سکون کی تلاش میں

ڈاکٹر عفان قیصر  اتوار 10 اگست 2014
www.facebook.com/draffanqaiser

www.facebook.com/draffanqaiser

کچھ چیزیں انسانی کی بنیادی ضرورت ہوتی ہیں۔وہ ہر چیز میں خلل برداشت کرسکتا ہے ،مگر اس کی اگر بنیادی ضروریات پوری نہ ہوں تو وہ کبھی ان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا،انھیں میں سے ایک اہم ترین ضرورت ہے ’ سکون‘۔ انسان  ہمیشہ سے سکون کی خاطر جنگیں لڑتا آیا ہے، لاشوں کے انبار لگاتا آیاہے۔ زن،زمین ، زیور کی لڑائی کی  ہر حد میں بھی وہ سکون کا ہی متلاشی نظر آیا ہے۔اسی سکون کی تلاش میں انسان جب نکلتا ہے اور وہ جب خود کو خالی جیب، بھوکے پیٹ ، حالات سے لڑتا پاتا ہے تو وہ ہر انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

عشق میں ناکامی،جھوٹا پیار اور دھوکہ بھی انسان کی اسی بنیادی ضرورت میں خلل ڈالتا ہے ،تو وہ جان بوجھ کو پسِ پردہ ڈال کر کچھ بھی کر گزرتا ہے۔1804 ء میں ایک جڑی بوٹی سے دریافت ہونے والی مارفین نے دنیا کو یکسر بدل دیا۔ Friedrich نامی ایک دوا ساز نے Alkaloid جڑی بوٹی سے اسے دریافت کیا،اور ایک دواساز کمنپی سے مل کر اسے 1827 ء میں عام لوگوں کی دسترس تک پہنچا دیا۔اس ایجاد کا مقصد انسانوں کو آپریشن کے دوران یا پھر کسی بھی عارضہ کی وجہ سے شدید درد سے نجات دلا کر سکون دینا تھا۔اس وقت شائد Friedrich کو بھی معلوم نہیں تھا کہ مارفین نامی اس دوا میں انسان کے لیے کیا چھپا ہے۔

مارفین انسان کو Euphoria کی حالت میں لے جاتی تھی۔یعنی ایک ایسی حالت جس میں انسان شدید سکون کی حالت میں جاکر خود کو دنیا سے بالاتر محسوس کرنے لگتا ہے اور ہر غم سے آزاد ہوجاتا ہے۔مارفین کی اس خصوصیت نے مے ساز کمپنیوں کو مصیبت ڈال دی۔کیوں کہ صدیوں سے انسان جس شراب کو اپنے آپ کو غمِ دنیا سے آزاد کرنے اور سکون و عیاشی کے لیے استعمال کرتا آرہا تھا،مارفین اس سے کئی گنا زیادہ طاقت رکھتی تھی۔مارفین کے آنے کے بعد مزید جڑی بوٹیوں نے مارفین جیسے اجزاء یعنی ہیروئن،افیون، چرس، بھنگ، کوکین کی بنیاد ڈال دی اور یوں دنیا کی سب سے بڑی اسمگلنگ کی بنیاد پڑ گئی۔

یہ دوسرے لفظوں میں صرف انسان کے سکون کی تجارت تھی۔انسان صدیوں سے جس کا متلاشی تھا وہ اسے پڑیوں میں بند سفید پاؤڈر میں مل گیا تو ان بوٹیوں میں قید پاؤڈر نے دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔کئی انسانوں اور ملکوں کی معیشت بدل گئی۔کئی ملک اس کو اپنے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے لگے اور یوں انسانی سکون کی اس تجارت نے سب بدل دیا۔آج د نیا کی اکانومی میںڈرگ کی اسمگلنگ کا سب سے بڑا حصہ ہے۔ پھر اسلحہ کی اسمگلنگ اور انسانوں کی سمگلنگ آتی ہے۔ اسلحہ کی اسمگلنگ بھی ،دنیا کی باقی قوموں کو تسخیر کر کے، ایک مفتوح قوم کی پرسکون نیند کی تلاش کی جستجو ہے اور انسانوں کی اسمگلنگ بھی روزِ ازل سے انسان کی ہوس کو سکون دیتی آئی ہے۔

ان سب باتوں سے ایک بات واضح ہے کہ انسان سکون کی خاطر ہر حد تک جاسکتا ہے۔گونج جب اپنی قوم کی آہیں سنتی ہے تو ہر طرف مایوسی، بے یقینی کی کیفیت نظر آتی ہے۔آزادی کے اتنے سالوں بعد بھی یہ قوم انسان کی بنیادی ضرورت سکون سے محروم ہے۔غریب کو یہ سوچ کر رات بھر سکون کی نیند نہیں آتی کہ کل وہ اپنی اولاد کی خوراک کا بندوبست کیسے کرے گا، اور امیر کو یہ سوچ کر نیند نہیں آتی کہ اس کی اولاد کو کل تاوان کے لیے کون اٹھانے آئے گا۔یورپ ،امریکا اور ترقی یافتہ ممالک میں سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ وہاں سکون کی بنیاد یعنی گھر ، گاڑی، معاش، تحفظ انسان کو یکساں طور پر آسانی سے میسر ہے، باقی زندگی اس کی تمام محنت ان کو خوب سے خوب تر بنانے اور عیاشی کی طرف سفر میں گزرتی ہے۔

مگر ہمارے ملک میں بے سکونی کی کیفیت میں انسان کی پوری زندگی گھر ، گاڑی، معاش اور تحفظ کی تلاش میں ختم ہوجاتی ہے اور یہ سب اسے پھر بھی حاصل نہیں ہوپاتا۔بدلے میں اسے سکون نہیں ملتا اور وہ ہر انتہائی اقدام کے لیے تیار نظر آتا ہے۔آج آزادی کے اتنے سال بعد ہم تعلیم سے عاری ، سکون کے متلاشی انسانوں کا ہجوم ہیں، جن کی برداشت جواب دے چکی ہے۔ہم جیسے انسانوں کا ہجوم ہیں، ہم پر ویسے ہی حکمران اور رہنما مسلط رہے جیسے ہم ہیں۔پوری رات ہم گرمی میں تڑپتے ہیں،کیونکہ  دنیا کے بہترین نہری اور دریاؤں،پہاڑوں سے مالا مال اس دیس سے اپنی ضرورت کی بجلی نہیں بنائی جاتی اور پرسکون نیند کی بنیادی ضرورت کے آڑے ہماری سیاسی ضروریات آجاتی ہیں۔ ہمارے ملک میں گیس نہیں ہے۔

چنانچہ مائیں اولاد کو خوراک نہ دے کر بے سکون ہیں، بچے بھوک سے بے سکونی میں بلکتے ہیں اور مائیں ان کی بھوک دیکھ کر بے چین نظر آتی ہیں۔شدید گرمی اور دو،تین کلومیٹر لمبی لائن میں لگ کر بے سکونی انتہا کو پہنچنے لگتی ہے تو غریب کو سی این جی مل جاتی ہے اور وہ روزگار کی تلاش میں نکلتا ہے۔امیر، غریب بازاروں کا رخ کرتے ہیں،تو بین الاقوامی سیاستوں اور حکمرانوں کی نااہلیوں کی بھینٹ چڑھتے ان کے چیتھڑے ہواؤں میں تحلیل ہوتے دکھائی دیتے ہیں اور یوں سکون کی تلاش کے اس سفر میں انھیں تحفظ کے نام پر خون، گوشت کے لوتھڑے اور سڑکوں پر پڑے اعضاء نظر آتے ہیں۔وہ سکون کی تلاش میں کبھی آمروں ،کبھی وڈیروں، کبھی سرمایہ داروں، کبھی جاگیرداروں کے گرداب میں پھنسے نظر آتے ہیں۔

ہمارے یہ معصوم لوگ سکون کے لیے تڑپ رہے ہیں، انھیں کوئی جمہوریت میں سکون کے نئے سبز باغ دکھاتا ہے ، تو یہ اس کے پیچھے چلنے لگ جاتے ہیں، جب جمہوریت میں سکون نہیں ملتا تو آمر ان کو اپنے پیچھے لگا لیتے ہیں، اور جب کوئی نظر نہیں آتا تو یہ انقلاب کا نعرہ لگانے والے ہر شخص کے پیچھے بھاگنے لگتے ہیں۔ ہمارے حکمران ، جمہوریت کو ہمیشہ کے لیے قائم کرنا چاہتے ہیں، حقیقی انقلاب لانا چاہتے ہیں اور آمریت کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند کرنا چاہتے ہیں تو انھیں 1804ء کی تاریخ دہرانا ہوگی۔انھیںFriedrich کی طرح قومی سطح پر سکون آور پالیسیاں مرتب کرنا ہوں گی۔ اس قوم کی بقا کی خاطر ، قومی تاریخ کی سب سے بڑی اسمگلنگ کرنی ہوگی۔

جب ان معصوم بے چین انسانوں کو سکون کی تلاش میں معاش، مکان، پرسکون نیند، گیس، بجلی، تحفظ ملنے لگے گا تو ان کی سب سے بڑی بنیادی ضرورت پوری ہوجائے گی۔یہ سکون آور پالیسیاں ، مارفین کا کام کریں گی اور آمریت جمہوریت کے پرانے کھیل کی قدر و قیمت مے کی طرح مارفین کے سکون کے سامنے بہت کم ہوجائے گی۔ تب حقیقی جمہوریت قائم ہوگی، تب کوئی فردِ واحد کسی مارچ کی دعوت دے کر انسانوں کا ہجوم اکٹھا نہیں کر پائے گا اور کسی جمہوری حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔نان ایشوز سے ایشوز کے اس سفر میں جب سکون کی بنیادی ضرورت پوری ہوجائے گی،تو ہر آزادی کے دن پر ، سب مفتوح قوموں کی طرح فقط پر سکون جشن منایا کریں گے، اپنی ترقی کا جشن، اپنی نسلوں کے تحفظ اور بقا کا جشن،اپنے بہترین معاش کا جشن اور سکون کی تلاش میں حاصل کامیابی کا جشن۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔