(میڈیا واچ ڈاگ) - کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی!

فرخ اظہار  پير 21 جولائ 2014
ایسی اشیاء جو دکانوں میں موجود ہر ایک کی دسترس میں ہیں، تو پھر ان کے لیے اتنے جتن کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

ایسی اشیاء جو دکانوں میں موجود ہر ایک کی دسترس میں ہیں، تو پھر ان کے لیے اتنے جتن کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

حضرتِ انسان ایجادات کا بادشاہ ہے۔ اپنے تخیل کی اڑان اور عقل کے استعمال سے اس نے اپنی سہولت، آرام، آسائش اور ضروریات پوری کرنے کے لیے قسم قسم کی اشیاء تیار کی ہیں۔ معمولی اوزار سے لے کر دیوہیکل مشینیں اس کی دماغی صلاحیتوں کا نتیجہ ہیں۔ انسان اپنی پیدائش کے وقت ہی سے زمین پر صنعت گری میں الجھا ہوا ہے اور آج اپنی بے پناہ ترقی اور انواع و اقسام کی ایجادات کی بدولت خود بھی نازاں اور حیران و پریشان بھی ہے۔ 

یہ ڈیجیٹل دور ہے۔ ایک ’کلک‘ کے سہارے ہزاروں کام انجام پارہے ہیں بلکہ بہت جلد آنکھوں کے اشارے سے مختلف آلات کو پیغام دے کر انسان کوئی بھی کام لینے کے قابل ہوسکے گا۔ ٹیلی ویژن بھی ایسی ہی مشین ہے جو دنیا بھر کی خبریں دینے کے ساتھ ہماری تفریح کا سامان بھی کررہی ہے۔ ٹی وی پر عام اشیاء اور روزمرہ استعمال کی مختلف پروڈکٹس کے اشتہارات بھی دیکھے جاتے ہیں۔ معروف اور چھوٹی بڑی کمپنیاں ٹیلی ویژن سے صارفین کو اپنی پروڈکٹ کی جانب متوجہ کرتی ہیں۔

اشتہار ساز ادارے عام لوگوں کی دلچسپی اور کمزوریوں کو سمجھتے ہوئے اربوں روپے کا بزنس کرتے ہیں۔ یہ لوگ خوبصورت چہروں (زیادہ تر لڑکیوں) اور ذہن پر گہرا اثر ڈالنے والے سلوگنز کے ساتھ منفرد اشتہاری مکالموں اور لوکیشنز کی بدولت اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں مخصوص پروڈکٹس کے استعمال سے بہتر جسمانی نشوونما اور اچھی صحّت کا حصول ممکن بتاتے اشتہارات بھی شامل ہیں، لیکن یوں لگتا ہے کہ ہمارے لیے اخلاقی قدروں، سماج اور ثقافت سے ہم آہنگی مشکل ہو گئی ہے یا یہ کاروباری قول ہم میں راسخ ہو گیا ہے کہ ’دکھے گا نہیں تو بکے گا نہیں‘۔

بلوغت کے بعد لڑکیوں کے مخصوص استعمال کی پروڈکٹ اور ازدواجی زندگی خوشگوار بناتے ہوئے چھوٹے کنبے کی افادیت کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دینے والا اشتہار آپ نے بھی دیکھا ہو گا۔ اسکول کی لڑکیاں ہر لمحہ ’رہو تیار‘ کہتے ہوئے بھاگتی دوڑتی ہیں اور یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ایک پروڈکٹ نے ان کی زندگی آسان بنا دی ہے۔ اسی طرح دوسرے برانڈ کے اشتہار میں ماڈل گرل کپڑوں میں داغ لگنے کی مصیبت سے آزاد اور بے فکری سے معمولات زندگی انجام دیتی نظر آتی ہے۔

ان اشتہارات میں لڑکیوں کے چہروں سے جھلکتی خوشی اور بے فکری اپنی جگہ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ٹی وی اسکرین کے سامنے بیٹھے بڑے اپنی جگہ سمٹ جاتے ہیں، چھوٹے وہاں سے اٹھ جانے میں عافیت جانتے ہیں، لیکن معصوم بچے تو ہر روز کچھ نیا سیکھنا چاہتے ہیں اور وہ ماں باپ یا دیگر اہل خانہ سے پوچھ بیٹھتے ہیں کہ ’یہ کیا ہے، آنٹی اتنی خوش کیوں ہیں؟‘

دوسری جانب پُرجوش مرد اور عورت کا چہرہ بھی اسکرین پر دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ مانع حمل پروڈکٹس کے اشتہارات ہیں۔ پاکستان میں ایک ایسے اشتہار کو بندش کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ ان کا بھی وہی معاملہ ہے کہ معصوم بچے کچھ نہ سمجھ کر الجھ جاتے ہیں اور ماں باپ یاگھر دیگر بڑوں سے اپنی الجھن کی سلجھن طلب کرتے ہیں۔

خاندانی منصوبہ بندی اور جسمانی تبدیلیوں سے آگاہی دینا یقیناً ضروری ہے، لیکن ہمیں ثقافت کے لحاظ سے نامناسب اشتہارات پر نظرِ ثانی اور جنس کے بارے میں غیرسنجیدہ رویہ ترک کرنے کی ضرورت بھی ہے۔ عوامی رائے یہ کہ ایسی پروڈکٹس کی تشہیر کے لیے کوئی اور ڈھب بھی اپنایا جاسکتا ہے۔ بھئی! آپ نے غیرمعروف چینلوں پر چلنے والے چھوٹے چھوٹے اشتہارات بھی تو دیکھے ہوں گے۔ کیا ان بڑی بڑی کمپنیوں کو اپنے برانڈ مشتہر کرنے کا یہ طریقہ زیادہ مؤثر نہیں لگتا؟۔

ہمارا خیال ہے کہ یہ ایسی اشیاء ہیں جن کا استعمال ناگزیر ہے اور یہ دکانوں میں موجود ہر ایک کی دسترس میں ہیں تو پھر ان کے لیے اتنے جتن کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس سوال کا جواب یہ کمپنیاں اور اشتہار ساز ہی دے سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے وہ ایسا کچھ جانتے ہوں جو ہم نہیں جانتے۔

نوٹ: روزنامہ ایکسپریس  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔