں ہجوگوئی کی ابتدا بھی فارسی سے ہوئی، اردو کا سب سے پہلا مزاحیہ شاعر جعفر زٹلی ہے لیکن اس کا کلام ہزل گوئی سے پر ہے۔ لیکن سودا نے ہجوگوئی کو سب سے پہلے فن کی حیثیت دی۔ بقول محمد حسین آزاد ’’ان کے دل کا کنول ہر وقت کھلا رہتا تھا، چھیڑ چھاڑ میں ان کو لطف آتا، جب کوئی ان پر زیادتی کرتا تو صبر کرنے کے بجائے قلم ہاتھ میں لے کر اس کے خلاف زوردار ہجو لکھ ڈالتے۔‘‘

ہجو نگار کا فرض ہے کہ وہ اپنی شاعری کی آڑ لے کر ذاتیات پر نہ اتر آئے بلکہ اپنی وسیع النظری کی بنا پر ’’ہجو‘‘ میں عمومیت پیدا کرے تاکہ کسی خاص شخص سے منسوب نہ ہوسکے اور نام لے لے کر خامیاں نہ گنوانا ہی اعلیٰ اخلاق کی نشانی ہے۔ لیکن شاعری کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ شعرا حضرات ایک دوسرے پر طنز کے تیروں سے حملہ آور ہوتے اور بات نفرت تک پہنچ جاتی۔ اس معاملے میں بعض شاعر حد سے آگے گزر گئے ہیں اور وہ غیظ و غضب میں آکر گالم گلوچ تک کرنے سے باز نہ رہ سکے ہیں۔ حتیٰ کہ جسے نشانہ بناتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اس کے بیوی بچوں کو بھی معاف نہیں کرتے ہیں، گویا انتقام کی آگ اسی طرح بھڑکتی ہے کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ دراصل ’’ہجو‘‘ کی تعریف یہ ہے کہ یہ ہماری نظم کی ایک خاردار شاخ ہے جو خوشبو دینے کے بجائے تن من زخمی کرتی ہے اور جھگڑے، بحث و مباحثے کو طول دیتی ہے۔ اردو شاعری میں معاصرانہ چشمک بھی چلتی رہی ہیں اور اس کا رواج آج بھی ہے۔ اس حوالے سے مرزا مظہر اور آبرو کی چشمک، انشا اور مصحفی کی چشمک بھی کافی مشہور ہوئیں۔ ڈاکٹر وزیر آغا لکھتے ہیں کہ جب مزاح نگاری انشا اور مصحفی کی معاصرانہ چشمکوں کی صورت میں نمودار ہوئی تو یار لوگوں نے محض تفریح کی خاطر جلتی پر تیل چھڑکا اور دونوں اصحاب شاعرانہ خوش طبعی سے فحش گوئی اور طعن و تشنیع کی ایسی پستیوں پر اتر آئے کہ آج ان کی فحش تخلیقات تہذیب و اخلاق کا منہ چڑاتی ہیں اور انھیں پڑھتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس ہوتی ہے۔ نظیر اکبر آبادی کے کلام میں بھی متانت اور ظرافت، بذلہ سنجی اور شوخی کا بہترین امتزاج نظر آتا ہے۔

طنز و مزاح کے حوالے سے ’’ریختی‘‘ کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے، ریختی کا مقصد بقول ڈاکٹر صابر علی خان ’’عورتوں کی زبان میں ان کے جذبات کو ادا کرنا ہے، کیونکہ اردو زبان کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اس میں عورتوں اور مردوں کی زبان اور محاورے میں خاصا فرق ہے جو دنیا کی زبانوں میں کم ملے گا، یہ اعلیٰ درجے کی شاعری یا ادب نہیں ہے اور یہ اتنی ادنیٰ اور اسفل ہے کہ اسے قطعاً شعر و ادب میں جگہ نہیں مل سکتی، اس کی اگر اہمیت ہوسکتی ہے تو صرف تاریخی اور لسانی۔‘‘

ریختی کے وجود میں آنے کی بھی وجہ ہے، وہ یہ کہ لکھنوی معاشرے میں اس حد تک زنانہ پن پیدا ہوچکا تھا کہ بادشاہ وقت نے بعض پلٹنوں کے نام اختری، نادری وغیرہ رکھے ہوئے تھے، ریختی کا وجود معاشرے کے زوال کا عکاس ہے۔ اس دور کے مرد نے سیاسی اعتبار سے جس ناکردگی کا ثبوت دیا اس سے بعض حساس شعرا اپنی جنس سے ہی منحرف ہوگئے اور غیر شعوری طور پر عورتوں کی تقلید کرنے لگے، اس معاشرے میں جو ابتذال اور عامیانہ پن آگیا تھا ریختی میں اس کا بھرپور اظہار ہے۔ نمونے کے طور پر اشعار:

تو نے چڑیا وہ بنائی ہے بس بول پڑے
تیرے ہاتھوں کے میں قرباں گئی مغلانی
تیری چھڑیوں کے دوپٹے سے جو ملتا ہے مزا
لطف یہ پاتے نہیں چھڑیوں کا میلہ دیکھ کر

لکھنو کے حکمران عیاش تھے ساتھ میں وہ بہادر اور باشعور بھی تھے لیکن انگریزوں کی حکمت عملی یہ تھی کہ حکمرانوں کی فوجی طاقت بڑھنے نہ پائے۔ واجد علی شاہ کو انھوں نے اسی لیے برطرف کیا کہ وہ اپنی فوج کی درستگی کی طرف توجہ دے رہے تھے، اودھ میں روپے پیسے کی فراوانی تھی اسی لیے وہاں کے حکمرانوں نے عیش و طرب کو زندگی کا مقصد جانا۔ لکھنو میں ظاہری شان و شوکت پر زیادہ زور دیا جانے لگا، انگریزوں کے بڑھتے ہوئے اقتدار نے شعرا کے اذہان کو فرار کی راہ دکھائی اور محبوب کی سراپا نگاری اور عورتوں کی زبان میں شاعری کرنا دلی تسکین کا باعث سمجھا جانے لگا۔

جس دور میں ہم سانس لے رہے ہیں اس زمانے کی تہذیب و ثقافت بھی اپنے کھوکھلے پن کا احساس دلاتی ہے اور کچھ نیا کرنے کی جستجو سیدھے راستے اور زندگی کے نصب العین سے دور کردیتی ہے۔ اچھے خاصے مردوں نے محض کمانے کھانے کے لیے نئے نئے ذرائع ڈھونڈ لیے ہیں اور وہ نقلی ہیجڑے بن کر شاہراہوں پر بھیک مانگتے اور دوسری برائیوں میں ملوث نظر آتے ہیں۔ میڈیا کا بھی یہی حال ہے، یہاں بھی روپ بہروپ بھر کر کردار ہمارے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

مردوں کا وقار ان کی مردانگی میں ہی پنہاں ہے، تعلیم یافتہ اور مہذب لڑکیوں کا آئیڈیل بہروپیے ہرگز نہیں ہوتے، بلکہ فوجی، ڈاکٹر، ماہر تعلیم اور بینکرز وغیرہ ہوتے ہیں۔ اور اللہ بھی روپ بہروپ کو پسند نہیں فرماتا ہے۔ روز قیامت جو جس کی شباہت اختیار کرے گا وہ ان کے ساتھ ہی اٹھے گا۔

رہا طنز و مزاح کا معاملہ تو اس کا استعمال محدود دائرے میں پسندیدہ ہوتا ہے، جس سے کسی کی دل شکنی نہ ہو، ورنہ کچھ حضرات تو موقع کی تاک میں رہتے ہیں کہ کب شکار پھنسے اور اسے دانا ڈالا اور ذلیل و رسوا کرنے کے مواقعوں سے پورا پورا فائدہ اٹھایا جائے۔ اگر شعر و ادب کی صلاحیت ہے تب اس کے ذریعے اپنے بغض و عناد کا اظہار کرنا بھی لازم و ملزوم سمجھا جاتا ہے، ہجو گوئی، ریختی، پست خیال کا اظہار یا طنز کرنا عزت و منزلت کا باعث ہرگز نہیں ہوتا، جو بات صبر و تحمل اور برداشت میں ہے وہ ان اوچھی حرکتوں میں کہاں؟ ایسی عادتیں سکون و راحت کو کھونے کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔ قلبی اطمینان تو اچھا کرنا اور اچھا چاہنے میں ہے۔ کسی کو ناحق تکلیف پہنچانا، اپنے آپ کو بے سکون اور اﷲ کو ناراض کرنے کے مترادف ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔