اصل روح …

شیریں حیدر  ہفتہ 19 جولائ 2014
 Shireenhaider65@hotmail.com

[email protected]

’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے، تا کہ تم متقی اور پرہیز گار بنو!‘‘

روزے کی فرضیت سے متعلق یہ ارشاد باری تعالی سورۃ البقرہ سے ہے۔ اس کی رو سے اندازہ کرنا قطعی مشکل نہیں کہ روزے صرف ہم مسلمانوں پر ہی نہیں بلکہ ہم سے پہلی امتو ں پر بھی فرض کیے گئے تھے، جن میں سے کئی ابھی تک اس کو قائم رکھے ہوئے ہیں کہ کسی نہ کسی حالت میں روزے رکھتے ہیں مثلاً میں نے عیسائیوں میں دیکھا کہ وہ خود پر کوئی ایک چیز ایک ماہ کے عرصہ کے لیے حرام کر لیتے ہیں یعنی ایک ماہ وہ چیز نہیں کھاتے یا پیتے۔ عموما شراب، گوشت یا نئی نسل نے چاکلیٹ اور کولڈ ڈرنک وغیرہ کا روزہ رکھا ہوتا ہے۔ ہندوؤں میں ، جیسا کہ ہم سب فلموں میں دیکھتے ہیں، مختلف مواقع پر ایک روزہ رکھتے ہیں مثلاً شوہر کی زندگی کے لیے… جسے وہ شام کو چاند نکلنے پر شوہر کو براستہ چھلنی دیکھ کر افطار کرتی ہیں۔ اسی طرح مختلف مذاہب میں روزے مختلف اشکال میں رائج ہیں ۔

اسلام کی آمد نے انسان کو انسانیت کے اعلی درجے تک پہنچا دیا، سرکار دو عالم، سرور کائنات … حضرت محمد ﷺ کی حیات طیبہ ہمارے لیے ایک روشن مثال کی صورت ہے… وہ شمع جس نے تاریکیوں میں اجالا کیا، پستیوں اور تاریکیوں میں گرے انسانوں کو ہدایت کا وہ درس دیا جو ہمارے اللہ کا پیغام اور رہتی دنیا تک قائم رہنے والا ہے۔ انﷺ کی حیات طیبہ کا ایک ایک لمحہ ہدایت کی صورت اور کتاب ہدایت کا ایک ایک ورق مکمل ضابطہء حیات ہے۔ جس نے اس کتاب اور سنت رسول ﷺ کا راز پا لیا، اس نے گویا انسانیت کی معراج کو پا لیا۔

ہم پر روزے فرض کر کے کیا مطلوب ہے؟ کہ ہم متقی اور پرہیز گار بنیں!! سحری کے وقت اٹھنا، اس پہر کو پانا، نہ صرف کھانے پینے کے لیے بلکہ اللہ باری تعالی سے براہ راست رابطہ کرنے کے لیے ہے۔ وہ جسے رات کے اس پہر اٹھنے والوں سے بالخصوص پیار ہے… اسے ان سے پیار ہے جن کے پیٹ بھوک کے باعث ان کی پسلیوں سے لگے ہوئے ہوتے ہیں، اسے ان سے محبت ہے جو پیاس سے سوکھی زبان سے اس کا نام لیتے ہیں، کام کرتے ہیں، صبر کرتے ہیں، دوسروں کی بھوک اور پیاس کا احسا س کرتے ہیں ، اسے اچھی لگتی ہے وہ بو جو روزہ دار کے منہ سے آتی ہے ، اسے درکار ہے ہمارا تقوی اور پرہیز گاری… مگر ہم تو دنیا داری میں الجھے ہوئے لوگ ہیں۔

رمضان سے چند ہفتے قبل ہی ہم منصوبہ بندی شروع کر دیتے ہیں کہ کھجور، بیسن، گھی، مشروبات، پھل، میوہ جات اور دیگر اشیائے خوردنی مہنگی ہو جانیوالی ہیں… سو ہم جس جس چیز کا ممکن ہوتا ہے ذخیرہ کر لیتے ہیں۔ چند دن قبل ہم فہرستیں بنا لیتے ہیںکہ کن کن لوگوں کی اور کتنی افطاریاں کرنا ہو نگی، چاہے بجٹ پر جتنا بھی بوجھ پڑے مگر افطار پارٹیاں تو لازم ہیں کہ انھی سے ناک اونچی ہوتی ہے۔ پورے رمضان میں استعمال کے لیے گھر پر کباب، سموسے ، رولز، دہی بڑے، دہی پھلکیوں اور پاپڑیوں کا اسٹاک تیار کر لیا جاتا ہے کہ رمضان میں چکھنا ممکن نہیں ہوتا۔

نت نئے رواج ملک میں جگہ پا گئے ہیں… پہلے سنتے تھے کہ مشرق وسطی کے ممالک میں رمضان میں چھٹیاں ہو جاتی ہیں یا یونہی دفاتر میں کام نہیں ہوتا۔ اب یہ رواج ہمارے ہاں بھی در کر آیا ہے، کچھ راتوں کو دیر تک جاگنے کی اس نئی نسل کو ویسے ہی عادت ہو گئی ہے کچھ اس دفعہ فٹ بال کے ورلڈ کپ نے خوب جگایا… رات کا وہ پہر پا لیا، مگر اس کی روح نہ پائی تو کیا پایا۔ سحری تک جاگ کر اپنی موج مستی کی، سحری میں پراٹھے اور مرغن کھانے کھا کر مارے باندھے فجر پڑھ کر جو سوتے ہیں تو دن کے تیسرے پہر کی خبر لاتے ہیں۔ آوے کا آوا ہی بگڑ گیا ہے، گھر کے سبھی افراد یہی معمول اپنائے ہوئے ہیں، خواتین بھی ہڑبڑا کر اٹھتی ہیں اور افطار کی تیاری میں جت جاتی ہیں۔ میزیں سج جاتی ہیں ، اذان کی آوازسنتے ہیں تو گویا ایک خاموش آواز کہتی ہے… attack اور منٹوںمیں پلیٹوں میں سجے لوازمات پیٹوں میں چلے جاتے ہیں، ہلنے کی سکت نہیں رہتی، مغرب کی نماز پڑھتے ہوئے سجدوں کے دوران کھانا منہ میں پلٹ پلٹ کر آتا ہے۔

نماز پڑھ کر ایک تہہ چائے سے بٹھائی جاتی ہے اور اگلے کورس کے لیے تیار، کھانا رات دیر گئے کھایا جاتا ہے اور پھر ہر روز کا وہی معمول۔ رات بھر منچلے جاگتے ہیں مگر سڑکوں پر کرکٹ کھیلتے ہوئے، ہوٹلوں اور ریستورانوں میں جا کر دوستوں سے گپ بازی کرنے کو۔ کیا کسی نے روزے کی اصل روح کو پایا ہے… ایسا نہیں کہ سب لوگ ہی ایسے ہیں، زیادہ تعداد یقینا ایسے لوگوں کی ہے جو معمول میں بھی سادہ خوراک ہیں اور ماہ رمضان کو خو دکے لیے تحفہ سمجھتے ہوئے اس کے ایک ایک لمحے سے فیضیاب ہونا چاہتے اور اس کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے محبوب ہیں ، جنھیں اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مہینہ بالخصوص قرب الٰہی کا وسیلہ ہے۔ ان جیسا بننا تو شاید ہر کسی کے لیے ممکن نہ ہو مگر کم از کم یہ تو کیا جا سکتا ہے کہ اس ماہ کو پرہیز گاری کے ساتھ گزارہ جائے، تقوی کے نچلے ترین درجے کو چھونے کی کوشش کی جائے۔

روزے سے اللہ کو ہمارا فاقہ مقصود نہیں… اس کی تقسیم کو وہی جانتا ہے کسی کو اتنا نوازتا ہے کہ اسے شمار نہیں کرنا آتا اور کسی کو اتنا محروم رکھا ہوا ہے کہ وہ بمشکل اپنی زندگی کی گاڑی کھینچتا ہے۔ یہ مہینہ جس کے آغاز سے ہی زکوۃ دینے کا امر بھی ہے، اسی بات کا درس دیتا ہے کہ اللہ نے جو تقسیم کی ہے اس کے مطابق معاشرے میں جن لوگوں کے پاس زیادہ ہے وہ اللہ کے دیے ہوئے میں سے ان لوگوں کو دیں جن کے پاس کم ہے، اس سے کچھ نہ کچھ اعتدال پیدا ہو سکتا ہے۔ اس پر بھی لوگ کہتے ہیں کہ اللہ ( نعوذ باللہ) بھی تو سب کو اعتدال سے دے سکتا تھا؟ اس نے تو یہ کائنات بنائی تو ہر چیز کا متضاد بھی بنایا… رات نہ ہو تو ہمیں دن کا ادراک کیسے ہو؟ بیماری نہ ہو تو تندرستی کی نعمت کو ہم کیا جانیں؟ غم نہ ہو تو خوشی کا تاثر نہ ہو، غر بت نہ ہو تو امیر کو کیسے احساس ہو کہ اس کے پاس کیا کیا نعمتیں ہیں۔ اس نے ہمیں دل دیا، دماغ دیا، جذبات دیے اور ان سب کو ایک مثبت راہ پر رکھنے کے لیے کتاب حکمت اور سنت رسولﷺ ہمیں عطا کیں ۔

کیا کبھی ہمیں نظر آتاہے کہ ہمارے گرد کس قدر افلاس، محرومیاں ، مجبوریاں اور ضرورتیں ہیں، جن میں ہم جیسے انسان اسیر اپنی سانسیں پوری کر رہے ہیں۔ کبھی وہ مجبور ہو کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتے ہیں تو کبھی اپنے بال بچوں سمیت زندگی کی قید سے رہائی پا جاتے ہیں… کیونکہ وہ اپنی غربت اور مجبوری کو اپنا نصیب تو سمجھ لیتے ہیں، اپنی مقدور بھر کوشش بھی کر لیتے ہیں مگر اسے ختم کرنے کی کوئی راہ نہیں پاتے۔ اپنے ارد گرد ہم جیسے بے حس لوگوں کو دیکھتے ہیں جو اس پیسے کو پانی کی طرح بہاتے ہیں جس کی ایک ایک پائی ان کی کئی ضرورتیں پوری کر سکتی ہے، وہ اپنی غربت سے نہیں بلکہ ہماری، آپ کی، انتظامیہ کی، اداروں کی اور … حکومت کی لاتعلقی سے ہار جاتے اور اپنے لیے غلط راہ کا انتخاب کر لیتے ہیں۔ انھیں اللہ پر لاکھ یقین ہو مگر اپنی اور اولاد کی مجبوری انھیں صحیح اور غلط کی تمیز بھلا دیتی ہے۔

روزہ منہ باندھ کر ، سو کر یا دن بھر لغویات اور کھیل تماشوں میں مصروف رہ کر وقت گزارنے کا نام نہیں ہے، اپنے ارد گرد دیکھیں ، ان لوگوں کو جو سال بھر اسی طرح اپنا پیٹ کاٹتے اور بھوک اور پیاس کی حالت میں بھی کام کرتے رہتے ہیں ۔ انھیں دن بھر کی مشقت سے اسی قدر حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے کنبے کو ایک وقت کا کھانا ہی کھلا پاتے ہیں اور وہ بھی روکھا سوکھا۔ ماہ رمضان میں زکوۃ ادا کرنے سے نہ صرف ہم اپنے مال کی طہارت کر لیتے ہیں بلکہ اس مہینے اور اس کے انعام میں ملنے والی عید سعید کی خوشیوں میں بھی انھیں شامل کر لیتے ہیں۔ روزہ درس دیتا ہے برداشت کا، خود کو روکنے کا… ہر برائی سے، بد کلامی سے، جھگڑے سے، بد کاری سے، فحش گوئی سے، گالی گلوچ سے۔ اپنے نفس پر قابو پانا اہم ہے، نفس جو ہمارے کردار کی تشکیل کرتا ہے۔

اللہ کو ہرگز مقصود نہیں ہمارا دن بھر کا فاقہ اور اس کے بعد خوراک کو زندگی کی آخری خوراک سمجھ کر کھانا… اسے درکار ہے کہ ہم دن بھر روزہ ہونے کے باعث جو کچھ نہیں کھاتے وہ دوسروں میں تقسیم کر دیں ۔ ہمیں ذی شعور بنایا کہ ہم ہر عبادت کے مقصد اور روح کو سمجھیں، جس بھوک سے ہم چند گھنٹوں میں نڈھال ہو جاتے ہیں، وہ جن کا ازلی مقدر ہے ان کی دلی کیفیت کو سمجھیں، ان کی مدد کریں، ان کی طلب کا احساس کریں اور ہمارے پاس جو کچھ ہے، (اللہ تعالی نے زکوۃ کی حد اڑھائی فیصد مقرر کی تو ایسا نہیں کہ ہم اسے کافی سمجھیں، یہ حد کم از کم کے لیے ہے) جتنی استطاعت ہے اور جو کچھ ہماری ضرورت سے زیادہ ہے اسے تقسیم کریں، خوشیاں تقسیم کریں ، دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیریں تو ہی ماہ رمضان بلکہ سال بھر کے لیے آپ کو بھی دلی سکون اور خوشی حاصل ہو گی… وہ خوشی جو دنیا کی کسی اور چیز سے حاصل نہیں ہوتی ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔