توانائی بحران پر قابو پانے کیلیے جامع پروگرام شروع کرنیکا فیصلہ

ارشاد انصاری  پير 4 اگست 2014
ڈسٹری بیوشن اور ٹرانسمیشن لائنز میں نجی انویسٹمنٹ بڑھانے کیلیے پرکشش مراعات دی جائیں،وفاقی وزارت خزانہ کا لیٹر۔ فوٹو: فائل

ڈسٹری بیوشن اور ٹرانسمیشن لائنز میں نجی انویسٹمنٹ بڑھانے کیلیے پرکشش مراعات دی جائیں،وفاقی وزارت خزانہ کا لیٹر۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک میں جاری توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے جامع پروگرام شروع کرنیکا فیصلہ کیا ہے۔

اس ضمن میں ’’ایکسپریس‘‘ کو دستیاب دستاویز کے مطابق وزارت خزانہ نے وزارت پانی و بجلی کو ایک لیٹر بھجوایا ہے جس میں توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے اور نیشنل گرڈ میں اضافی بجلی شامل کرنے کے لیے جامع پلان پر عملدرآمد کی حکمت عملی مرتب کرنے اور اہداف مقرر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ اس حوالے سے وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں نصب تمام ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے پاور پلانٹس کے ذریعے 22 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے لیکن اس کے لیے تمام مطلوبہ ایندھن درکار ہوتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر تمام پاور پلانٹس کے لیے ان کے مطابق ایندھن دستیاب ہوبھی جائے اور بائیس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کر بھی لی جائے تو بھی اس سے پورا فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا ہے کیونکہ بجلی کی ترسیل کا نظام اتنا مضبوط نہیں ہے اور ٹرانسمیشن لائنز کی قلت ہے اور پوری بجلی ترسیل نہیں کی جاسکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اب جو پروگرام شروع کیا جارہا ہے اس کے تحت جہاں انرجی مکس کو بہتر بنانے کے لیے ایسے ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے شارٹ ٹرم،میڈیم ٹرم اور طویل المدت منصوبے شروع کیے جارہے ہیں جن سے سستی بجلی پیدا ہوسکے تاکہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے ایشو کو بھی حل کیا جاسکے جبکہ ایکسپریس کو دستیاب دستاویز میں وزارت خزانہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اضافی بجلی کے لیے جو پروگرام شروع کیے جارہے ہیں ان کے تحت پاور سیکٹر میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلیے پرکشش مراعات دی جارہی ہیں تاکہ نجی شعبہ پاور سیکٹر میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرے اور پاور سیکٹر کی صلاحیت بڑھانے کیلیے پاور ڈسٹری بیوشن اور ٹرانسمیشن لائنز کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھائی جائے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔