گڈ گورننس ہو اور ریاست ماں کی جگہ لے لے تو کوئی بے صبر نہیں ہوگا

اجمل ستار ملک  جمعرات 24 جولائ 2014
مختلف سیاسی و آئینی ماہرین کی ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں گفتگو۔  فوٹو : شہباز ملک

مختلف سیاسی و آئینی ماہرین کی ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں گفتگو۔ فوٹو : شہباز ملک

دنیا کے مختلف ممالک میں حکومتی معیاد ان کے معروضی حالات کے مطابق مختلف ہے، کسی ملک میں تین، کسی میں چار اور کسی میں پانچ سال۔کامن ویلتھ کے 53 ممالک ، جن میں پاکستان بھی شامل ہے،میں زیادہ تر پانچ سالہ حکومتی نظام ہے جبکہ دنیا کے کئی ممالک میں چار سالہ حکومتی نظام بھی رائج ہے۔

سپین، امریکا، سویٹزر لینڈ،نیدرلینڈ،لیٹویا، لبنان،عراق،کوسٹاریکا وغیرہ جیسے ممالک میں چار سال حکومتی میعاد ہے جبکہ آسٹریلیا کے جمہوری نظام میں سب سے کم یعنی تین سالہ حکومتی میعاد ہے۔ہمارے ہاں بھی گزشتہ کچھ عرصہ سے اسمبلیوں کی آئینی مدت پانچ سال سے کم کرکے چار سال کرنے کی تجویز زیر بحث ہے ۔ گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے بھی یہ مدت 4 سال کرنے کی تجویز دیدی۔ اس حوالے سے گفتگو کرنے کے لیے ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں مختلف سیاسی و آئینی ماہرین کو مدعو کیا گیا ۔ پروگرام میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

ایس ایم ظفر (سابق وفاقی وزیرقانون)

خورشید شاہ صاحب ایک سنجیدہ سیاست دان ہیں۔ انہوں نے ایک سنجیدہ موضوع اٹھایا ہے مگر سنجید گی سے نہیں اُٹھایا۔دنیا میں کہیں حکومتی میعاد پانچ سال ہے ، کہیں چار سال ہے اور کہیں تین سال ہے ہر ملک کے اپنے معروضی حالات ہوتے ہیں ۔ اپنے حالات کے مطابق سوچ بچار کرنے والے لوگ حکومتی مدت کو متعین کرتے ہیں۔

لیکن بات یہ ہے کہ ہم بہت ساری حکومتوں کا حوالہ دیتے ہوئے اسلام کا حوالہ نہیں دیتے۔ اب تک اسلام میں تاریخی طور پر دیکھاگیا ہے کہ خلیفہ تا حیات ہوتا ہے وہاں مدت کی گنجائش ہی نہیں ہے۔میراسوال یہ ہوگا کہ آئین میں جب پانچ سال موجود ہیں تو چار سال کیوں کیے جائیں؟ آئین میں ترمیم کوئی معمولی چیز نہیں ہوتی بہت ساری بھاگ دوڑ ہوتی ہے ، پاکستان چار صوبوں کی فیڈریشن ہے جب آپ وفاقی حکومت کی مدت کم کریں گے تو صرف وفاق کی نہیں صوبائی اسمبلیوں کی بھی میعاد کم کرنی ہوگی اور صوبوں کی رائے لینی ضروری ہوجائے گی۔

ہم قوم کو اس موقع پر ایسے جنجال میں کیوں ڈال رہے ہیں، اسی لیے میں نے کہا ہے کہ خورشید شاہ نے اس سنجیدہ مسئلے کو غیر سنجیدگی سے اٹھایا۔ میں اپنے آپ سے خود ہی سوال کرکے خود ہی جواب دے رہاہوں کہ پانچ سے چار سال کیوں کیے جائیں؟ لوگ کہتے ہیں کہ قوم بے صبری ہو جاتی ہے لہٰذااُس بے صبری کو آسودگی دینے کے لیے مدت چار سال کردی جائے۔ میرے نزدیک یہ تصور بالکل غلط ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ قوم کو صبر سیکھاناچاہیے نہ کہ قوم کی بے صبری کو آسُودگی مہیا کی جائے۔کیا پاکستان کا ٹریک ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ چارسال مدت ہونے سے بے صبری ختم ہو جائے گی۔ ابھی تو ایک سال بھی مکمل نہیں ہوا کہ ایک پارٹی’’ سونامی‘‘ اور دوسری ’’انقلابی‘‘ بن گئی ہے۔

محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے درمیان اقتدار کی دوڑ دو سال بعد ہی شروع ہوجاتی تھی۔تو یہ کوئی یقینی بات نہیں ہے کہ چار سال حکومتی میعاد کردی جائے تو قوم کی بے صبری ختم ہوجائے گی۔ قوم کی بے صبری ہمیشہ اچھی حکمرانی سے ختم ہوتی ہے، ہمارے خلیفہ تا حیات اس لیے رہتے تھے کہ وہ حضر ت ابوبکرصدیقؓ اور حضرت عمر فاروق ؓ کی طرح کے خلیفہ تھے جن کا یہ کہنا تھا کہ دریا کے کنارے ایک جانوربھی مر جائے تو وہ اس کے ذمہ دار ہوں گے۔ آج آپ سویڈن میں جائیں وہاں کی ویلفیئر سٹیٹ کا جتنا بھی قانون ہے اس کو عمر ؓ کا قانون کہتے ہیں اوروہاں عوام کو سہولت پہنچانے کے لیے جتنے بھی کورٹس ہیں انہیں ’’عمرکورٹس‘‘ کہتے ہیں۔

مجھے واپس اس سوال پر آنا ہوگا جو الجھن کے طور پر پیدا ہوتا ہے کہ آئین میں ترمیم اس موقع پرکیوں کی جائے؟ اور جو وجہ بیان کی جارہی ہے وہ کوئی معقول وجہ نہیں۔ شیڈو کیبنٹ ایک نام ہی نہیں بلکہ حقیقت میں ایک پوری حکومت ہوتی ہے جو اس بات کی تیاری کررہی ہوتی ہے کہ کل کو اگر حکومت مل گئی تو دوسرے دن مجھے کیا کام کرنا ہوں گے۔

ہمارے ملک میں شیڈو گورنمنٹ ایک ’’پرچھائی‘‘ ہے مگر حقیقت نہیں ہے۔ جہاں شیڈو گورنمنٹ بنی ہو گی وہاں ، تین سال ہوں یا چار سال وہ اپنے منصبوبے مکمل کر کے رہیں گے۔ ہمارے ہاں حکومت کو پہلے سال آکر ہی پتہ چلتا ہے کہ حکومت ہوتی کیا ہے تو باقی چار سال ہی رہ جاتے ہیں۔

مجھے ابھی تک وہ منطق سمجھ نہیں آرہی ہے کہ یہ تجویز کیوں دی گئی ؟ کیا یہ اس ہنگامے میں ایک سوپر ہنگامہ شامل کرنے کے لیے ہے؟ قوم ویسے ہی بکھری پڑی ہے۔جب آپ وعدہ کرکے آتے ہیں کہ لوڈشیڈنگ کو چھ ماہ میں ٹھیک کردو گے اور وہ آپ نہیں کر تے اور ’’گڈ گورننس نہیں کرسکیں گے تو عوام میں بے صبری تو پیدا ہو گی۔ مدت تین سال ہو، یا چار سال ہو یا پانچ سال مجھے اس میں دلچسپی نہیں ہے مگر مجھے یقینی طور پر دوبارہ اسی نقطے پر آنا ہوگا کہ معیاد کی مدت کی بات اس وقت کیوں کی جائے۔ جتنی اکنامک پلاننگ ہوتی ہے وہ پانچ سال کی ہوتی ہے ایوب خان کی اکانومک پلاننگ پانچ سال کی تھی، جس کو کاپی کرکے کوریا نے اتنی ترقی کی۔

معذرت کے ساتھ کہنا چاہوں گا کہ ہم سب نعرے اور گفتگوکی حد تک غیرت مند لوگ ہیں ، مگر ہم امریکہ کے محتاج ہیں، اکنامک ڈیویلپمنٹ، ورلڈ بینک ، آئی ایم ایف سب امریکا کے تابعدار ہیں اور ان کے ڈیویلپمنٹ پروگرام پانچ سال کے ہوتے ہیں۔لہٰذا اگر یہ مدت کم کی جاتی ہے تواس حوالے سے ہم ان سے پیچھے رہ جائیں گے۔اقتصادی ترقی کے لیے جہاں سے ہم نے اقتصادی امداد لینی ہے ان کے مطابق چلنے کے لیے پانچ سال کی مدت مناسب دکھائی دیتی ہے۔

ہم کیوں اتنے بے صبرے ہیں؟ ہمارا جمہوری کلچر کیوں ترقی نہیں پاسکا؟ہم میں برداشت کی کمی کیوں ہے ؟کیا کبھی ہم نے اس پر بھی غور کیا ہے؟ان سب کی جڑہمارے ملک میں تعلیم کی کمی ہے۔ سیاسی جماعتوں میں شخصی چھاپ اس لیے لگتی ہے کہ لوگ کم علم اور جوشیلے ہیں جو ایشوز کا فہم نہیں رکھتے ،وہ کونسا ملک ہے جہاں علم کے بغیر جمہوریت کھڑی ہوئی ہو۔ یہ سب کچھ تب ہی ممکن ہے جب تک ہم جاگیردارنہ ذہنیت کو ختم نہیں کردیتے۔

یہ سب باتیں بعد کی ہیں لیکن ’’گڈگورننس ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کو آسودگی ملے، ان کو عزت ملے ، ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک نہ ہو، جو منہاج القران کے باہر دیکھا گیا اس طرح کے واقعات نہ ہوںاور ریاست ’’ماں‘‘ کی جگہ لینے کے لیے تیار ہو تو کوئی بے صبری نہیں ہوگی۔ عرب قوم ہم سے زیادہ بے صبری ہے چھوٹی چھوٹی بات پر قتل و غارت پر تیار ہوجاتی تھی۔بتوں کی جگہ تبدیل ہونے پر پورے قبائل میں لڑائیاں شروع ہوجاتی تھیں، پانی پر لڑائیاں ہوتی تھیں ، نخلستانوں پرلڑائیاں ہوتی تھیں مگر کسی نے حضر ت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی خلافت پر انگلی تک نہیں اُٹھائی۔ اس لیے مجھے اس سنجیدہ سوال کا جواب سنجیدگی سے نہیں ملا اور میں پانچ سال کی مدت کم کرنے کے حق میں نہیں ہوں۔ آئین میں خرابی نہیں ہے آئین چلانے والوں میں خرابی ہے۔

چوہدری عبدالغفور (سابق وفاقی وزیر قانون)

ہر ملک کے اپنے اپنے معروضی حالات ہوتے ہیں۔ ہمارا ملک ایک فیڈریشن ہے۔ فیڈریشن اس کو کہتے ہیں جو فیڈریٹنگ یونٹس کو ملا کر بنایا جائے اور ہر فیڈریٹنگ یونٹ کی برابر نمائندگی ہوتی ہے ۔ اگر یہ اصول بھی نہ رکھا جائے تو سب سے بڑا صوبہ پنجاب سارے صوبوں کو اوور رول کرے گا اور ایسے میں فیڈریشن زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی۔ اسکا تجربہ ہم نے ایوب خان کے دور میں صدراتی نظام حکومت کی شکل میں کرکے دیکھ لیا ہے، ہمارے ملک کو صدارتی نظام میں بے شمار تجاویز دی جاتی رہی ہیں کہ اس کو فیڈریشن بنادیں، لیکن اس طرح کی فیڈریشن بنا کر ہم نے علیحدگی کی بنیاد رکھ دی تھی۔ چونکہ اس میں پھر اکثریت کا صوبہ ہی حکومت منتخب کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

پاکستان ایک فیڈریشن بھی ہے اور کامن ویلتھ کا رکن بھی۔ ہم نے برطانیہ کی مثال لے کر حکومتی میعاد پانچ سال رکھی ہے ، جہاںآئین تحریری صورت میں نہیں ہے مگر وہ اس پر اس طرح پابند ہیں جس طرح ہم شاید تحریری طور پربھی آئین پر عمل نہیں کرسکتے۔ برطانیہ میں تو یہ مدت ٹھیک ہے کیونکہ وہ اپنی روایات پرسختی سے عمل کرتے ہیں جبکہ ہمارے جیسے ’’نو آموز جمہوریت ‘‘ والے ملک ، جہاں جمہوری روایات جڑ نہیں پکڑ سکیں، کے لیے بہت ضروری ہے کہ حکومتی مدت کم ہو۔ ہمارے ہاں برداشت کی بہت کمی ہے جمہوریت کے لیے بہت ضروری ہے کہ برداشت کا مظاہرہ کیا جائے۔

کسی کی بات سن کر اس سے اختلاف تو کیا جاسکتا ہے لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ اسکو سننے سے انکارکردیں اور طاقت کے زور پر اپنی رائے کو اس کے اوپر مسلط کرنے کی کوشش کریں۔اورتشد د کی سیاست اور تشدد کا جو کلچر ہمارے ملک میں آیا ہے یہ اسی ’’عدم برداشت‘‘ کی ایک نشانی ہے۔ ہم کسی کی رائے نہیں سننا چاہتے اور تلوار اور بندوق کے زور پر اپنی بات منوانا چاہتے ہیں۔ اور یہ کلچر پیدا کہاں سے ہوا؟ معذرت سے عرض کروں گا کہ یہ ہماری آمرانہ حکومتوں کی روایات سے پیدا ہوا۔ ہمارے ملک میں ابتدائی طور پر جب ایوب خان ہمارا وزیر خارجہ بن کر کیبنٹ میں بیٹھتا تھا اور اپنی رائے کو فوقیت دیتا تھا ،تو جب مارشل لگا تو ساتھ یہ کلچر بھی ہمارے ملک میں آگیا۔اس کی ابتدا تو شروع سے ہوگئی تھی۔

پھر ضیا کے دور میں اس کو زیادہ ہوا ملی، ہم نے اس کو مالی طور پر سپورٹ کیا اور پھر مشرف کے دور میں اس کی انتہا ہو گئی۔ پہلے جب الیکشن ہوتے تھے تو سیاسی جماعتوں کے لوگ خواہ کتنی ہے طاقتور پارٹیوں سے ہوں،بمشکل ہی دوتین سیٹیں کراچی سے آتی تھیںاور کوئٹہ سے کچھ لوگ آتے تھے اور سرحد سے کچھ لوگ آتے تھے ۔ یہاں تو کسی سیاسی جماعت کا کوئی بندہ آزاد الیکشن لڑکر نہیں آتا تھا۔ہاں، وہ کسی نہ کسی پارٹی کا حصہ ضرور بن جاتے تھے ، مسلم لیگ میں شامل ہوجاتے تھے ، کسی اور کے ساتھ گروپنگ کرلیتے تھے، لیکن مشرف نے اپنے سیاسی مفاد کے لیے تشدد کو استعمال کیا اورمذہب کی بنیاد پر پارٹیاں بنیں۔

اس کی بنیاد پر حکومتیں بنیں ۔جب اٹھارویں ترمیم آئی تو میں نے باقاعدہ اس کے لیے تجویز دی کہ جہاں آپ اتنی ترامیم کرنے جارہے ہیں تو پارلیمنٹ کی میعاد بھی چار سال کر دیں۔ تین سال سے میں اس لیے اتفاق نہیں کرتا کیونکہ سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے منصوبہ جات اور پروگرام دینے ہوتے ہیں ، پھر انہیں پورا کرنے کے لیے تین سال کم پڑ سکتے ہیں۔ جب پانچ سال حکومتی میعاد ہوتو اس میںپہلا سال تو ’’ہنی مون‘‘ میں گزر جاتا ہے، جس میں لوگ اپنی کامیابی کا جشن مناتے ہیں اور پلاننگ وغیرہ شروع ہوتی ہے کہ فلاں کام کرنا ہے ، فلاں چیز بنانی ہے ۔اتنے میں دوسرا سال گزر جاتا ہے۔جب باقی تین سال رہ جاتے ہیں تو لوگوں میں ’’ناامیدی اور غم وغصہ ‘‘ پید ا ہوجاتا ہے اور لوگ بے چین ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

پھر جلسے جلوس شروع ہوجاتے ہیں۔ چار سال کا فائدہ یہ ہے کہ دوسا ل میں تو لوگوں کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی، منصوبے وغیرہ بننے شروع ہوتے ہیں اور کاغذی کارروائی ہوتی ہے لہذا تیسرے سال میں لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ چاہیں گے کہ الیکشن میں حصہ لیا جائے۔ چوتھے سال میں تو سیاسی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوجائیں گی اور الیکشن ہوجائیں گے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اس کو ہمیشہ کے لیے چار سال کردیا جانا چاہیے۔ اسی طرح سینٹ کے لیے بھی چھ سال کا عرصہ بھی بہت زیادہ ہے اس کو بھی کم کرنے کی ضرورت ہے۔دوسرایہ کہ جب تک ہم صاف شفاف الیکشن نہیں کرواتے تب تک لوگوں میں تحمل و برداشت پیدا کرنا مشکل ہے۔

میں نے چونکہ چھ سات قومی اسمبلی کے انتخابات اور سات صوبائی اسمبلی کے انتخابات لڑے ہیں۔ اس لیے میں اپنے تجربے کی بنیاد پر کہ سکتا ہوں کہہ ہمارے انتخابی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے، الیکشن کمیشن کے پاس کچھ ہوتا ہی نہیں ، آپ اس کو جتنا مرضی بااختیار بنا دیں اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔اصل دھاندلی اور بدیانتی الیکشن پر مامور عملہ کی وجہ سے ہوتی ہے جو وہاں پرچی کاٹتے ہیں۔

آپ خواہ لاکھ انگوٹھے لگالیں اور شناختی کارڈ کا نمبر دیں ، اس عملہ کی مرضی ہے وہ جو مرضی دھاندلی کرے۔ہمارے ایجنٹ پولنگ والی جگہ پر نہیں بیٹھتے۔ ان کو کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ ووٹ کس کو پڑرہا ہے اور کس کو نہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ الیکشن کمیشن کو خودمختار بنایا جائے، خود مختار الیکشن کمیشن کا مقصد اور مطلب یہ ہے کہ پولنگ والا عملہ مکمل طور پر الیکشن کمیشن کے ماتحت ہواوراگر کوئی امیدوار دھاندلی کے خلاف شکایت کرے تو ٹربیونل کے فیصلے تک وہ عملہ الیکشن کمیشن کے ماتحت رہے۔دوسری بات یہ کہ اس عملے کو الیکشن سے ایک مہینہ پہلے ہی متعین کردیا جانا چاہیے۔ یہ بھی ہونا چاہیے کہ ایک صوبے کا عملہ دوسرے صوبے میں لگایاجائے۔اگر یہ ممکن نہیں تو ضلع تبدیل کردیا جائے اوراگر یہ بھی ممکن نہیں تو ایک تحصیل سے دوسری تحصیل میں ہی متعین کردیا جائے۔

چوہدری محمد رمضان (وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل)

اصل میں ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے اداروں کو آج تک مضبوط نہیں کر سکے۔ نہ ہم سیاسی اداروں کو مضبوط کرسکے، نہ ہم اپنی پارلیمنیٹ کو مضبوط کرسکے، نہ ہم اپنی عدلیہ کو مضبوط کرسکے ہیں ، ہمار ی انتظامیہ کو آج تک یہ ہی نہیں پتہ چل سکا کہ اس کا کردار کیا ہے، اس کو کس کی بات ماننی ہے اور کس کے کہنے پر کام کرنا ہے اور کس کے کہنے پر نہیں کرنا۔ میری ناقص رائے میں جمہوریت کے لیے ایک جمہوری کلچر اور برداشت دو ایسی بنیادی چیزیں ہیں جن کی ہمارے ہاں بدرجہ اتم کمی ہے۔نہ ہم میںبرداشت ہے اور نہ ہی ہمارے اندر جمہوری کلچر فروغ پاسکا ہے ۔ پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیاں شخصیات کے گرد گھومتی ہیں۔

ایک جماعت میں سے A کو نکال دیں وہ جماعت ختم ، دوسری جماعت میں سے B کو نکال دیں تو اس جماعت کا وجود ختم ہوجاتا ہے، تیسری جماعت میں سے C کو نکال دیں تو وہ بھی ختم ہوجاتی ہے۔ جس طرح انڈیا میں سیاسی جماعتوں کے سکریٹریٹ ہیں، سیاسی جماعتوں کے اپنے دفاتر ہیں، سیاسی جماعتوں نے اپنے اندر ایک جمہوری کلچر بنایا ہے اور ان کے اندر الیکشن کا رجحان ہے اور نیچے سے ایک ورکر اٹھ کر اپنی محنت کی بناپر وزارت عظمی کی کرسی تک پہنچ سکتا ہے۔ مگر یہاں پر مسئلہ یہ ہے کہ چاہے کوئی کتنا ہی بڑا کارکن کیوں نہ ہوں ، جب تک اسکی سفارش اچھی نہ ہو اور پارٹی کے سربراہ تک رسائی نہ ہویا اسکے منظور نظر نہ ہوں تو وہ کرسیاں لگانے والوں تک رہ جائے گا۔ پارٹی کا قائد آپ سے ناراض ہے تو آپ کی پارٹی میں کو ئی جگہ نہیں رہے گی۔ جب جمہوریت کا یہ معیار ہوگا تو پھر مسائل ہی ہو ں گے۔

جب الیکشن ہوتے ہیں تو اگلے دن ہی واویلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اگر آپ نے جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے تو یہ ضروی ہے کہ پانچ سال تک لوگوں کو انتظار نہ کروائیں۔ مارشل لاؤں کا دور چھوڑ کر باقی جتنی بھی حکومتیں بنیں ہیں انکو درمیان میں ختم کر دیا گیا۔گو حکومتی میعاد کم کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کرنا پڑے گی اور سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے ضروری ہو گا مگرچار یا تین سال حکومتی میعاد کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ بہرحال پانچ سال لوگ انتظار نہیں کر سکتے۔ لوگوں میں فرسٹریشن شروع ہوجاتی ہے اور ہمارے ہاں ٹانگ کھینچنے کی بھی عادت ہے۔

ہمارے ہاں ایک کلچر ہے کہ جس کو الیکشن پر کھڑا کرنا ہے اسکا ساتھ نہیں دینا ، جس کا ساتھ دینا ہے اسکو ووٹ نہیں دینااور جس کو ووٹ دے دینا اس کو جیتنے نہیں دینا اور جو جیت گیا اس کوچلنے نہیں دینا۔اس لیے ہمیں اس ذہنیت کو بدلنا ہوگا، ہمیں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے لیے شعور پیدا کرنا ہوگا۔

اگر کوئی جیت گیا ہے تو اس کو موقع دیا جانا چاہیے ۔ ہماری اپوزیشن کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ حکومت کو جتنی جلدی ختم کیا جائے اتنا ہی بہتر ہے، جتنا گند اچھالا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔ حالانکہ کہ اگر مثبت تنقید کریں اور مثبت تجاویز دیں تو شاید لوگوں کی نظر میں انکا قد زیادہ بڑھے۔

میری رائے میں یہ بڑا مناسب وقت ہے کہ ساری سیاسی جماعتیں اتفاق رائے سے آئین میں ترامیم کریں اور حکومتی میعاد میں کچھ وقت کے لیے کمی لائیں۔ اور جب جمہوری کلچر پیدا ہو جائے تو اسمبلی کی مدت میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ کچھ وقت میں کمی کا میں اس لیے کہتا ہوں کہ سیاسی پارٹیاں کہہ سکتی ہیں کہ ہم نے پورا پروگرام دینا ہوتا ہے اور اس کے لیے ہمیں مناسب وقت چاہیے۔ جس طرح پہلے پانچ سال کے لیے منصوبے بنتے تھے۔ سیاسی پارٹیاں کہہ سکتی ہیں کہ ہم تین سال ، یا چار سال میں کیا کریں گے۔ اس لیے تین یا چار الیکشنز میں چار سال کے لیے بھی اتفاق رائے ہوجائے تو کوئی حرج نہیں۔ امریکا کی مثال آپ کے سامنے ہے جہاں میعاد چار سال ہے۔

سیاسی پارٹیاں تو شخصی پارٹیاں بن چکی ہیں ورنہ تیسری دفعہ وزیراعظم بننے پر پابندی والی بات بھی ایک اچھی بات تھی، میں نہیں جانتا کہ یہ آئین میں کسی سودے بازی کے باعث نکالی گئی یا کسی اور وجہ سے نکالی گئی۔ جب اس طرح بار بار اقتدارکی کرسی پر آیا جائے گا اور کسی اور کو موقع نہیں ملے گا۔ ایسے میں لوگوں میں فرسٹریشن بڑھے گی اور عوام پانچ سال تک انتظار کرنے کی بجائے جلد از جلد حکومت کی تبدیلی کا سوچنا شروع کردیتے ہیں۔

ولید اقبال (ماہر آئینی امور و رہنما پاکستان تحریک انصاف)

خصوصاً یہ بات خورشید شاہ صاحب نے کی اور آج سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے کہی ، ان کا بیان جو میں نے اخبارات میں پڑھا وہ یہ تھا کہ جو موجودہ حکومت ہے اس کو تو پانچ سال مکمل کرنے دیے جائیں اسکے بعد سے جو پارلیمنٹ آئیگی اس کی مدت ہم چار سال کر دیں اور کچھ عرصہ تک اسی طرح یعنی چار سال ہی رہنے دیں۔ تاہم اس کے بعد ہم پانچ سالہ حکومتی میعاد پر واپس جا سکتے ہیں۔ میعاد کا کم یا زیادہ ہونے کے لیے دنیا کے مختلف ملکوں کے آئینی نظام میں روایات کا بھی کردار ہوتا ہے۔ لیکن روایات کی اہمیت اس جگہ ہوتی ہے جہاں تحریری آئین نہ ہوں، جیسا کہ برطانیہ میں ہے۔لیکن جہاں جہاں اس کو کاپی کیا گیا، جیسے پاکستان، انڈیا اور کامن ویلتھ کے ممالک میں ، وہاں برطانیہ میں روایتی طور پر ہی پانچ سال حکومتی میعاد ہے، پانچ سال ایک پتھر کی لکیر نہیں ہے، کہ اس کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا،باقی ممالک میں دیکھیں تو امریکا میں چار سال حکومتی میعاد ہے ، تین سال حکومتی مدت بھی کوئی انہونی بات نہیں ہے ۔

آسٹریلیا کے ایک مستحکم جمہوری نظام میں حکومتی میعاد تین سال ہے۔کہتے ہیں کہ پاکستان کا آئین جن ممالک کے قریب ترین جاتا ہے تو اس میں انڈیا اور کینیڈا کا ذکر بہت آتا ہے۔ کیونکہ اس میں اسی طرح کا وفاقی سٹرکچر بھی ہے ، ایوان بالا اور ایوان زیریں وہاں بھی ہیں، ان سب کے قریب آسٹریلیا بھی آتا ہے۔ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 52 یہ کہتاہے کہ پارلیمنٹ جو ایوان بالا، ایوان زیریں اور صدر ، تینوں اداروں کو ملاکر بنتا ہے۔پارلیمنٹ کا وہ جزو جس کو ایوان زیریں کہتے ہیں، کی مدت کو آرٹیکل 52 میںزیادہ سے زیادہ پانچ سال کہا گیا ہے مگر اس کو اس پہلے بھی تحلیل کیا جاتا سکتا ہے۔

اس کی وجہ سے ہی مڈٹرم الیکشن کا تصور سامنے آتا ہے ، پانچ سال میں تو لامحالہ طور پر اسمبلی کی مدت پوری ہوجاتی ہے لیکن اگر مدت کم کرنا ہے تو اس کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوگی جو مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں مل کر بھی نہیں کر سکتے، اس کے لیے تمام پارٹیوں میں اتفاق رائے ضروری ہوگا۔ حکومتی مدت چاہے پانچ ہو، یا چار ہو یا تین سال ہو یہ پارٹیوں کے اتفاق رائے سے ہی ممکن ہے۔ پاکستان کی روایت کو اگر دیکھیں تو 1956ء کے آئین میں پانچ سال کی حکومت تھی، ایوب خان کے دور میں 62 کے صدارتی آئین میں بھی پانچ سال مدت تھی ، حالانکہ صدراتی نظام میں چار سال ہوتی ہے اور پھر 73 کے آئین میں بھی پانچ سال تھی۔

لیکن اس میں کوئی پابندی نہیں اور نہ ہی یہ آئین کا کوئی ایسا عنصر ہے جس میں ترمیم ممکن نہیں ۔پارلیمانی سسٹم کو صدارتی نظام میں تبدیل کرنے پر اختلاف ہو سکتاہے کہ پاکستان کے آئین کی بنیادی ساخت پارلیمانی ہے یہ صدارتی نہیں ہوسکتی، یافیڈرل سٹرکچر سے یونٹری سٹرکچر میں پاکستان کا آئین تبدیل نہیں ہوسکتا ۔سپریم کورٹ نے محمود خان اچکزئی کیس میں بھی کہہ دیا، ظفر علی شاہ والے کیس میں بھی کہہ دیا مگر اس بنیاد پر سختی سے عمل کرنا ضروری نہیں۔

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ محض مدت کم کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔تباہ کرنے والے تو ایک سال میں بھی ملک کو تباہ کرجاتے ہیں۔ تباہ کرنے والوں کو زیادہ وقت نہیں چاہیے ہوتا۔ایک نااہل اور دھاندلی کی پیداوار اور مافیا حکومت کو بار بار اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے ، ہمیں اپنے انتخابی نظام اور الیکشن کے قوانین میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔

لوگ اکثر انڈیا کی مثال دیتے ہیں کہ وہاں انتخابات کے بعد کبھی دھاندلی کے الزامات نہیں لگائے گئے۔ کیونکہ وہاں الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہے۔ اس لیے الیکشن کمیشن کی بناوٹ ، تشکیل اور اس کے اختیارات میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ اگر ان سب چیزوں کو اس کے ساتھ ملا کر کیا جائے تو درست ہوگا۔

الیکشن کمیشن کے علاوہ الیکشن قوانین، اس کے اندر الیکٹورل الیکشن ڈیٹا نظام میں تبدیلی کی ضرورت ہے، تاکہ ووٹنگ میں جعلسازی کو روکا جاسکے۔ اور جو اہلکار ووٹنگ ڈیوٹی دیتے ہیں، ان کی غیر جانبداری کی تصدیق کی جائے۔ جس طرح صوبائی حکومت کے تما م اہل کار یہاں لگائے گئے تھے۔

ہم نے لاہور میں خصوصی طور پر کہا تھا کہ یہاں وفاقی حکومت کے ملازمین لگائے جائیں۔لاہور میں تو افرادی قوت کی بھی کوئی کمی نہیں لیکن لاہور میں بھی صوبائی محکمہ تعلیم کے اہلکار لگائے گئے۔ اب تو یہ شناخت کرنا بھی آسان ہے کہ کس نے دس دفعہ انگوٹھے لگا ئے اور کس پریذائڈنگ آفیسرکے نیچے بدعنوانی ہوئی ، کہاں پر کاؤنٹر فوئلز نہیں ہیں کہاں پر الیکٹورل رول غائب ہیں، کہاں پہ جعلی ووٹنگ ہوئی ہے۔ہر حلقے میں چھ سات بندوں کو سزاد ی جائے تومثال قائم ہوجائے گی اور آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔