او آئی سی…؟

ظہیر اختر بیدری  ہفتہ 9 اگست 2014
zaheerakhtar_beedri@yahoo.com

[email protected]

او آئی سی دنیا کے 57 مسلم ممالک کی ایک نمایندہ تنظیم ہے، اسے ہم مسلم ممالک کی اقوام متحدہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ 57مسلم ملکوں میں بسنے والے مسلمان اس غلط فہمی کا شکار تھے کہ یہ تنظیم مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور مسلم ملکوں میں سے کسی مسلم ملک پر اگر کوئی ملک ظلم کرے تو او آئی سی مظلوم ملک کی ڈھال بن جائے گی۔ اسی تصور، اسی غلط فہمی کی وجہ سے فلسطینی مسلمانوں پر ہونے والے حالیہ اسرائیلی وحشیانہ مظالم کے خلاف او آئی سی کی پراسرار خاموشی پر ساری مسلم دنیا حیران تھی۔

خاص طور پر مسلم ممالک کی مذہبی قیادت او آئی سی کی فلسطینیوں سے لاتعلقی پر سخت مایوس ہے اور او آئی سی اس بزدلانہ کردار پر سخت تنقید بھی کر رہی ہے، اگرچہ ہم ذاتی طور پر مظلوموں کو ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی کی حیثیت سے نہیں بلکہ انسان کی حیثیت ہی میں دیکھتے ہیں لیکن او آئی سی چونکہ مسلم ملکوں کی نمایندہ تنظیم ہونے کی دعویدار ہے اس لیے ہمیں فلسطینی مسلمانوں پر اسرائیل کے ہولناک بزدلانہ اور ہٹلرانہ مظالم اور او آئی سی کی خاموشی اور لاتعلقی پر حیرت تھی اور ہم اپنے کالموں پر اس حیرت کا اظہار بھی کرتے رہے ہیں۔

لیکن ہماری حیرت ہماری غلط فہمی اس وقت دور ہوئی جب او آئی سی کے سیکریٹری جنرل عیاض امین مدنی نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران اسلام آباد کے انسٹیٹیوٹ آف اسٹرٹیجک اسٹڈیز کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’او آئی سی ایک سیاسی تنظیم ہے مذہبی تنظیم نہیں ہے او آئی سی مسلم ملکوں کے درمیان تجارت، تحقیق اور دیگر شعبوں میں تعاون کا کردار ادا کرتی ہے، او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے اپنے خطاب میں او آئی سی سے سوال کیا کہ ہم کیا کر سکتے ہیں، اگر او آئی سی کا اجلاس بلایا جائے تو کس لیے بلایا جائے؟

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف کیس بھی فائل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جو ملک فلسطینیوں پر ظلم ڈھا رہا ہے وہ اقوام متحدہ کی مجلس عمل یعنی سیکیورٹی کونسل کا ممبر ہے۔ ہم نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف عالمی عدالت برائے جنگی جرائم میں جانے کا سوچا تھا لیکن اسرائیل اور فلسطین چونکہ اس کے ممبر نہیں ہیں اس لیے ہم اس عالمی عدالت سے بھی رجوع نہیں کر سکتے۔‘‘ موصوف نے فرمایا کہ مسلم ملکوں میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت ہمارے لیے ایک چیلنج ہے انتہا پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے ہر گروپ اپنے الگ اسلام کا دعویدار ہے۔

او آئی سی کے سیکریٹری جنرل کے ان انکشافات کے بعد او آئی سی کے حوالے سے ہماری غلط فہمی حیرانی اور مایوسی میں بدل گئی ہے لیکن ہم سیکریٹری جنرل کی اس صاف گوئی پر انھیں بدھائی ضرور دیتے ہیں۔ اس حوالے سے ہمارے ذہن میں بجا طور پر یہ سوالات ابھرتے ہیں کہ اسرائیل جیسا ایک انتہائی کم آبادی والا ملک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا رکن کیسے بن گیا جب کہ بھارت اور پاکستان جیسے کثیر آبادی والے ملک سلامتی کونسل کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے عشروں سے خوار ہو رہے ہیں۔

اگر کوئی ملک ہولناک جنگی جرائم کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے خلاف جنگی جرائم کی عالمی عدالت میں صرف اس لیے نہیں جایا جا سکتا کہ وہ ملک یعنی ظالم اور مظلوم ملک اس کے ممبر نہیں؟ اور سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر او آئی سی اس قدر بے بس ہے تو وہ مسلم ملکوں کی نمایندگی سے دستبردار کیوں نہیں ہو گئی؟

یہ سارے سوال اگرچہ منطقی اور ہر اعتبار سے جائز ہیں لیکن دنیا پر سپرپاور کی اجارہ داری اور سپر پاور کے غلط جانبدارانہ کردار کے پس منظر میں یہ ساری ناانصافیاں بے بسیاں نہ صرف فطری اور منطقی ہیں بلکہ ان پر حیرت کرنا حماقت کے علاوہ کچھ نہیں، رہا مسلم ملکوں کا فلسطین کے حوالے سے مجرمانہ کردار، تو اس پر بھی حیران ہونے کی ضرورت اس لیے نہیں کہ ان ملکوں کے حکمران امریکا کے موروثی غلام ہیں اور غلاموں میں اتنی جرأت نہیں ہوتی کہ وہ آقا کی ناانصافیوں کے خلاف حرف شکایت زبان پر لائیں۔

اگر مسلم ملک آزاد ہوتے تو ان کی ایک اجتماعی دھمکی بھی اسرائیل کو فلسطینیوں پر ظلم کرنے سے روک سکتی تھی لیکن اسرائیل کو بھی پتہ ہے کہ غلام آقا کے سامنے زبان نہیں کھول سکتے۔ دنیا کے مسلمانوں کو ظلم اور ناانصافیوں سے بچانے کے لیے سب سے پہلے ان غلاموں سے نجات حاصل کرنا پڑے گی۔

حیرت اور دکھ کی بات یہ ہے کہ او آئی سی اسرائیل کے خلاف اگر کوئی عملی اقدام نہیں کر سکتی تو کم از کم مسلم ملکوں میں بڑھتی اور سنگین ہوتی ہوئی فرقہ پرستی اور انتہا پسندی کے خلاف تو کوئی کردار ادا کر سکتی ہے لیکن جب ہم او آئی سی کے سیکریٹری جنرل کو اس حوالے سے بھی نوحہ کناں دیکھتے ہیں تو ہمیں او آئی سی سے زیادہ متحرک ستار ایدھی ٹرسٹ نظر آتا ہے جو پاکستان میں نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی طے کردہ ذمے داریاں نبھا رہا ہے۔ او آئی سی بلاشبہ مسلم ملکوں کی ایک نمایندہ تنظیم ہے لیکن اس تنظیم پر بھی امریکا کی اجارہ داری ہے اور اس کے غلام اسی اجارہ داری کو مستحکم کرنے کا کردار ادا کر رہے ہیں اس لیے اس کی بے بسی اس کی غیر فعالیت قابل حیرت ہے نہ قابل افسوس بلکہ قابل رحم ہے۔

ہم کسی بھی مذہبی شناخت رکھنے والی قومی یا بین الاقوامی تنظیم کی طرف سے مذہبی منافرت پھیلانے اور مذہب کے نام پر انتہا پسندی کا مظاہرہ کرنے کے سخت خلاف ہیں لیکن مذہب کے حوالے سے کوئی ملک کسی دوسرے ملک پر ظلم ڈھاتا ہے تو مذہبی شناخت رکھنے والی تنظیموں کے اس حق کو ہم تسلیم کرتے ہیں کہ وہ ظلم کے خلاف آواز بلند کریں لیکن اس حوالے سے ہم جب 57 مسلم ملکوں کی نمایندہ تنظیم کی بے بسی پر نظر ڈالتے ہیں تو شرم سے ہمارے سر جھک جاتے ہیں لیکن جب ہم دنیا کے تمام ملکوں کی نمایندہ تنظیم اقوام متحدہ کی بے بسی پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں او آئی سی کی بے بسی زیادہ حیرت انگیز نظر نہیں آتی۔

کیونکہ ان دونوں اداروں کو بے بس کرنے والا ملک ایک ہی ہے اور وہ ہے امریکا عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ نظام کا محافظ امریکا کے لیے کوئی بھی ظلم کوئی بھی جانبداری ناجائز اس لیے نہیں ہوتی کہ طاقتور کے لیے کوئی بھی اقدام ناجائز نہیں ہوتا۔ جو لوگ دنیا کی دوسری سپر پاور کے انہدام پر بغلیں بجاتے ہیں غالباً انھیں احساس ہوتا ہو گا کہ ایک بے لگام سپرپاور کو لگام دینے کے لیے دوسری سپر پاور کی موجودگی کس قدر ضروری ہوتی ہے۔

فلسطینی عوام کو یہ شکایت ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہونے کے باوجود فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم روکنے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کر رہا ہے۔ یہ شکایت کرتے وقت فلسطینی اس حقیقت کو بھلا دیتے ہیں کہ پاکستان بھی ان غلاموں میں سے ایک ملک ہے جس کے حکمران طبقات کے مفادات امریکا سے جڑے ہوئے ہیں اور یہی مفادات اسے غلام بنائے رکھتے ہیں۔

عرب ممالک تیل کی دولت سے مالا مال ہیں اور اس دولت سے وہ کھربوں ڈالر کما رہے ہیں اسرائیل 67 سال سے فلسطین پر ہی ظلم نہیں کر رہا بلکہ سارے عرب ممالک اس کے مظالم کے شکار ہیں۔ اس صورت حال کا تقاضہ یہ تھا کہ عرب ممالک اپنی بے بہا دولت کو کام میں لا کر اپنے ملکوں کو ہتھیاروں کے حوالے سے خود کفیل بنا لیتے لیکن یہ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ عرب ملکوں کے حکمران اسرائیلی مظالم کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید ترین ہتھیاروں کی صنعتیں قائم کرنے کے بجائے کھربوں ڈالر مغربی ملکوں سے ہتھیاروں کی خریداری میں جھونک رہے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ عرب ملکوں کے حکمران بھی امریکا کے غلام ہیں اور وہ اپنے آقا کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے اور آقا کبھی نہیں چاہے گا کہ عرب ملک اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے ہتھیاروں میں خود کفیل ہو جائیں کیونکہ ایسا ہوا تو ہتھیاروں کی مغربی صنعت کا بھٹہ بیٹھ جائے گا اور اسرائیل کی عربوں پر اجارہ داری ختم ہو جائے گی۔ اس لیے اسرائیل سے آزادی حاصل کرنے کے لیے پہلے مسلمانوں کو اپنے حکمرانوں سے آزادی اور نجات حاصل کرنا پڑے گی جو او آئی سی کو بھی عضو معطل بنائے ہوئے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔