3 اسرائیلی لڑکوں کے قتل اور اغوا سے حماس کا کوئی تعلق نہیں، صیہونی پولیس افسر

ویب ڈیسک  پير 28 جولائ 2014
اسرائیل 3 اسرائیلی لڑکوں کے اغوا اور قتل کا ذمہ دار حماس کو ٹھہرا کر اب تک 1060 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے۔  فوٹو: فائل

اسرائیل 3 اسرائیلی لڑکوں کے اغوا اور قتل کا ذمہ دار حماس کو ٹھہرا کر اب تک 1060 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے۔ فوٹو: فائل

تل ابیب: اسرائیلی پولیس کے اعلیٰ افسر نے غزہ میں صیہونی افواج گزشتہ 3 ہفتوں سے جاری بربریت کا بھانڈا پھوڑتے ہوئے کہا ہے کہ جن 3 لڑکوں کے قتل اور اغوا کا الزام حماس پر لگایا گیا تھا ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسرائیلی پولیس كے فارن پریس نمائندہ چیف انسپكٹر مكی روزن فیلڈ نے برطانوی نشریاتی ادارے كو بتایا کہ گزشتہ ماہ حماس پر3 اسرائیلی لڑكوں كے اغوا اور قتل کا الزام عائد کر تے ہوئے غزہ پر حملہ کیا تھا جب کہ حماس  کا ان صیہونی لڑکوں کے اغوا اور قتل سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی لڑكوں كے اغوا سے متعلق پولیس كی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے سے قبل ہی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے حماس كو اس كا ذمہ دار قرار دے دیا اور اس واقعے كو بنیاد بنا كر اسرائیل نے غزہ پر حملہ كردیا۔

اسرائیلی پولیس کا کہنا تھا کہ لڑكوں  كو جس گروپ نے قتل كیا وہ اپنے طور پر كام كررہا تھا اور اس كا حماس سے تعلق نہیں  ہے۔ حماس كے پاس اسرائیلی لڑكوں  كے اغوا سے متعلق معلومات نہیں تھیں۔

واضح رہے کہ صیہونی فوج 3 اسرائیلی لڑکوں کے اغوا اور قتل کا ذمہ دار حماس کو ٹھہرا کر اب تک 1060 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے جب کہ ان حملوں میں 6 ہزار سے زائد افراد زخمی بھی ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔