آخر کیوں؟

مقتدا منصور  پير 21 جولائ 2014
muqtidakhan@hotmail.com

[email protected]

بہت سے لوگ اور خود میاں نواز شریف بھی اکثر و بیشتر یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں، جب سابقہ حکومت کو ناقص کارکردگی کے باوجود پانچ سال مکمل کرنے کا موقع دیدیا گیا تو پھر مختلف حلقے ان کی حکومت کو وقت سے پہلے ختم کرنے پر کیوں آمادہ ہیں۔ سوال درست ہے۔ جمہوریت میں حکومت اچھی ہو یا بری، اسے اپنی مدت پوری کرنے کا آئینی حق حاصل ہوتا ہے۔ مڈ ٹرم انتخابات آئین کے مطابق ضرور ہوتے ہیں، مگر ان کی نوبت اس وقت آتی ہے، جب حکومت خود محسوس کرے کہ اس سے مزید حکومت نہیں ہو سکتی یا پھر اس کے اپنے حلیف ساتھ چھوڑ دیں اور اسمبلی میں اکثریت کھو جائے۔

مگر پاکستان کا معاملہ مختلف ہے۔ قصور کس کا ہے، یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے۔ لگتا ہے عجلت پسندی کا شکار ہونے کی وجہ سے سبھی غلطی پر ہیں۔ مسائل کے ادراک اور ان کے حل کی صلاحیت کے حوالے سے بھی سیاسی جماعتوں پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ حالانکہ 32 برس تک مسلط رہنے والی آمریتیں بھی ڈیلیور کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ لیکن عوام اور سول سوسائٹی بہرحال سیاسی جماعتوں سے ہی توقع رکھتے ہیں کہ وہ بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے عوامی مسائل حل کرنے کی جانب پیش قدمی کریں گی۔ مگر جب ایسا نہیں ہوتا تو مایوسی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

یوں ’’وہ حبس ہے کہ لو کی دعا مانگتے ہیں لوگ‘‘ کے مصداق اسی آمریت کی دوبارہ تمنا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جس کی عطا کردہ خرابیوں کو آج تک بھگت رہے ہیں۔ مگر اس کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ سیاسی جماعتوں میں مسائل کی ترجیحات کا تعین کرنے اور انھیں حل کرنے کی صلاحیت کا فقدان ہے۔ اسی لیے اپنی اصلاح کرنے کے بجائے پھوہڑ عورتوں کی طرح اپنی غلطیاں دوسروں پر لادنے کی کوشش کرتی ہیں۔ حکمرانی میں پائی جانے والی خرابیاں، خامیاں اور کمزوریاں اپنی جگہ، مگر کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ بعض اہم اور بااثر حلقے میاں صاحب کے تین وجوہات کے باعث مخالف ہیں۔

اول بھارت سمیت پڑوسیوں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کا تصور۔ دوئم، سول اور ملٹری بیوروکریسی کو منتخب حکومت کے تابع لانے کی خواہش اور کوشش۔ سوئم، سابق فوجی سربراہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت قائم مقدمہ۔ مگر لگتا ہے حکومت ان حساس اور نازک معاملات کو احسن طور پر سمجھنے اور نمٹانے میں ناکام ہیں۔ اسی لیے سابقہ حکومت کے مقابلے میں کم خراب کارکردگی کے باوجود ان کی حکومت کو چلنے نہیں دیا جا رہا۔ یہاں اول الذکر دو وجوہات سے صَرفِ نظر کرتے ہوئے اپنی توجہ صرف تیسرے نکتے تک محدود رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

گزشتہ بدھ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور وزیر اعظم میاں نواز شریف کے قریبی اور بااعتماد ساتھی احسن اقبال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے خلاف جو ملک گیر سیاسی ابال نظر آ رہا ہے، اس کے پس پشت وہ قوتیں ہیں جو جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت قائم مقدمہ کے خاتمے کی خواہشمند ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب آپ کے علم میں ہے کہ اندرون اور بیرون ملک وہ قوتیں خاصی مضبوط ہیں جو سابق فوجی آمر کو رہا کرانا چاہتی ہیں، تو آپ نے اس پھڈے میں غلط انداز میں ٹانگ اڑانے کی کیوں کوشش کی؟

احسن اقبال صاحب سے عرض یہ ہے کہ آپ کے قائدین لوگوں کے بہکاوے میں آ کر اتنی جلدی بانس پر کیوں چڑھ جاتے ہیں؟ اگر ترکی کے عبداﷲ گل اور طیب اردگان ان کا رول ماڈلز ہیں، تو کم ازکم ان ہی کی حکمت عملیوں ہی کا باریک بینی سے مطالعہ کر لینا چاہیے تھا۔ اگر ایسا کر لیتے تو شاید وہ خفت نہ اٹھانا پڑتی جس کا آج شکار ہیں۔ ان صفحات پر پہلے بھی تحریر کیا جا چکا ہے کہ ترکی کے متذکرہ بالا ان دونوں رہنمائوں نے اقتدار میں آنے کے بعد سب سے پہلے عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کر کے عوام کا اعتماد حاصل کیا پھر فوج کے کردار کو محدود اور انتظامیہ کو سول حکومت کے تابع لانے کی کوشش کی۔ نتیجتاً یہ اقدام کرتے ہوئے انھیں عوام کی حمایت اور اعتماد حاصل تھا۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کچھ حالات کا تقاضا اور کچھ خطے کی تبدیلی ہوتی صورتحال کی وجہ سے فوج نے سیاسی عمل سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب اگر آپ اسے مزید دور کرنا چاہتے ہیں تو صرف مثبت اقدامات ہی سے اس خواہش کی تکمیل ممکن ہے۔ لیکن فوج کے سابق سربراہ کی جس انداز میں تذلیل کی گئی، اس نے حکومت کے بارے میں منفی تاثرات کو ابھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بعض حلقوں کے مطابق وزراء کی لاف گزاف کا مقصد فوج کو دوبارہ سیاسی عمل میں مداخلت پر اکسانے (Instigate) کے مترادف ہے۔ اس میں شک نہیں کہ آئین شکنی کے مرتکب افراد پر مقدمہ قائم ہونا چاہیے اور قانون کے مطابق انھیں سزا بھی ملنی چاہیے۔ مگر صرف فرد واحد کو انتقام کا نشانہ بنانا، دراصل selected justice leads to victimization کے مصداق ہے۔ اس متنازع مقدمے سے جان چھڑا لیتی تو شاید معاملہ اس حد تک سنگین نہ ہو پاتا۔

کیا مسلم لیگ (ن) کے مدنظر وہ سوالات نہیں ہیں، جو مختلف عوامی حلقے پرویز مشرف پر قائم مقدمے کے حوالے سے اس پر عائد کر رہے ہیں۔ جن میں سے چند یہ ہیں۔ اول، مسلم لیگ (ن) 12 اکتوبر 1999ء کے فوجی ٹیک اوور سے کیوں صرف نظر کر رہی ہے؟ کیا اس عمل کا مقصد ماضی کے مخصوص جرنیلوں سمیت مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے والے اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں کو بچانے کی کوشش تو نہیں ہے؟ دوئم، 3 نومبر کی ایمرجنسی کی ذمے داری اکیلے مشرف پر عائد کرنے پر کیوں مصر ہے؟ کیا جنرل کیانی سمیت اس وقت کے فارمیشن کمانڈرز، سیاسی حکومت اور اس کی حلیف جماعتیں اس فیصلے میں شریک نہیں تھیں؟ انھیں اس مقدمے سے الگ کیوں رکھا گیا ہے؟

حکمران جماعت کے رہنمائوں کی اس بات میں وزن ہے کہ بعض نادیدہ قوتیں پاکستان میں سیاسی عمل کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتی ہیں۔ مگر سیاسی جماعتیں بھی غلط فیصلوں میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں۔ کبھی یہ اپنے قد سے بڑھ کر چھلانگ لگانے کی کوشش میں زمین پر آ رہتی ہیں، تو کبھی بھیگی بلی بن کر اسٹیبلشمنٹ کے ہر غلط اقدام کو بھی جواز فراہم کر دیتی ہیں۔ ان رویوں سے یہ اندازہ ہوا متوازن راہ اختیار کرنا شاید ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ اگر تاریخ پر نظر ڈالیں تو سول اور ملٹری بیوروکریسی نے جو کچھ کیا وہ اپنی جگہ، لیکن سیاسی قیادتوں نے اپنے غلط فیصلوں سے فوج کو اقتدار سنبھالنے کے کم مواقع فراہم نہیں کیے۔

پاکستان کا ہر متوشش شہری یہ سمجھتا ہے اور چاہتا ہے کہ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے۔ وہ جماعتیں جو مختلف طریقوں سے حکومت پر بے جا دبائو ڈال رہی ہیں، وہ اپنے اعتراضات اور تحفظات پارلیمان میں لے کر جائیں اور انتخابی عمل کے علاوہ دیگر کمزوریوں اور خرابیوں کے ازالے کے لیے قانون سازی کرانے کی کوشش کریں، تا کہ ان مسائل کا مستقل اور پائیدار حل سامنے آ سکے۔ لیکن مسلم لیگ (ن) کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ عوام نے اسے مسائل حل کرنے کا مینڈیٹ دیا ہے، انتقامی کاروائیوں کے لیے منتخب نہیں کیا ہے۔ اس لیے جس قدر جلد ممکن ہو پرویز مشرف کے خلاف قائم متنازع اور غیر ذمے دارانہ مقدمے سے جان چھڑائے اور اپنی توجہ ملک کو درپیش مسائل کے حل پر مرکوز کرے۔ اس میں اس کا اپنا بھی بھلا ہے اور ساتھ ہی ملک میں جمہوری عمل کو لاحق خطرات کے کم ہونے کے قوی امکانات بھی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔