سرسید نے مسلمانوں کو بند گلی سے نکال کر جدید علوم کی جانب راغب کیا، ڈاکٹر محمد شکیل اوج

اقبال خورشید  جمعرات 24 جولائ 2014
معروف اسکالر اور ڈین فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز، کراچی یونیورسٹی، ڈاکٹر محمد شکیل اوج کے حالات و خیالات۔   فوٹو : فائل

معروف اسکالر اور ڈین فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز، کراچی یونیورسٹی، ڈاکٹر محمد شکیل اوج کے حالات و خیالات۔ فوٹو : فائل

وہ ایک مسحور کن منظر تھا۔ مسجد کے پُرسکون ماحول میں درجنوں طلبا آگے پیچھے ہلتے ہوئے سبق یاد کر رہے تھے۔ اُن کی حرکت میں بھی تنظیم تھی۔ ایک بچہ کچھ دُور کھڑا، آنکھوں میں تجسس لیے، اُنھیں دیکھ رہا تھا۔ مولوی صاحب نے فاتحہ کرائی، تو اُسے بھی مٹھائی بھجوائی۔ بچے نے اِسے اشارہ جانا۔ آگے بڑھا، اور خواہش ظاہر کی؛ میں قرآن پاک حفظ کرنا چاہتا ہوں!

یوں محمد شکیل اوج کا سفر شروع ہوا۔ فطین طالب علم تھے۔ دینی علوم کے ساتھ تعلیمی سلسلہ بھی جاری رکھا۔ تدریس کا پیشہ اختیار کیا۔ تحقیق کی سمت آنا لگ بھگ فطری تھا۔ قرآن پاک ریسرچ کا محور رہا۔ سُلجھے ہوئے انداز میں، دانائی کے ساتھ اپنا موقف پیش کرنے والے ڈاکٹر شکیل کا شمار روشن خیال مفکرین میں ہوتا ہے۔ اجتہادی نقطۂ نگاہ رکھتے ہیں۔ ان کے متعدد مقالات ملکی و بین الاقوامی جراید کا حصہ بنے۔ تصانیف کی تعداد 14 ہے۔ ’’اصول تفسیر و تاریخ تفسیر‘‘ پہلی کتاب تھی، جو 87ء میں شایع ہوئی۔

علمی حلقوں نے خاصا سراہا۔ تین برس بعد ’’اصول حدیث و تاریخ حدیث‘‘ کی اشاعت عمل میں آئی۔ اُس کے تین ایڈیشنز شایع ہوچکے ہیں۔ پی ایچ ڈی تھیسس ’’قرآن مجید کے آٹھ منتخب اردو تراجم کا تقابلی جائزہ‘‘ بھی کتابی شکل میں تین بار شایع ہوا۔ ایک ایڈیشن دہلی سے چھپا۔ دیگر کتب ’’صاحب قرآن ﷺ‘‘، ’’تعبیرات‘‘، ’’نسائیات‘‘، ’’خواجہ غلام فرید کے مذہبی افکار‘‘ اور ’’افکار شگفتہ‘‘کے زیر عنوان شایع ہوئیں۔ فتووں کی کتاب زیر ترتیب ہے۔

کتابچوں میں غزوۂ بدر اور حضور اکرم ﷺ کی جنگی اور سیاسی حکمت عملی، اسلامی سائنس کے یورپ پر اثرات، آئمہ مجتہدین کے اختلافات اور ان کی نوعیت، تفہیم الاسلام: چند مغالطے اور اُن کے ازالے اور احمد رضا خان بریلوی کی شخصیت پر قلم اٹھایا۔

اس وقت وہ کراچی یونیورسٹی کی فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز کے ڈین ہیں۔ رواں برس ’’ڈی لِٹ‘‘ کی ڈگری تفویض ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد کے بورڈ آف ٹرسٹی کے رکن اور ملایشیا سے نکلنے والے معروف ریسرچ جرنل JIHAR کے ایڈیٹوریل بورڈ کے ممبر بھی ہیں۔

انتہاپسندی کو وہ قرآنی تعلیمات سے متصادم پاتے ہیں۔ اُن کے مطابق جس کے پاس عقل اور بصیرت ہوگی، وہ کبھی اسلحہ نہیں اٹھائے گا۔ ’’شدت پسند رجحانات رکھنے والوں نے قرآن مجید پڑھا ضرور، مگر سمجھا نہیں۔ طاقت آئی، تو علماء کو بھی یرغمال بنا لیا۔ دلیل کے بجائے طاقت کے زور پر اپنی بات منوانے کے رویے کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘

قلق ہے کہ ہمارے ہاں دینی علوم کے میدان میں تحقیقی رجحان پروان نہیں چڑھ سکا۔ اِس کا سبب وہ مسلکی قیود کو ٹھہراتے ہیں، جس سے انسان کے سماجی اور معاشی مفادات وابستہ ہوجاتے ہیں۔ ’’ان ہی مفادات کی وجہ سے لوگ حقیقت عیاں ہونے کے باوجود مسلک کی زنجیر سے نہیں نکل پاتے۔ میں کئی مساجد کا خطیب رہا ہوں، مگر میرے لیے خطابت پاؤں کی زنجیر نہیں بنی۔‘‘

اب توجہ ان کے حالاتِ زندگی پر مرکوز کرتے ہیں:

یوسف زئی پٹھان ہیں۔ 1960 میں شاہ فیصل کالونی، کراچی میں آنکھ کھولی۔ والد، عبدالحمید خان نے یوپی سے ہجرت کی۔ یہاں آکر ایک دکان کر لی۔ انتہائی شفیق اور ملن سار آدمی تھے۔ قدم قدم پر بیٹے کی راہ نمائی کی۔ دس بہن بھائیوں میں وہ چوتھے ہیں۔ شمار معتدل مزاج بچوں میں ہوتا۔ اسکول کی ہاکی ٹیم کا حصہ رہے۔

گھر کا ماحول روایتی معنوں میں مذہبی نہیں تھا۔ اِسی لیے جب انھوں نے دینی تعلیم حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی، تو والد کو بڑی حیرانی ہوئی۔ اُنھوں نے مدرسہ نور القران سے حفظ کیا۔ پہلی بار اُس وقت تراویح پڑھائی، جب مسیں بھی نہیں بھیگی تھیں۔ 77ء میں آرٹس سے میٹرک کرنے کے بعد علامہ اقبال کالج کی نائٹ شفٹ میں داخلہ لے لیا۔ صبح میں ڈاکٹر فضل الرحمان انصاری کے ادارے مرکز اسلامی سے اکتساب علم کرتے رہے۔ شاہ فیصل کالونی کے مدرسہ قادریہ سبحانیہ سے سند الفراغ حاصل کی۔ نضرۃ العلوم کے موجودہ شیخ الحدیث، علامہ غلام جیلانی کو اپنا اصل استاد کہتے ہیں۔ درس نظامی کی اکثر کتب ان ہی سے پڑھیں۔

82ء میں گریجویشن کے بعد اردو کالج کا حصہ بن گئے۔ وہاں پروفیسر حافظ محمود حسین صدیقی اور ڈاکٹر بشارت احمد جیسے اساتذہ کی سرپرستی میسر آئی۔ 86ء میں اسلامک اسٹڈیز میں فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن میں ماسٹرز کی سند حاصل کی۔ اِسی عرصے میں جامعہ کراچی سے صحافت اور قانون میں ماسٹرز کیا۔ پوزیشن ہولڈر، حافظ قرآن، فاضل درس نظامی؛ جنوری 87ء میں اردو کالج سے بہ طور لیکچرر وابستہ ہونا حیران کن نہیں تھا۔ آٹھ برس بعد جامعہ کراچی کے شعبۂ علوم اسلامی سے جڑ گئے۔

باقاعدہ ٹیسٹ کے مرحلے سے گزرے، جس میں ٹاپ کیا۔ 97ء میں اسسٹنٹ پروفیسر اور2005  میں پروفیسر کے منصب پر فائز ہوئے۔ شعبۂ علوم اسلامی کے چیئرمین رہے۔ یکم فروری 2012 کو ڈین کا عہدہ سنبھالا۔ یہ فیکلٹی تین شعبوں؛ شعبۂ علوم اسلامی، شعبۂ قرآن و سنت اور شعبۂ اصول دین پر مشتمل ہے۔ سیرت چیئر اور شیخ زید اسلامک سینٹر بھی اِسی کے تحت ہیں۔ سیرت چیئر کے ڈائریکٹر کا اضافی چارج بھی اُن ہی کے پاس ہے۔

کئی طلبا نے اُن کی سرپرستی میں تحقیق کی۔ خود کو خوش نصیب ٹھہراتے ہیں کہ جن سولہ طلبا نے ان کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کیا، اُن میں اُن کے استاد اور سابق ڈین فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز، پروفیسر غلام مہدی بھی شامل تھے۔

شعبۂ علوم اسلامی میں داخلوں کی شرح کو وہ حوصلہ افزا قرار دیتے ہیں۔ گذشتہ برس 120 اسٹوڈنٹس رجسٹرڈ ہوئے۔ طالبات کی تعداد زیادہ ہے۔ سبب یوں بیان کرتے ہیں،’’اکثریت اُن طالبات کی ہوتی ہے، جن کا مستقبل میں ملازمت کرنے کا ارادہ نہیں ہوتا، البتہ وہ تعلیم مکمل کرنا چاہتی ہیں۔ خواتین میں مذہبی رجحان زیادہ ہوتا ہے۔ تو وہ اِس مضمون کو مزاج کے قریب پاتی ہیں۔ شعبۂ قرآن وسنت اور شعبۂ اصول دین میں البتہ لڑکے زیادہ آتے ہیں۔ بیش تر کا تعلق دینی مدارس سے ہوتا ہے۔‘‘

ایک عام رائے ہے کہ اسلامک اسٹڈیز سمیت آرٹس کے تمام مضامین اپنی معاشی حیثیت کھو چکے ہیں، طلبا کو ملازمتیں نہیں ملتیں۔ اس بابت پوچھا، تو کہنے لگے،’’دینی مدارس کے بیش تر طلبا یہاں سے ماسٹرز کے بعد مدارس ہی میں ملازمت اختیار کرتے ہیں کہ یہ ان کے مزاج کے قریب ہے۔ کچھ لوگ تدریس کی جانب آجاتے ہیں۔ پاک فوج کی مساجد میں امام اور خطیبوں کے لیے اسلامک اسٹڈیز میں ماسٹرز ہونا شرط ہے۔ پھر اگر طالب علم ذہین ہے، تو وہ کسی بھی شعبے میں جگہ بنا سکتا ہے۔ ایسے کئی معروف صحافی ہیں، جنھوں نے دینی مدارس سے تعلیم حاصل کی۔‘‘

2000 میں اُنھیں پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض ہوئی۔ بعد کے برسوں میں عصر حاضر میں مسلم خواتین کے کردار پر تحقیق کی۔ اِس ریسرچ کو اپنی، بیس ابواب میں منقسم، 2012 میں شایع ہونے والی کتاب ’’نسائیات‘‘ میں پیش کیا۔ کتاب کا بہت چرچا ہوا۔ کچھ حلقوں نے تنقید بھی کی۔ اِس کا عربی ترجمہ شایع ہوچکا ہے۔ انگریزی میں اشاعت جلد متوقع ہے۔ بہ قول اُن کے،’’تحقیق کی انتہا اجتہاد ہے۔ میں نے اجتہادی نقطۂ نگاہ سے اس معاملے کا جائزہ لیا۔ یہ نہیں دیکھا کہ کون سا مسلک کیا کہتا ہے، کس عالم نے کیا کہا۔ فقط قرآن کو سامنے رکھا۔‘‘

مسلم خواتین اور عصری مسائل کا موضوع زیر بحث آیا، تو پہلے حجاب پر بات نکلی۔ ڈاکٹر صاحب کے بہ قول،’’میری تحقیق کا ماخذ قرآن ہے۔ انسان کے چہرے سے اُس کی شناخت ہوتی ہے۔ تو عورت کا چہرہ کھلا ہونا چاہیے۔ البتہ اگر صورت حال ناموزوں ہے، تو وہ چہرہ ڈھانپ سکتی ہے۔‘‘ خواتین کی ملازمتوں کے خلاف تو نہیں، البتہ اسے پسند نہیں کرتے۔ اُن کے مطابق دیہی زندگی میں خواتین صدیوں سے مردوں کے شانہ بہ شانہ کام کر رہی ہیں، البتہ شہری تقاضے کچھ اور ہیں۔ ’’مرد رزق کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، عورتیں گھر بار سنبھالتی ہیں۔ بچوں کی تربیت کرتی ہیں۔ اگر وہ ملازمت کے لیے باہر نکلیں گی، تو بچوں کی تربیت کون کرے گا؟ ہاں، اگر مجبوری ہے، تو کوئی مضایقہ نہیں۔‘‘

مسلم اسکالرز میں وہ سرسید کی کاوشوں کے معترف ہیں۔ بہ قول ڈاکٹر صاحب،’’میں نے اُن ہی سے اختلاف کرنا سیکھا۔ ان کے عقائد کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ کچھ امور میں مجھے بھی اختلاف ہوگا، البتہ میں یہ کریڈٹ ضرور دوں گا کہ انھوں نے ہندوستانی مسلمانوں کو بند گلی سے نکال کر جدید علوم کی جانب راغب کیا۔ آج جو بڑے بڑے دانش وَر، اسکالر اور سائنس داں ہیں، وہ ان ہی کی کاوشوں کا فیض ہیں۔ سرسید نے کہا تھا؛ قرآن قول خدا ہے، اور پوری نیچر (فطرت) فعل خدا۔ قرآن نے ہمیں دعوت دی ہے کہ ہم کائنات کا مطالعہ کریں۔

یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ہم فطرت کا مطالعہ کرکے خالق فطرت تک نہ پہنچیں۔ کائنات کا ذرہ ذرہ اسی ہستی کا پتا دیتا ہے۔ تو سرسید نے قول خدا کو فعل خدا اور فعل خدا کو قول خدا کی روشنی میں دیکھنے اور سمجھنے پر روز دیا۔ اس پر انھیں نیچری کہہ دیا گیا۔ اس بات کی کیا تُک ہے؟ ہر شخص نیچری ہوتا ہے۔ ہم سب مانتے ہیں کہ اسلام دین فطرت ہے۔‘‘

امین احسن اصلاحی کے کام نے بھی انھیں متاثر کیا۔ ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی تصنیف ’’دو قرآن‘‘ کو شاہ کار کتاب سمجھتے ہیں۔ قائد اعظم کی بصیرت کے قائل ہیں، جنھوں نے مسلکی شناخت کو رد کرتے ہوئے خود کو فقط مسلمان قرار دیا۔

موجودہ جمہوری نظام سے مطمئن نہیں۔ سیاسی جماعتیں اُن کے نزدیک سیاسی مسلک بن گئی ہیں۔ ’’حزب اختلاف کا کردار عوام کو ادا کرنا چاہیے۔ ایشوز کی بنیاد پر حکومتیں بدلی جانی چاہیں، پارٹی کی خواہشات پر نہیں۔‘‘

تحقیقی عمل ڈاکٹر صاحب کو مسرت سے بھر دیتا ہے۔ زیادہ وقت اِسی میں صَرف ہوا۔ ڈی لِٹ کی ڈگری ملنا ایک خوش گوار لمحہ تھا۔ سوٹ میں خود کو آرام دہ محسوس کرنے والے ڈاکٹر محمد شکیل موسم بہار سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ کھانے میں کوئی خاص پسند نہیں۔ شاعری سے گہرا شغف ہے۔ کسی زمانے میں خود بھی شعر کہے۔ غالب اور اقبال کے مداح ہیں۔ مہدی حسن اور احمد رشدی کی آواز اچھی لگتی ہے۔ موجودہ گلوکاروں میں سجاد علی اور رحیم شاہ پسند آئے۔ کسی زمانے میں فلمیں بھی دیکھیں۔ محمد علی کے کام نے متاثر کیا۔ 86ء میں شادی ہوئی۔ چار بیٹے تھے۔ ایک کا انتقال ہوگیا ہے۔ جواں سال بیٹے کی ناگہانی موت کے لمحے شدید کرب سے گزرے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔