تخت لاہور کو آزاد کرانے کی تمنا

نصرت جاوید  جمعـء 18 جولائ 2014
nusrat.javeed@gmail.com

[email protected]

ایک بار پہلے بھی لکھ چکا ہوں اور اب شدت کے ساتھ اپنی بات دہرانے پر مجبور۔ مُکدی گل یہ ہے کہ اپنے تئیں Crisis Management  کے ماہر بنے شہباز شریف کو ’’اصل گیم‘‘ ہی سمجھ میں نہیں آ رہی۔ وہ ابھی تک اس گمان میں مبتلا ہیں کہ اگر ان کے بھائی کسی نہ کسی طرح جنرل مشرف کے معاملے میں ’’ہتھ ہولا‘‘ رکھنے کو تیار ہو جائیں تو پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے لیے ’’ستے خیراں‘‘ کا بندوبست ہو جائے گا۔

بتدریج نواز شریف یقینا اب اس راہ کو بنانے کی سمت چل نکلے ہیں جو مشرف صاحب کو سکون سے اپنی ریٹائرمنٹ کی زندگی گزارنے میں مدد گار ثابت ہو گی۔ کسی زمانے میں افتخار چوہدری کے جنونی پرستار سمجھے جانے والے چند لکھاریوں کی حالیہ تحریریں پڑھیں تو جنرل مشرف کی ممکنہ راحتوں کے بارے میں آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اپنے تئیں ان راحتوں کی راہ میں رکاوٹ بنتے میرے یہ دوست مگر کھل کر اس فارمولے کا ذکر نہیں کر رہے جو اس ضمن میں ان دنوں اعلیٰ ریاستی ایوانوں میں زیر غور ہے۔

مجھے اس فارمولے کی تفصیلات کا پورا علم ہے۔ صحافتی ا خلاقیات کی وجہ سے مگر چپ رہنے پر مجبور ہوں۔ فی الحال بس اتنا لکھ دینا ہی کافی ہے کہ مشرف کو ممکنہ راحت پہنچانے والا یہ نسخہ آئینی اور قانونی حوالوں سے ہمیشہ ’’حکیم ِحاذق‘‘ مانے جانے والے شریف الدین پیرزادہ صاحب نے تیار کیا ہے۔ عدلیہ بحالی کی تحریک کے دوران چیف کے جانثار جو ایک زمانے میں بے شمار ہوا کرتے تھے شریف الدین پیرزادہ کو اپنا ’’ولن نمبر1‘‘ گردانا کرتے تھے۔

موصوف بڑی ہوشیاری سے سین سے غائب ہو گئے۔ میڈیا کی ہیڈلائنوں میں ہمیشہ موجود رہنے کی انھیں ویسے بھی کبھی عادت نہیں رہی۔ خاموشی سے ایک کونے میں دبک کر ’’باریک کام‘‘ کرنے کے عادی ہیں۔ باریک کام کے ضمن میں ان کی مہارت ہمیشہ انھیں ’’اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے‘‘ جیسے ڈرامائی اُتار چڑھائو سے دوچار کرتی رہتی ہے۔ آئینی حوالوں سے باریک کاموں والے نسخے مگر صرف ان کے پاس ہیں۔

خاندانی حکیموں کی طرح کسی غیر کو وہ اس کی بھنک بھی نہیں پڑنے دیتے۔ آرام سے گھر بیٹھے رہتے ہیں۔ ریاستی ستونوں کے ’’ہم ہوئے، تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے‘‘ طاقتور افراد جب کسی معاملے میں پھنس جاتے ہیں تو دروازہ انھیں کا کھٹکھٹاتے ہیں اور ان کے دروازے سے مایوس کوئی نہیں لوٹتا۔ ویسے بھی نسخہ انھیں مفت بانٹنے کی عادت نہیں۔ درباری حکیموںوالے ناز نخرے اُٹھواتے ہیں۔ یہ بات پوری طرح جانتے ہوئے کہ ان کا دیا ہوا نسخہ کارآمد ثابت نہ ہوا تو شاہی جلال والے انھیں دیوار میں چنوا دیں گے۔

پیرزادہ صاحب کی ذات اور ان کے جنرل مشرف کی ممکنہ راحت کے لیے سوچے فارمولے کے بارے میں اس سے زیادہ لکھنے کی ہمت مجھ میں نہیں۔ ویسے بھی پوری توجہ اس کالم میں ’’اصل گیم‘‘ پر دینی ہے جو شہباز شریف صاحب کو ابھی تک سمجھ نہیں آ رہی۔ اشاروں کنایوں اور لگی لپٹی میں بات کرنے کا وقت اب لد چکا۔ اس ’’برملا‘‘ میں برملا کہنا چاہ رہا ہوں کہ کئی برسوں کے بعد اس ملک کے حاضر و فارغ سیاست دانوں، نام  نہاد Establishment میں بیٹھے ان کے سرپرستوں اور اچھی پوسٹنگوں پر فائز ہونے کے خواہش مند سرکاری افسروں کو اب یہ امید نظر آ رہی ہے کہ پاکستان کے آبادی کے حوالے سے سب سے بڑے صوبے یعنی پنجاب کو شریف خاندان سے بآسانی ’’آزاد‘‘ کرایا جا سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی 1988ء سے اس خواہش میں مبتلا رہی۔ اسے 1993ء تو نصیب ہوا مگر اٹک سے رحیم یار خان تک کی بادشاہی میاں منظور وٹو کا مقدر بنی۔ محترمہ نے ان سے استعفیٰ لیا تو پیپلز پارٹی کو اپنا وزیر اعلیٰ دینے کا موقعہ ہی نہیں ملا۔ بٹھانے والوں نے ہما سردار عارف نکئی کے سر پر بٹھا دی۔ بات مگر چل نہ پائی۔ 1997ء ہو گیا۔ نواز شریف بھاری مینڈیٹ سے ایک بار پھر وزیر اعظم بن گئے۔ پنجاب انھوں نے اپنے چھوٹے بھائی کے حوالے کر دیا اور ان دونوں سے کوئی سیاسی قوت تخت لاہور نہ چھین پائی۔ بالآخر یہ فریضہ جنرل پرویز مشرف کو ہی سر انجام دینا پڑا۔

اپنا اقتدار مستحکم کرنے کے بعد جب جنرل مشرف کو ’’جمہوری ڈھانچے‘‘ کی ضرورت پڑی تو پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو دے دیا گیا۔ وہ 2008ء کی لہر کے سامنے ٹھہر نہ سکے اور بالآخر شہباز شریف دوبارہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بن گئے۔ 2008-13ء کے درمیانی پانچ سالوں میں شہباز صاحب گڈگورننس کی علامت بنے رہے۔ وجہ اس کی بنیادی طور پر یہ تھی کہ میڈیا اور عدلیہ کا اصل نشانہ اس سارے عرصے کے دوران صدر آصف علی زرداری اور ان کے بنائے وزیر اعظم رہے۔

ان سے اگر کبھی فرصت ملتی تو میڈیا KPK کے ’’ایزی لوڈ‘‘ کا ذکر کر ڈالتا یا بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کا وہ معرکتہ الآرا فقرہ کہ ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے اصلی ہو یا نقلی۔ سید قائم علی شاہ کو دق کرنے کے لیے MQM ہی کافی تھی اور کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی کہانیاں۔ پنجاب اس پورے تناظر میں واحد صوبہ نظر آتا جہاں شہباز شریف کی ولولہ انگیز قیادت میں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہوئی نظر آتیں۔ ہمارا ہمہ وقت مستعد ہونے کا دعوے دار میڈیا جالبؔ کے متوالے شہباز شریف صاحب کی کامرانیوں کے گن تو بہت گاتا رہا۔ مگر کسی نے یہ زحمت ہی گوارہ نہ کی کہ اس ’’نسخے‘‘ کے عناصر پر بھی غور و خوض کر لیا جائے جس کی بدولت پنجاب میں ’’گڈ گورننس‘‘ قائم ہوئی دِکھ رہی تھی۔

شہباز صاحب کے ساتھ اب کی بار بدقسمتی یہ ہوئی کہ اسلام آباد میں زرداری اور گیلانی نہیں ان کے اپنے سگے بھائی بیٹھے ہیں۔ افتخار چوہدری بھی اب سپریم کورٹ کے کمرہ نمبر 1 میں نہیں بیٹھتے۔ میڈیا کو کہانیاں بنانے کے لیے اسلام آباد سے کوئی زیادہ مواد نہیں مل رہا۔ اب نظر اکثر پنجاب پر بھی لوٹ جاتی ہے۔ وہاں دیکھیں تو عمران خان کی صورت ایک لیڈر ہے جس کے اِرد گرد پڑھے لکھے شہری طبقات کا ایک گرم جوش ہجوم نظر آتا ہے۔ کبھی ان طبقات کی ترجمانی صرف اور صرف پاکستان مسلم لیگ کا اجارہ تھی۔ پیپلز پارٹی نے اس اجارے کو توڑنے کی سنجیدگی سے کوشش ہی نہ کی۔

1990ء سے اسی گمان میں مبتلا رہی کہ زرعی معیشت سے جڑے قومی اور صوبائی حلقوں میں ذات برادری اور دھڑوں کے حوالے سے کئی طاقتور لوگ اس کے ساتھ ہیں۔ پنجاب کے شہروں اور وہاں کے نچلے اور متوسط طبقے کو پیپلز پارٹی نے نہایت غیر ذمے داری سے فراموش کر دیا۔ ایسا کرتے ہوئے کبھی یاد ہی نہ رکھا کہ ان کی جماعت کا قیام 1967ء میں ڈاکٹر مبشر حسن کی لاہور والی کوٹھی میں ہوا تھا۔ پیپلز پارٹی ان دنوں کسی راجپوت، گوجر، جاٹ یا کشمیری کی جماعت نہیں تھی۔ اس کی اصل روح ایک ترقی پسند سوچ تھی جو کسی نہ کسی صورت معاشرے کے پسماندہ اور بچھڑے ہوئے طبقات کی ترجمان تھی۔

اقبالؔ کی بدولت شہری طبقات کو متحرک کرنے کے بعد ہی قائد اعظم کی مسلم لیگ نے اس وقت کے پنجاب میں 1946ء کا جلوہ دکھایا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے یہی معرکہ 1970ء میں مارا۔ 1988ء سے وہ شہری طبقات جو کسی بھی وجہ سے نواز شریف اور ان کی جماعت سے وابستہ نہ ہو سکتے تھے اپنے لیے کوئی متبادل ڈھونڈتے ہی رہ گئے۔ عمران خان کے 31 اکتوبر 2011ء کے مینارِ پاکستان والے جلسے نے انھیں یہ متبادل فراہم کر دیا۔

رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے نسلی حوالے سے ’’گجرات سے آئے گوجر‘‘ شفقت محمود کا لاہور سے قومی اسمبلی کی ایک نشست جیتنا اس متبادل کی طاقت کا اصل اظہار ہے۔ شہباز شریف اور ان کے عبقری افسران نے کبھی اس متبادل کا حقیقی معنوں میں تجزیہ نہیں کیا۔ اور اب ’’ماڈل ٹائون‘‘ بھی ہو چکا ہے جس نے کم از کم ایک بات واضح کر دی کہ شہباز صاحب اتنے بھی Hands on  Administrator نہیں جیسا ان کے بارے میں تصور کیا جاتا ہے۔

شریف برادران کے سیاسی مخالفین اب طے کر بیٹھے ہیں کہ تخت لاہور کو شہباز شریف سے ’’آزاد‘‘ کرانا ’’ایک دھکا اور دو‘‘ والی بات بن گیا ہے۔ اُمید کی لو ان کے دلوں میں موجزن ہو چکی ہے۔ شہباز صاحب اپنے ہمدم دیرینہ چوہدری نثار علی خان کی معاونت اور ’’حکیمِ حاذق‘‘ کے دیے مشرف کو ممکنہ راحت پہنچانے والے نسخے کے استعمال کے بعد بھی اس لو کو بجھانا تو دور کی بات ہے مدہم بھی نہیں کر پائیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔