’’رولنگ کول‘‘؛ گلوبل وارمنگ کے حامیوں کا مخالف گروپ

ندیم سبحان  منگل 5 اگست 2014
رولنگ کول کے اراکین ردعمل کے طور پر فضا کو آلودہ کررہے ہیں۔  فوٹو : فائل

رولنگ کول کے اراکین ردعمل کے طور پر فضا کو آلودہ کررہے ہیں۔ فوٹو : فائل

پچھلے دو تین عشروں سے عالمی گرماؤ یا گلوبل وارمنگ کے خلاف دنیا بھر میں ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔

سائنس دانوں اور ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کا درجۂ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ متعدد تحقیقی مطالعوں کے نتائج میں بتایا گیا ہے کہ عالمی درجۂ حرارت میں اضافے کی وجہ سے قطبین پر جمی ہوئی برف اور بڑے بڑے گلیشیئر پگھل رہے ہیں جس کے نتیجے میں سطح سمندر بلند ہورہی ہے۔

ماہرین یہ پیش گوئیاں بھی کرچکے ہیں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے آنے والے برسوں میں متعدد ساحلی شہر زیرآب آجائیں گے۔ اس کے علاوہ سائنس داں یہ دعوے بھی کرچکے ہیں کہ موسمی تغیر کے سبب متعدد حیاتیاتی انواع معدوم ہوجائیں گی کیوں کہ بڑھتی ہوئی تپش ان کے قدرتی مساکن کو تباہ کررہی ہے۔

کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو گلوبل وارمنگ کو ’ ہوّا ‘ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ تو دنیا کا درجۂ حرارت بڑھ رہا ہے اورنہ ہی موسمیاتی تغیرات رونما ہورہے ہیں بلکہ اس بارے میں عالمی سطح پر جو تصور پایا جاتا ہے وہ سب ماحولیاتی ماہرین کی کارستانی ہے۔ گلوبل وارمنگ کے مظہر کی نفی کرنے والے ان لوگوں کا تعلق امریکا کے ایک چھوٹے سے قصبے سے ہے۔

گلوبل وارمنگ اور اس کے اثرات کا پرچار کرنے والے ماہرین ماحولیات اور سائنس دانوں کی مخالفت میں یہ لوگ زیادہ سے زیادہ آلودگی پھیلا کر اپنا ردعمل ظاہر کررہے ہیں۔ ان لوگوں کے پاس ڈیزل سے چلنے والے چھوٹے بڑے پک اپ ٹرک ہیں۔ یہ لوگ ان ٹرکوں سے زیادہ سے زیادہ دھویں کا اخراج کرکے گلوبل وارمنگ کے حامیوں کو چیلنج کررہے ہیں۔

ان لوگوں کا باقاعدہ ایک گروپ ہے جسے انھوں نے Rolling Coal کا نام دے رکھا ہے۔ اس گروپ کے اراکین نے اپنے ٹرکوں کے انجن میں خاص طور پر ایسی تبدیلیاں کروا لی ہیں جس کی وجہ سے یہ کئی گنا زیادہ دھواں خارج کرتے ہیں۔ اسی مناسبت سے ان میں ایندھن کا خرچ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ یہ لوگ ماہانہ ہزاروں ڈالر محض فضا کو آلودہ کرنے کی کوششوں میں صرف کردیتے ہیں۔

’رولنگ کول ‘ میں ہر عمر کے افراد شامل ہیں تاہم ان میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے جو گلوبل وارمنگ کے ساتھ ساتھ اس سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی کوششوں جیسے بایوفیول اور ہبرڈ گاڑیوں کے بھی مخالف ہیں۔ گروپ کے اراکین ماحولیاتی ماہرین اور ہبرڈ گاڑیوں پر شدید تنقید کرتے ہیں۔

ان لوگوں نے اپنے خیالات کے پرچار اور اپنی سرگرمیوں کی ترویج کے لیے انٹرنیٹ کا سہارا بھی لے لیا ہے۔ رولنگ کول اور ان کے ہم خیال سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔ ان ویب سائٹس پر ان کی ان گنت تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں۔ رولنگ کول کا فیس بُک پیج بھی موجود ہے جسے اب تک بیس ہزار سے زائد لوگ پسند کرچکے ہیں۔ فیس بُک کے علاوہ ان کی پوسٹس انسٹاگرام اور ٹمبلر پر بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔ عالمی گرماؤ کے مخالفین نے اپنی نظمیں اور گیت بھی تخلیق کرلیے ہیں جن میں ان کے نظریات کی ترویج کی گئی ہے۔

گلوبل وارمنگ کے مخالفین کا یہ گروپ کئی برسوں سے موجود ہے مگر اسے شہرت پہلی بار 2011ء میں ملی تھی۔ چند برس قبل تک یہ گروپ امریکا کے ایک قصبے ہی تک محدود تھا مگر اب اس کے حامی دنیا کے مختلف ممالک میں موجود ہیں۔

پچیس سالہ رابی اس گروپ کا پُرجوش رکن ہے۔ وہ پچھلے بارہ سال سے اپنے ٹرک کے ذریعے فضا میں دھویں کے مرغولے چھوڑ رہا ہے۔ اس سرگرمی کے بارے میں اس کا کہنا ہے،’’ ایسا کرنے میں مجھے سنسنی خیز لطف محسوس ہوتا ہے، اور یہ طریقہ گلوبل وارمنگ کے حامیوں کی مخالفت میں ہمارے ردعمل کے اظہار کا ذریعہ بھی ہے۔‘‘

گلوبل وارمنگ کے بارے میں اپنے موقف کے اظہار کے علاوہ رولنگ کول کے اراکین دوسروں کو سبق سکھانے کے لیے بھی اپنے ٹرکوں سے مدد لیتے ہیں۔ اگر شاہ راہ سے گزرتے ہوئے کوئی کار سوار انھیں تنگ کرے تو یہ اپنا ٹرک دوڑاتے ہوئے اس سے آگے لے جاتے ہیں اور پھر اس قدر دھواں چھوڑتے ہیں کہ کارسوار کے لیے چند فٹ سے آگے دیکھنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔

رولنگ کول کے سبھی اراکین گلوبل وارمنگ کے مخالف نہیں ہے بلکہ کچھ ایسے بھی ہیں جو صدر باراک اوباما اور ان کی ماحول دوست پالیسیوں کی مخالفت میں اس گروپ میں شامل ہوئے ہیں۔ وسکونسن میں ٹرکوں کو زیادہ دھواں خارج کرنے کے قابل بنانے والے آلات کی فروخت کے کاروبار سے وابستہ ڈیوڈ میتھیوز کا کہنا ہے،’’ میں ایسے بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جو اوباما کو بالکل پسند نہیں کرتے، اور اس کے ہر کام کی مخالفت کرتے ہیں۔‘‘

’رولنگ کول ‘ باقاعدہ ایک رجحان بن چکا ہے جس کا آغاز ممکنہ طور پر ایک مقامی کھیل سے ہوا ہے۔ اس کھیل میں حصہ لینے والے اپنے چھوٹے ٹرکوں اور پک اپ کے ذریعے زیادہ سے زیادہ وزن طویل فاصلے تک لے جانے کا مقابلہ کرتے ہیں ۔یہ کھیل Truck Pulls کہلاتا ہے۔ کھلاڑی اپنے حریفوں پر سبقت لے جانے کی غرض سے اپنے ٹرک کے انجن کو زیادہ طاقت ور بنوانے کے لیے اس میں تبدیلیاں کرواتے ہیں۔ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں انجن میں ایندھن کی کھپت بڑھ جاتی ہے اور اس کی ہارس پاور میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ ’ رولنگ کول ‘ کے اراکین ایک سے پانچ ہزار ڈالر خرچ کرکے اپنے ٹرک کو کئی گنا زیادہ دھواں خارج کرنے کے قابل بناتے ہیں۔

ماہرین ماحولیات کے دعووں کی مخالفت اپنی جگہ مگر ٹرک کے سائلنسر سے نکلتے دھویں کے مرغولے صحت پر منفی اثرات بھی مرتب کرسکتے ہیں۔ ’ دی امریکن کینسر سوسائٹی ‘ کے مطابق ٹرک سے خارج ہونے والے دھویں کی زد میں طویل وقت تک رہنے سے پھیپھڑوں کا کینسر لاحق ہوسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔