لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو

رئیس فاطمہ  اتوار 27 جولائ 2014
fatimaqazi7@gmail.com

[email protected]

ہم سب اپنے اپنے ماضی کے اسیر ہیں لیکن اس ماضی کے جو دلکش یادوں کی قندیل سے جگمگا رہا ہے۔ ہر نسل اپنے گزرے ہوئے زمانے کو یادکرتی ہے، جبھی تو کسی شاعر نے کہا تھا کہ :بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں‘ تنہائی جنھیں دہراتی ہے۔ اپنے چھٹپن میں ہم بہن بھائی امی، بابا اور دادی جان کی وہ باتیں بڑی دلچسپی سے سنا کرتے تھے، جن میں وہ اپنے زمانے کی عید اور دیگر تہواروں کو یاد کرتے تھے۔

بہت سی رسوم و روایات جنھیں تقسیم نے ختم کردیا تھا انھیں یاد کرکے دکھی ہوجاتے تھے۔ میری والدہ عید کے موقعے پر منھیاری کو یادکرتی تھیں، جو گھر گھر جاکر لڑکیوں بالیوں اور خواتین کو چوڑیاں پہناتی تھی۔ آج بہت سے لوگ لفظ منھیاری سے ناواقف ہوں گے کہ اس کا وجود ناپید ہے۔

یہ نوسٹیلجیا بھی ایک عجیب لفظ ہے جو اپنے اندر بے پناہ معنویت رکھتا ہے۔ ہر موجودہ نسل اسی نوسٹیلجیا کی بدولت اپنے بزرگوں کی یادوں سے جڑی ہوتی ہے۔ بچپن میں جس ذوق وشوق سے میں اپنی بڑی بہن اپیا اور اپنی امی کی باتوں کو حیرت و استعجاب کے ساتھ سنتی تھی، اور ان کھوتی ہوئی خوشیوں اور روایات سے جڑی تہذیب کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے سو جاتی تھی، بالکل اسی طرح میرا اکلوتا اور پیارا بیٹا بچپن میں میری گود میں سر رکھ کر پوچھا کرتا تھا کہ ’’نانی اماں کے اور آپ کے زمانے کی عید اور رمضان میں کیا فرق ہے۔ آپ کو وہ سب کیوں یاد آتا ہے؟ آپ عید پر اداس کیوں ہوجاتی ہیں؟‘‘ وہ بہت دلچسپی اور انہماک سے میری باتیں سنتا تھا اور کبھی کبھی یہ بھی کہتا تھا کہ ’’امی آپ لوگ خوش نصیب تھے۔‘‘

میں بھی یہی سوچتی تھی کہ ہمارے والدین زیادہ خوش نصیب تھے باوجود اس کے کہ تقسیم نے خاندانوں کو بکھیر کے رکھ دیا، روایات دم توڑ گئیں، پھر بھی جب تک مشترکہ خاندانی نظام برقرار رہا تہذیبی ورثہ بھی برقرار رہا۔ میری یادوں میں وہ رمضان اور عیدیں بار بار ابھرتی ہیں جب گھر کی دوسری منزل کی چھت پہ کھڑے ہوکے انتیس کا چاند دیکھنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ اس وقت پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی میں صرف چند گھر ہی تھے۔ طارق روڈ کا وجود تک نہ تھا۔ گھر کی پہلی منزل کی چھت سے پورا طارق روڈ ایک کھلی سڑک کی طرح نظر آتا تھا۔ میری والدہ چاند دیکھ کر سب سے پہلے میرا چہرہ دیکھتی تھیں۔ میں انھیں سلام کرکے دعائیں لیتی لیکن میری دادی چاند دیکھ کر ہمیشہ میرے بڑے بھائی کی صورت دیکھتی تھیں۔

دونوں بھائی دادی کو صورت دکھانے کے لیے پہلے سے مودب کھڑے ہوجاتے تھے کہ دعاؤں کے ساتھ ساتھ انھیں ٹھیک ٹھاک نقدی بھی ملتی تھی۔ لیکن مجھے وہ صرف اس دعا پہ ٹرخا دیتی تھیں کہ ’’خدا خوش رکھے اپنے ماں باپ کا کلیجہ ٹھنڈا رکھو‘‘ میری آنکھیں وہ منظر ڈھونڈتی ہیں جب والد اور والدہ رمضان اور عید کا چاند دیکھ کر سیدھے دادی کی خدمت میں حاضر ہوتے اور دعائیں لیتے۔ کہاں گئے وہ لوگ جن کی دعاؤں کے ہم طلب گار تھے۔ آج کسی کو ماں باپ کی دعاؤں کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے لیے بھی کوئی کندھا نہیں جس پہ سر رکھ کے اپنے تمام دکھ بھول جائیں۔ اور ہمارے کندھے کے ساتھ ساتھ آغوش بھی خالی ہے کہ بیٹا بہت دور ہے۔ لیکن خوش ہے۔

پھر بھی کبھی کبھی یہ ہوک دل میں ضرور اٹھتی ہے کہ کاش ہم بھی اپنے والدین اور دادی کی طرح خوش قسمت ہوتے کہ اولاد کے سامنے دم توڑتے۔ اب تو اکیلے اور تنہا رہ جانے والے عمر رسیدہ ماں باپ کے لیے صرف ایدھی اور چھیپا کا دم غنیمت ہے جو انھیں کفن پہناکر قبر میں سلا آتے ہیں۔ ہماری عمر کے لوگ جس طرح اپنے والدین کی برسی پہ نذر نیاز کرتے ہیں، ان کی بخشش کے لیے صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور انھیں یاد رکھتے ہیں کیا ہمارے بعد ہماری اولاد ہمیں اس طرح یاد کرے گی؟میرا دل اس چاند رات کے لیے تڑپتا ہے جب والدہ ہمیں چوڑیاں پہنانے لے جاتی تھیں۔ واپسی پر دادی میرے ہاتھوں پہ مہندی لگاکر ان پہ اخبار لپیٹ کر کپڑے سے باندھ دیتی تھیں تاکہ بستر خراب نہ ہو، فجر کے وقت اٹھ کر وہ خود ہمارے ہاتھوں سے کپڑا الگ کرتیں۔

سوکھی مہندی ہاتھوں سے صاف کرکے ہتھیلی پہ دو تین قطرے سرسوں کے تیل کے لگا دیتیں تاکہ مہندی کا رنگ گہرا ہوجائے۔ اس مہندی کی مہک آج تک میرے سانسوں میں بسی ہوئی ہے۔ آج عید کا دن سو کر گزارا جاتا ہے، لیکن ہمارے بچپن اور لڑکپن میں نمازعید کے بعد گھر کے افراد کو شیر خرما پیش کیا جاتا تھا، اس میں بھی حفظ مراتب کا خیال رکھا جاتا تھا۔ پھر آتی تھی عیدی کی باری۔ ایک عجیب سی خوشی جو اس وقت بابا اور امی کے ہاتھوں سے پانچ روپے لے کر ہوتی تھی، وہ جانے کہاں کھو گئی کہ اس عیدی میں ان کا پیار اور دعائیں دونوں شامل ہوتی تھیں۔ آج ہمارے بچے پانچ ہزار عیدی لے کر بھی اس خلوص اور اپنائیت سے گلے نہیں لگتے۔

جس کی تمنا ان کے ماں باپ کرتے ہیں کہ محبتوں اور پیار کے موسم بھی نجانے کس دیس سدھار گئے۔ جس زمین میں خلوص اور پیار کے درخت لگتے تھے اسے خودغرضی کا پالہ مارگیا ہے۔آج عید پر بھی ان ہی کے گھر جایا جاتا ہے جن سے آئندہ کوئی کام پڑنے کی امید ہو، جب کہ  پہلے ٹیلی فون بھی عام نہ تھے، لیکن عزیز رشتے داروں اور محلے والوں کے درمیان ایک اٹوٹ رشتہ تھا۔ لوگ بلاتکلف اپنے بڑوں کو سلام کرنے آتے تھے۔ دعائیں لیتے تھے۔

اہل محلہ بھی نماز کے بعد ایک دوسرے سے گلے ملتے تھے۔ آج یہ حال ہے کہ ایک ہی بلڈنگ میں رہنے والے ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہیں۔ کہاں گئیں وہ روایات جب رمضان اور عید پر افطار اور شیر خرما معہ دیگر لوازمات کے پڑوسیوں کے بھیجے جاتے تھے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس کی وجہ مہنگائی ہے۔ کسی حد تک یہ درست ہے۔ لیکن بنیادی وجہ بے حسی اور لاتعلقی ہے۔ آس پڑوس کو تو چھوڑیے۔ لوگ اپنے گھروں میں بھی اکیلے ہیں۔ اپنا اپنا کمرہ اورکمپیوٹر کی دنیا، جہاں فیس بک پہ ہزاروں لوگوں سے آپ رابطے میں ہیں۔ لیکن اپنے ہی گھر میں تنہا ہیں۔ سفر میں ہیں تو ہم سفر سے بات کرنا اب سماجی ضرورت نہیں رہا۔

میری طرح بہت سے لوگ اس دلکش زمانے کو یاد کرکے افسردہ ہوجاتے ہیں۔ جب انسان تنہا نہیں تھا۔ اتنی سہولتیں نہ تھیں، جو آج دستیاب ہیں، لیکن امن، پیار، محبت، بھائی چارہ، پڑوسی کا اساس، غریب اور نادار لوگوں کی دیکھ بھال، مالی طور پر کمزور رشتے داروں کی مدد کرنے جیسے جذبے وافر موجود تھے۔ کاش ہم نے بھی اس زمانے میں جنم لیا ہوتا جب رشتوں کا احترام تھا۔ کوئی بیٹا یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس کے ماں باپ لاوارث مرجائیں۔ جب لڑکیوں کو رخصتی سے قبل مائیں یہ بات دماغ میں بٹھا دیتی تھیں کہ اب تمہارے ساس سسر ہی تمہارے ماں باپ ہیں۔ اپنے شوہر کو خوش رکھنا، اس کی نافرمانی نہ کرنا۔ سسرال میں محبتیں بانٹنا اور کبھی شوہر یا سسرال کی برائی میکے آکر نہ کرنا۔ ہر حال میں شوہر کا ساتھ دینا وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اب کیا رہ گیا ہے؟ صرف خود غرضی اور بے حسی۔ زمانہ کتنا بدل گیا، ساری تہذیبی قدریں ختم ہوگئیں، اکیلے رہ جانے والے ماں باپ کی یادوں میں بسا ماضی کا شہر ہی ان کی اصل دولت ہے۔ وہ تو سوتے جاگتے یہی کہتے ہیں:

ہاں دکھا دے پھر وہ صبح و شام تو

لوٹ پیچھے کی طرف‘ اے گردش ایام تو

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔