(پاکستان ایک نظر میں) - خان صاحب خدارا ایک فیصلہ کرلیجیے!

خزیمہ سلیمان  ہفتہ 19 جولائی 2014
خان صاحب برائے مہربا نی آپ ایک دفعہ خوب سوچ و بچار کے بعد یہ وا ضح کر دیں کہ آخر آپ کی نظر میں کون اچھا ہے اور کون بُرا۔ فوٹو: فائل

خان صاحب برائے مہربا نی آپ ایک دفعہ خوب سوچ و بچار کے بعد یہ وا ضح کر دیں کہ آخر آپ کی نظر میں کون اچھا ہے اور کون بُرا۔ فوٹو: فائل

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک صوبے کی حکومت کا ذائقہ چکھ کرخان صاحب کو معلوم ہو گیا ہے کہ یہ تو اپنے بس کا کام نہیں۔ اس لیے وہ اب ااپنی تمام تر توانائی شور و غوغا کرنے میں صرف کر رہے ہیں کہ شاید لوگ اُن کی صوبائی حکومت کی مایوس کن کارکردگی کو نظر انداز کر دیں گے۔۔دراصل اُنہیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ حکومت کرنا، باتیں کرنے سے زیادہ مشکل کام ہوتا ہے۔ 

ہم نے تو پڑھا تھا کہ سیاسی پارٹیاں اپنے نظریے اور اصولوں کی بنیاد پر پہچانی جاتی ہیں ۔خان صاحب کی ماضی کی تقریروں اور موقف نے ہی تبدیلی کی خواہاں عوام کے دلوں میں ایک نئی اُمیدپیدا کی تھی۔ مگر اُن کے حالیہ بیان یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اُنہوں نے بھی روایتی سیاستدانوں کی طرح صرف الیکشن جیتنے کے لیے ہی یہ سب باتیں کی تھیں۔اُن کے ماضی کے بیانات اور تقاریر کو دیکھ کر ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اُن کی نظر میں کون ٹھیک ہے اور کون غلط۔ یا اُنکے نظریاتی ساتھی آخر کون ہیں اور آئے دن ان میں تبدیلی کیوں آتی رہتی ہے؟اُن کے وہ بیانات جو ہماری اُلجھن کا باعث بن رہے ہیں،اُن میں سے چند آپ بھی ملاحظہ کیجیے۔

اب آپ خود ہی بتائیں خان صاحب کہ جس انسان کو آپ اپنا چپڑاسی رکھنا پسند نہیں کرتے تھے،کیا وجہ ہے کہ اب وہ آپ کے نزدیک ترین اتحادی ہیں اور روز رات ٹی وی شوز پر آپ کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں؟ آپ بھی ان کی ہر بات میں تائید کرتے ہیں، یہ آپ کی اور آپ ان کی مدد سے راولپنڈی میں الیکشن بھی جیتے اور اب آپ ہی کے ساتھ اپوزیشن بھی کرتے نظر آ رہے ہیں۔ یہ آپ کے بارے میں اور آپ ان کے بابت کیا خیالات رکھتے تھے ،یاد دہانی کے لیے ذرا ملاحظہ کیجیے،

قدرت بھی انسان کو کیسے کیسے دن دکھاتی ہے،جو حضرت آپکو ایک نشست کا طعنہ مارتے تھے اب خود اُن کی ساری کی ساری پارٹی ایک نشست پر گھومتی ہے۔ معاملہ صرف ایک انسان کا ہو تو کہا جا سکتا ہے کہ پارٹی کے سیاسی استحکام کے لیے کبہی کبہی ایسا کرنا پڑ جاتا ہے مگر جناب اب اگر آپ اپنی ہر بات سے پھر جائیں تو اس کو کیا کہا جائے؟ ابھی کل کی بات ہے کہ آپ جنہیں لٹیرے کہہ کر واصل جہنم کرنے کا رادہ رکھتے تھے،اب اُن کے ساتھ شیر و شکر ہوتے نظر آتے ہیں، بھلا خود بتائیے کہ جو لوگ تمام عمر ڈکٹیٹر اور مارشل لاء کے بل بوطے پر سیاست کرتے رہے اُن کے ساتھ گڑینڈ الائینس بنا کر جمہوریت کو کیسے بچایا جا سکتا ہے؟

رہی سہی کسر آپ نے قبلہ زرداری صاحب کے دور کو بہتر قرار دے کر پوری کر دی،شاید یہ وہی زرداری صاحب ہیں جن کے صدر بننے کے خلاف آپ نے بھرپور احتجاج کیا تھا ،آپ وزیر اعظم بن جانے کی صورت میں اُن سے حلف لینے سے بھی انکاری تھے،آپ اُنہیں کرپشن کا بادشاہ بھی کہتے تھے اور ایسے کئی القابات سے آپ نے اُنہیں نوازا جو کسی بھی طور پارلیمانی اخلاقیات کو ملحوظ خاطر رکھتے نہیں دیے جاسکتے تھے۔آپ اُنہیں مشرف سے بھی بدترقرار دیتے تھے اور اب آپ اُن کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔

آپ کا طرز سیاست دیکھ کر ایک واقعہ یاد آتا ہے،کسی گاوں میں ایک آدمی نے کھٹارا سی بس خریدی،وہ روزانہ اُس میں اپنے دوستوں کو بٹھاتا اور بس لے کر گاوں میں نکل پڑتا، جہاں چاہتا،کبھی بھی،کہیں بھی اس کا رُخ موڑ لیتا، جسے چاہتا گاڑی میں سوار کر لیتا اور جسے چاہتاناراض ہو کر دروازہ کھول کے باہر دھکا دے دیتا،اس بس کا کوئی روٹ تھا اور نہ ہی کوئی منزل،،بس ڈرائیوراسے اپنی تفنن طبع کے لیے یہاں وہاں گھماتا رہتا ہے اور یہ بسیں ماحول کو متعفن اور آلودہ کرنے ،شور مچانے،راستہ روکنے اور فصلوں کو تباہ کرنے کے سواکچھ نہ کرتی تھی،تحریک انصاف بھی مجھے اب سیاسی پارٹی کم اور خان صاحب کی پبلک بس زیادہ لگنے لگی ہے۔

آپ کے جیالے شدید شش و پنج میں مبتلا ہیں کہ آیا وہ کس کے حق میں سوشل میڈیا پر تحریک چلائیں اور کس کے خلاف آپ سے اپنی محبت کا حق ادا کریں آپ کے روز روز بدلتے بیان اور تبدیل ہوتی پسندو نا پسند نے اُنہیں ایک عذاب میں ڈال رکھا ہے ۔ برائے مہربا نی آپ ایک دفعہ خوب سوچ و بچار کے بعد یہ وا ضح کر دیجیے کہ آیا آپ کی نظر میں کون اچھا ہے اور کون بُرا،تاکہ آپ کے جیالے اُس کے مطابق اپنی محبت کا حق ادا کر سکیں۔ کچھ سیانے لو گ یہ کہتے سنائی دیے ہیں کہ خان صاحب کو اللہ نے اپنا آپ ثابت کرنے کا بہترین موقع دیا ہے اگروہ اپنے صوبے میں اپنے وعدوں ا ور دعووں کے مطابق کام کر کے دکھائیں،وہاں اپنے وژن کو عملی شکل دیں اور لوگوں کی زندگیوں میں وہ تبدیلی لائیں جس کا اُنہوں نے وعدہ کیا تھا،تو پھر انہیں یہ سب کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں پڑے گی۔ اور اگلے الیکشن میں عوام خود اُن کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آئے گی۔ مگر خان صاحب کو بھلا ایسوں کی بات پر کان دھرنے کی کیا ضرورت،خان صاحب خود بڑے سیانے ہیں۔

نوٹ: روزنامہ ایکسپریس  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔