ملاوٹ سیاسی و غیر سیاسی

عبدالقادر حسن  جمعرات 7 اگست 2014
Abdulqhasan@hotmail.com

[email protected]

کسی کیک پیسٹری سے تو وہ یقیناً بڑے تھے لیکن ان کے بعض ساتھی ایک عام کیک کے سائز کے تھے یا ذرا کم۔ ٹیلی فون کی اسکرین پر جب میں نے ان چوہوں کو بیکری کے سامان پر گھومتے پھرتے دیکھا اور ان کی تعداد کا اندازہ لگایا تو یقین ہوا کہ اس مشہور و معروف اور ہر معروف مقام پر اس کی کسی شاخ کی موجودگی سے اس کی بڑائی اور وسیع کاروبار کا جو اندازہ ہوا وہ اگرچہ درست تھا لیکن اب پتہ چلا کہ چوہوں کی پرورش میں بھی اس بیکری کا بڑا کردار ہے اور ان چوہوں کو اس قدر پیار سے رکھا جاتا ہے کہ وہ اب کیک وغیرہ کھاتے نہیں صرف سونگھتے اور ذرا سا چکھتے ہیں۔

ان کا کیک خوری کا شوق پورا ہو چکا ہے اور اب وہ تفریحاً ایک کیک سے دوسرے کیک تک اچھل کود کرتے ہیں۔ ہم انسان جو اس بیکری کی قیمتی اشیا کو شوق سے کھاتے ہیں وہ سب دراصل کسی نہ کسی چوہے کا جوٹھ ہوتے ہیں۔ تعجب ہوا کہ چوہوں کی اتنی تعداد کس طرح جمع کی گئی۔ ان کے کھانے پینے کا سامان تو موجود ہے اور وافر تعداد اور گوناگوں ذائقوں میں۔ اگر ایک عام گاہک کے موبائل فون پر ان چوہوں کے رقص کو قلمبند کیا جا سکتا ہے تو یہ حکومتی کارندوں سے کس طرح چھپے ہوئے ہیں۔

یہ صورت حال تو ہماری تازہ ترین سیاست سے بھی بری ہے۔ جب ہماری نئی حکومت آئی اور اس نے غیر معمولی جوش عمل سے کام شروع کیا تو اس محکمے کا وزیر بازار بازار اور دکان دکان پھیل گیا ۔یہ وزیر بھی ظاہر ہے کہ حکمران گروہ کا رشتے دار تھا اس نے اپنے چھاپوں کی بڑی خبریں بنوائیں۔ کھانے پینے کی اشیا فروخت کرنے والی دکانوں پر چھاپے مارے۔ سبزی منڈی میں ایک ایک گلی سڑی سبزی کو گرفتار کیا ان دکانوں اور سبزی فروشوں کو گرفتار بھی کیا جرمانے بھی کیے اور جیل میں بھی ڈالا۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کاروباری طبقہ حکومت سے نالاں ہوگیا جب کہ یہی وہ طبقہ تھا جس کی مدد سے یہ حکمران آئے تھے۔ جب دکانداروں نے شور مچایا تو متعلقہ وزیر نے اپنی سرگرمیاں ذرا محدود کر دیں، اس پر جب ایک رپورٹر نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا ہو گیا کہ آپ کا جوش و خروش اتنی جلدی تھم گیا، اس پر اس نوجوان اور قریبی رشتے دار وزیر نے جواب دیا کہ سیاست بھی تو کرنی ہے اور سیاسی مصلحتوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ اس طرح اہل لاہور کا مزاج فوراً ہی درست ہو گیا اور وہ گندی گلی سڑی سبزیاں اور کیک پیسٹری کھانے لگے اور ان کی روز افزوں قیمتیں بھی ادا کرنے لگے۔ حکمران بھی ہمارے اپنے ہی تھے اس لیے ان کی دلجوئی کے لیے کچھ قربانی بھی دی جانے لگی۔

پورے ملک میں امن و امان کی صورت حال شرمناک حد تک بدتر ہے جو جرائم اخبارات میں رپورٹ ہوتے ہیں وہ بھی کسی حکمران کو شرم دلانے کے لیے کافی ہیں اور جو اخبارات تک نہیں آتے ان کا تو شمار ہی نہیں۔ بڑ ے سے بڑے جرم کے بارے میں اتنی کارروائی سامنے آتی ہے کہ وہ متعلقہ وزیر کے نوٹس میں لائی گئی ہے اور وہ اس پر کچھ نہ کچھ ضرور کریں گے۔ پولیس کے چند بااثر اور بڑے افسران سے تعلق کی شہہ پا کر یہ جرات کرتا ہوں کہ ہماری پولیس بالکل ہی بگڑ چکی ہے اور اسی پولیس کو جرائم کنٹرول کرنے ہوتے ہیں۔ ورنہ ہمارے سیاستدانوں نے جو اودھم مچا رکھا ہے اگر پولیس برسر عمل ہوتی تو کیا یہ سب ممکن تھا۔

کیا سیاسی سرگرمیاں پولیس کی دست اندازی سے باہر ہیں اور غالباً نہیں ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ صوبے کے سب سے بڑے دبنگ اور یاد گار قسم کے حکمران نواب کالا باغ نے کسی الیکشن کے بعد صوبہ بھر کے پولیس افسروں کی گورنر ہائوس میں خصوصی دعوت کی تھی اور ان کا شکریہ ادا کیا تھا۔ اسی طرح ایک مشہور سیاسی گروہ نے بھی اپنے قطار اندر قطار بنگلوں میں پولیس کی ایک دعوت کی تھی۔ وہ بھی پولیس کی کسی سیاسی مہربانی کے جواب میں تھی اس لیے میں سوچتا ہوں کہ آج کے کمزور اور خوفزدہ حکمران اگر پولیس پر ہاتھ نہیں ڈالتے تو وہ بے قصور ہیں۔ حکمرانی کے جو چند دن باقی ہیں انھیں مزید بے مزہ ہوئے بغیر گزارنے میں کیا حرج ہے۔

بات خورونوش کی اشیا  میں ملاوٹ کی ہو رہی تھی۔ باورچی فرج میں سے سبزی نکال کر پھینک رہا تھا اور ساتھ ہی سبزی فروشوں کو جلی کٹی بھی سنا رہا تھا۔ معلوم ہوا کہ اب سبزی شہر کے گندے پانی سے پرورش پاتی ہے اور اس کی عمر ایک دن سے زیادہ نہیں ہوتی۔ وہ دن گئے جب سبزی دو چار دن تک سلامت رہتی تھی اب تو بازار سے لائیں اور پکا لیں یعنی گندے پانی کی پلی ہوئی سبزی۔ ہم کسی گندے نالے کے قریب سے گزرتے ہیں تو ناک پر رومال رکھ لیتے ہیں مگر ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اسی گندے نالے کے پانی سے پلنے والی سبزی ہم دن رات کھاتے ہیں اور ملاوٹ کی بات صرف سبزی تک محدود نہیں ہے۔

میں نے شروع میں ایک مشہور بیکری کا حوالہ دیا ہے نام اس لیے نہیں لکھ رہا کہ اس کا مالک مجھ پر مقدمہ کر دے گا اور اس مقدمے کا فیصلہ تو جو ہو گا وہ ہو گا میرا فیصلہ اس سے پہلے ہی دو چار پیشیوں کے خرچ پر ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ میں اس بیکری کا ذکر کر رہا ہوں مگر نام لیے بغیر کہ اس میں خطرہ ہے اور میں یہ خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ میں کوئی عمران خان نہیں کہ کسی بڑے آدمی کی توہین کا مقدمہ اس کی پروا کیے بغیر قبول کرلے۔

بعض اوقات تو توہین کے مقدمات ایک خطرہ بن جاتے ہیں اور مخالف ایسی ایسی باتیں سامنے لے آتے ہیں کہ توہین کے مقدمے سے بہت آگے نکل جاتی ہیں۔ ایک دلچسپ واقعہ کا سرسری حوالہ دیتا ہوں کہ ایک صاحب نے بے وقوفی میں کسی پر توہین کا مقدمہ دائر کر دیا ۔اس کے جواب میں موصوف کے جو خفیہ کارنامے سامنے لائے گئے ان سے گھبرا کر وہ صاحب مقدمہ واپس لینا چاہتے تھے لیکن فریق مخالف اب یہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔

عمران خان پر دائر ہونے والا مقدمہ بھی کسی پر کہیں کوئی افتاد نہ بن جائے۔ بہر کیف میں کسی بیکری والے پر مقدمہ کروں یا نہ کروں یہ چوہے اس بیکری میں طرح طرح کی کیک پیسٹری کے مزے لیتے رہیں گے۔ میں کافی دیر تک ان چوہوں کو دیکھتا رہا جو ایک کیک سے دوسرے کیک تک چھلانگ لگاتے اور اس کے اوپر کے حصے کو سونگھ کر یا اس میں سے کچھ چاٹ کر کسی اور کیک تک پہنچ جاتے۔ ان ضحیم و لحیم چوہوں کو کوئی بلی بھی شاید ہی کچھ کہہ سکے کیونکہ ان میں سے اکثر کسی عام سی بلی سے بڑے ہوتے ہیں۔

ہماری عام زندگی میں جو ملاوٹ ہے اس کا ایک نمونہ کوئی بیکری ہو سکتی ہے۔ ہمارے تو حکمران ہی برسوں سے ملاوٹی چلے آ رہے ہیں۔ جنہوں نے ہماری قومی زندگی میں ملاوٹ کا زہر گھول رکھا ہے۔ شاید ہی کوئی آئے جو ہمیں اس ہمہ گیر ملاوٹ سے نجات دلا سکے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔