ملکی سالمیت کیلیے وزیراعظم کو عمران کے گھر 10 بار بھی جانا پڑے تو جائیں، لاہور ہائیکورٹ

نمائندہ ایکسپریس / خبر ایجنسیاں  منگل 12 اگست 2014
طاہرالقادری کی تقریر اشتعال انگیز ہے، کوئی ذی شعور اس کی حمایت نہیں کرسکتا، جسٹس خالد محمود کی کنٹینرز کیس کی سماعت سے معذرت۔  فوٹو: فائل

طاہرالقادری کی تقریر اشتعال انگیز ہے، کوئی ذی شعور اس کی حمایت نہیں کرسکتا، جسٹس خالد محمود کی کنٹینرز کیس کی سماعت سے معذرت۔ فوٹو: فائل

لاہور: لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس خالد محمودخان کی سربراہی میں قائم 3 رکنی فل بینچ نے 14 اگست کوہونے والے مارچ کو رکوانے کے لیے دائر مختلف درخواستوں پر وفاقی وصوبائی حکومتوں، عمران خان، طاہرالقادری، چوہدری شجاعت حسین، چوہدری پرویز الہی اور شیخ رشید کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید سماعت آج صبح تک ملتوی کردی۔

فاضل عدالت نے قراردیا کہ حکومت کو مذاکرات کے لیے خود پہل کرنی چاہیے، مسائل کے پرامن حل کے لیے وزیراعظم کودس بار بھی عمران خان کے گھرجانا پڑے تو انھیں جانا چاہیے، موجودہ حالات میں عدالتیں مداخلت نہیں کر سکتیں، جب لوگ ہتھیار اٹھالیں اور جنگ پرآمادہ ہوں توعدالت کیا کرے گی، بادی النظر میں محسوس ہورہا ہے کہ ملکی سالمیت کوخطرہ لاحق ہوگیا ہے، حکومت کو عوام کے مفاد اور ملکی سالمیت کے لیے پاؤں پڑنا پڑے تو پڑنا چاہیے، حکومت انا کا مسئلہ نہ بنائے، وزیر اعظم کے گھر سے بنی گالا کتنی دور ہے، بار بار جائیں۔ فاضل عدالت نے تمام مدعا علیہان کو الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے ذریعے عدالتی احکام سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

فل بینچ کے دیگر اراکین میں جسٹس شاہد حمید ڈار اور جسٹس انوار الحق شامل ہیں۔ لائرز فاونڈیشن پاکستان، مقامی شہری کامران اور بیرسٹر جاوید اقبال جعفری کی جانب سے دائر درخواستوں پر وکلا نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ اور احتجاج کو روکنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ عدالت وفاقی حکومت کو مذاکرات کا حکم دے جس پر عدالت نے قراردیا کہ عدالت کس شق کے تحت ایساحکم دے سکتی ہے۔ عدالت نے قراردیا کہ انتشار سے بچنے کے لیے کنٹینرکھڑے کرنا، پٹرول بند اور آرٹیکل 245 نافذکرنا کیسے درست طریقہ ہوسکتا ہے۔

این این آئی کے مطابق جسٹس خالد محمود نے کہا کہ ہر شہری آئین کے دائرے میں رہ کرحکومت کیخلاف احتجاج کرسکتا ہے مگر کسی کو حکومت خلاف ہتھیاراٹھانے اور بغاوت کا حق نہیں۔ انھوں نے حکو متی وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انا کا مسئلہ بنا لیا ہے جس کی وجہ سے ملک کی سلامتی خطر ے میں ہے کہیں انا کے چکر میں ملک ہی نہ ٹوٹ جائے، آپ بنی گالہ کیوں نہیں جاتے، بنی گالہ وزیراعظم ہاؤ س سے زیادہ دور نہیں جس پر ایڈ یشل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم نے اپوزیشن جما عتوں کو مذاکرات کی دعوت دی ہے اور وہ بات چیت کے ذریعے معاملات کو حل کر نا چاہتے ہیں،مگراسے قبول نہیں کیا گیا حکومت چاہتی ہے کہ انتشار سے بچا جائے۔

دریں اثنا جسٹس خالد محمود خان نے پٹرول پمپس کی بندش اور سڑکوں پر کنٹینرز لگا کر راستوں کی بندش کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت سے معذرت کرتے ہوئے درخواست چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کوبھجوادی۔ جسٹس خالد محمود خان نے کہا کہ یہ ملک ہے تو ہم بھی ہیں اور عدلیہ بھی۔ طاہر القادری نے گزشتہ روز یوم شہدا پراشتعال انگیز تقریر کی جس کی کوئی ذی شعور آدمی حمایت نہیں کر سکتا۔ تقریرکے بعد میرا ذہن تعصب سے مغلوب ہو چکا ہے۔ اکٹھے ہونا اور احتجاج کرنا شہریوں کا حق ہے مگر عوام کو اشتعال دلانا کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔

میرے لیے کیس کی مزید سماعت کرنا ممکن نہیں رہا جس کے بعد انھوں نے درخواست چیف جسٹس کو بھجوا دی۔ ادھر جسٹس سید افتخار حسین شاہ نے شہر میں پٹرول پمپس پر تیل کی بلاتعطل فراہمی کا حکم جاری کرتے ہوئے عدالت میں عدم حاضری پر ڈی سی او لاہور کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آج تک ملتوی کرتے ہوئے تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنوں کی گرفتاریوں پر وفاقی اور پنجاب حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔