کم عمری کی شادی مسائل کے سوا کچھ نہیں، ثمینہ خان

عارف محمود  جمعرات 17 جولائ 2014
وزیراعظم یوتھ پروگرام، بلوچستان کی چیف کوآرڈی نیٹر اور رکن صوبائی اسمبلی ثمینہ خان کی باتیں۔ فوٹو : فائل

وزیراعظم یوتھ پروگرام، بلوچستان کی چیف کوآرڈی نیٹر اور رکن صوبائی اسمبلی ثمینہ خان کی باتیں۔ فوٹو : فائل

ارادے نیک۔ حوصلے بلند۔ چیلنجز ہیں، تو اُن سے نمٹنا بھی جانتی ہیں۔ گفت گو پر خوب گرفت ہے۔ قائل کرنے کے لیے دلائل برتنے میں ماہر۔ اور یہ قابل فہم ہے کہ اسکول کے زمانے میں شمار شعلہ بیاں مقررین میں ہوتا تھا۔ اب سیاسی داؤ پیچ بھی سیکھ گئی ہیں۔

وزیراعظم یوتھ پروگرام، بلوچستان کی چیف کوآرڈی نیٹر، ثمینہ خان کی توجہ کا محور بلوچستان کی خواتین ہیں۔ اُن ہی کی فکر دامن گیر رہتی ہے۔ چاہتی ہیں؛ وہ آگے آئیں، اور صوبے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔

ارادوں کے بعد اُن کے حالات زندگی کا جائزہ لیتے ہیں:

ثمینہ خان کا تعلق پشتون قبیلے مروت سے ہے۔ اُن کے والد، محمد خان مروت پولیس ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ تھے۔ ملازمت کے سلسلے میں مختلف شہروں میں وقت گزرا۔ ثمینہ خان کی پیدایش بلوچستان کے ضلع قلات میں ہوئی۔ سات بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہیں۔ چاروں بھائی گورنمنٹ سروس میں ہیں۔ ابتدائی تعلیم کوئٹہ کے فیڈرل اسکول سے حاصل کی۔ میٹرک ماڈل اسکول سے کیا۔ پھر والد کی ملازمت خاندان کو ایبٹ آباد لے گئی۔ وہاں سے انٹر کیا۔ اس سرسبز علاقے کی یادیں ذہن میں محفوظ ہیں۔

خوش مزاجی ابتدا سے ساتھ ہے۔ اسکول کے زمانے میں خاصی شرارتیں کیں، لیکن سزا سے یوں محفوظ رہیں کہ طالبہ ذہین تھیں۔ اس زمانے میں کرکٹ اور بیس بال کھیلتی رہیں۔ ایبٹ آباد کے بعد ڈیرا اسماعیل خان کا رخ کیا۔ ڈی آئی خان کالج سے گریجویشن کیا۔ بلوچستان یونیورسٹی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔

تعلیم مکمل ہوتے ہی شادی ہوگئی۔ اُن کے شوہر، شکیل احمد بلوچ محکمہ بی اینڈ آر میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔ دو بچے ہیں۔ بیٹی کی عمر سات برس، بیٹا آٹھ سال کا ہے۔ کہتی ہیں؛ شادی کے بعد پانچ سال تک گھرداری پر توجہ دی۔ اس کے بعد نیشنل کمیشن آف ہیومن ڈیویلپمنٹ ( این سی ایچ ڈی)کے ایجوکیشن سیکشن سے وابستہ ہوگئی۔ اِس سمت آنے کا مقصد بلوچستان کے عوام میں شعور اجاگر کرنا تھا۔ ’’بلوچستان میں تعلیم سے متعلق زیادہ آگاہی نہیں۔ ہم کوالٹی ایجوکیشن پرکام کرتے رہے۔ خواہش تھی کہ لوگوں میں شعور ہو، اور وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کرسکیں۔‘‘

ملازمت کے دوران سیاست میں دل چسپی پیدا ہوئی۔ رحجان بڑھا، تواستعفیٰ دے دیا۔ 2003 میں نیشنل پارٹی کے پلیٹ فورم سے اِس سفر کا آغاز کیا۔ جب سیاست کی جانب آئیں، تو بھائیوں نے بھرپور سپورٹ کیا۔ کہتی ہیں،’’میری شادی بلوچ فیملی میں ہوئی ہے۔ تو گھریلو ذمے داریوں اور اپنی روایات، سب کو پیش نظر رکھا۔‘‘

سیاست کے لیے نیشنل پارٹی کیوں منتخب کی؟ اس کا جواب یوں دیتی ہیں،’’اس لیے کہ میں نیشنلسٹ ہوں۔ پہلے پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کی ممبر بنی۔ بعد میں مجھے ویمن ونگ کا جنرل سیکرٹری بنا دیا گیا ۔‘‘ ثمینہ صاحبہ کے مطابق اِس میدان میں اُنھوں نے بزرگ سیاست داں، ڈاکٹر عبدالحئی اور نواب ثناء ا ﷲ زہری سے بہت کچھ سیکھا۔ نواب ثناء اﷲ زہری ن لیگ کے صوبائی صدر تھے۔ اُن کے گھرانے سے ثمینہ صاحبہ کے خاندان کے اچھے مراسم تھے، جو 2007 میں اُنھیں ن لیگ میں لے آئے۔ کہتی ہیں،’’زہری صاحب نے بلوچستان کے لیے سنجیدہ کوششیں کیں۔ اُن کے جذبے نے مجھے بہت متاثر کیا۔ 2008 میں مَیں بلوچستان ویمن ونگ کی صدر ہوگئی۔ جو ذمے داریاں دی گئیں، انھیں بہ خوبی نبھایا۔‘‘

عورت ہیں، اور عورتوں کے مسائل خوب سمجھتی ہیں۔ معروضی حالات پر بھی نظر ہے۔ ویمن ونگ کی صدر کی حیثیت سے عورتوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدام کیا۔ کہتی ہیں،’’یہ وہ دور تھا، جب ن لیگ اپوزیشن میں تھی۔ ہم نے تمام تر مسائل کے باوجود سیاسی جدوجہد جاری رکھی، اور کسی محاذ پر اپنے قائد، میاں محمد نواز شریف کو مایوس نہیں کیا۔‘‘

2013 کے الیکشن میں وہ بلوچستان اسمبلی کی رکن بنیں۔ مرکز میں ن لیگ کی حکومت بنی، تو اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کا موقع مل گیا۔ کہتی ہیں،’’ہماری خواتین بہت ہنرمند ہیں۔ البتہ وہ باہر نکلنے کے بجائے گھروں میں رہتے ہوئے کام کرتی ہیں، جنھیں ہم Home Based workers کہتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کے کاروبار کو فروغ دیا جائے۔ ڈویژن اور ڈسٹرکٹ کی سطح پر سینیٹرز بنیں۔ ہم اس ضمن میں کام کر رہے ہیں۔‘‘

ثمینہ خان Harassment کو ایک گمبھیر مسئلہ تصور کرتی ہیں۔ ’’گھر سے باہر نکلنے والی خواتین کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ Harassment بل وفاق نے بنایا تھا۔ یہ پاس ہوچکا ہے۔ صوبائی اسمبلی بھی اپنا بل لا رہی ہے۔ یہ اچھا اقدام ہے۔ ضرورت اِس بل کے اطلاق کی ہے، تاکہ خواتین کو تحفظ ملے، اور وہ آزادی سے ملکی ترقی میں کردار ادا کرسکیں۔‘‘

کم عمری کی شادیوں کے وہ سخت خلاف ہیں۔ بہ قول اُن کے، اِس کے خلاف چائلڈ میرج بل تیار ہے، جو جلد اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ ’’بل کی تیاری میں علمائے کرام اور سول سوسائٹی سے بھی مدد لی گئی ہے۔ سب نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ لڑکی اور لڑکے کی شادی کی کم سے کم عمر 18سال مقرر کی جائے۔ کوئی شق مذہب کے خلاف نہیں۔ لڑکی اور لڑکے؛ دونوں کے لیے مناسب عمر یہی ہے۔ یورپ کے کئی ممالک میں شادی کی عمر 21 سال مقرر ہے۔‘‘ اُن کے نزدیک کم عمری کی شادی مسائل کے سوا کچھ نہیں۔ ’’میاں بیوی کے اختلافات اور رشتوں کے ٹوٹنے کا ایک سبب کم عمری کی شادی بھی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ توازن ہو۔ اس توازن سے ترقی کا رستہ نکلے گا۔‘‘

وہ بے سہارا خواتین کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہیں ۔ توجہ کوئٹہ اور سبی کے شلٹر ہومز کی حالت اور کارکردگی بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔ کہنا ہے،’’جیلوں میں قید خواتین کی حالت افسوس ناک ہے۔ انھیں انتہائی نامساعد حالات کا سامنا ہے۔ ایسی تربیت درکار ہے، جو اُنھیں سماج کے لیے کارآمد بنا سکے۔ ہم چاہتے ہیں کہ جیلوں میں تربیتی سینیٹرز قائم کیے جائیں، جہاں اُنھیں ہنر مند بنایاجائے۔ اس کے لیے ٹیم کی ضرورت ہے، جس کی تشکیل کے لیے ہمیں ذاتی مفادات کو پیچھے چھوڑ کر اجتماعی مفادات کی بات کرنا ہوگی۔‘‘

خواتین کا کوٹا اُن کے نزدیک ایک اہم ایشو ہے۔ ’’ہمارے ہاں خواتین کی تعداد 50 فی صد سے زاید ہے، لیکن ہر شعبے میں اُن کا کوٹا کم ہے۔ قانون نے خواتین کو اسپیشل کوٹے کا حق دیا ہے، لیکن اِس پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ یہ تبدیلیاں آئیں گی، تو معاشرہ آگے کی سمت بڑھے گا۔‘‘

سیاست داں ہیں، سماجی کارکن کی حیثیت سے بھی مصروف ہیں، ایسے میں گھر کی ذمے داریاں کیسے سنبھالتی ہیں؟ یہ سوال پوچھا، تو کہنے لگیں،’’میں نے گھر میں مینجمنٹ کا فارمولا وضع کر رکھا ہے۔ ملازموں کو بھی اِس کی تربیت دی ہے۔ بچوں کی تمام ضروریات کا خود خیال رکھتی ہوں۔ گھر پر ہوں، تو سارا وقت بچوں کو دیتی ہوں۔ خود ہی کھانا پکاتی ہوں۔ بچے ہمارا اثاثہ ہیں، ہمیں اُن کی تربیت پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔‘‘

دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا اچھا لگتا ہے۔ کسی نہ کسی طرح مصروفیات میں سے وقت نکال ہی لیتی ہیں۔آؤٹنگ کا شوق ہے۔ باقاعدگی سے سفر پر نکلتی ہیں۔ سردیوں میں دبئی اور اسلام آباد، گرمیوں میں افریقا، سری لنکا، برطانیہ جانا پسند ہے۔ سرکاری دوروں پر بھی جانا ہوتا ہے۔ ’’بائی روڈ‘‘ سفر کرنا پسند ہے۔ ڈرائیونگ کے دوران ہلکی پھلکی موسیقی سے لطف ہوتی ہیں۔ نیوز چینلز توجہ کا مرکز ہیں۔ ہوٹلنگ بھی کرتی ہیں۔ شاپنگ کا بھی شوق ہے۔ رجائیت پسند ہیں۔ مشکل حالات میں اعصاب پر قابو رکھتی ہیں۔ کوئی بھی مسئلہ ہو، پہلے اپنے دل کی آواز سنتی ہیں۔ جو دل کہے، اس پر عمل کرتی ہیں۔ خوش لباس ہیں، البتہ خواہش ہے کہ لباس کے بجائے اپنی سوچ سے خود کو منوائیں۔’’سیاست داں پبلک فگر ہوتے ہیں۔ ہمیں رول ماڈل تصور کیا جاتا ہے۔ اِسی نقطۂ نگاہ سے میں سادگی اپناتی ہوں۔ سادگی ہی میں خوب صورتی ہے۔ البتہ سینڈلز کے انتخاب میں بہت حساس ہوں۔‘‘ موتیے کی مہک اچھی لگتی ہے۔ سبز، نیلا اور سیاہ رنگ پسند ہیں۔ اسکالرز کی باتیں سننا، اُن کی محفلوں میں بیٹھنا اچھا لگتا ہے۔

کئی سماجی تنظیموں کی جانب سے ایوارڈز سے نوازا گیا۔ یوتھ پروگرام کی چیف کوآرڈی نیٹر کی حیثیت سے سراہا گیا۔ آج کل خواتین کے لیے بزنس سینٹرز بنانے اورکوئٹہ سٹی کے ماسٹر پلان پر کام کر رہی ہیں۔ چاہتی ہیں، خواتین وزیراعظم یوتھ پروگرام سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کریں۔ ’’نوجوان مستقبل کے معمار ہیں۔ یہ پروگرام اُن کے لیے بہت کارآمد ہے۔ میں تمام لوگوں کو یقین دلانا چاہتی ہوں کہ وزیر اعظم کے تمام وعدوں پر عمل ہوگا۔‘‘

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔