کنٹینر

عبدالقادر حسن  جمعرات 14 اگست 2014
Abdulqhasan@hotmail.com

[email protected]

وہ شام مجھے لمحہ بہ لمحہ اور حرف بحرف یاد ہے جب ہمارے دور افتادہ گائوں میں آزادی کی خبریں پہنچیں یعنی انگریزوں کی سو ڈیڑھ سو سالہ غلامی کے خاتمے کی خبریں۔ میں ابھی بہت چھوٹا تھا اور آزادی کے مفہوم سے بڑی حد تک بے خبر تھا لیکن بڑوں کے تمتماتے ہوئے چہرے ہر طرف خوشی کی لہر اور اسی لہر میں میرے جیسا ایک بہت ہی نوخیز بچہ بھی بہہ رہا تھا۔ گائوں کی واحد سرکاری عمارت پرائمری اسکول کی بلڈنگ پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرایا گیا جو چھٹی پر آیا ہوا ایک فوجی ساتھ لایا تھا۔

رمضان المبارک کے اس مہینے میں مسجد کے صحن میں پاکستان پر بحث جاری تھی۔ کچھ زیادہ نہ سمجھتے ہوئے بھی میری سمجھ میں بہت کچھ آ رہا تھا۔ میں اب ایک پاکستانی تھا۔ تب سے آج تک میں اس پاکستان سے یوں وابستہ رہا ہوں کہ میں نے صحافت کا پیشہ اختیار کیا اور قومی سیاست کا ایک حصہ بن گیا یعنی قومی سیاست کا وقایع نگار۔ میں ان لوگوں میں شامل سمجھا جاسکتا ہوں جنہوں نے اس ملک کو صبح و شام دن رات بنتے بگڑتے دیکھا تا آنکہ میرے اور آپ کے دیکھتے دیکھتے یہ ملک دو ٹکڑے ہو گیا اور ہمارے دشمن کی وزیراعظم نے اعلان کیا کہ ہم نے مسلمانوں سے ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے لیا ہے۔

ہمارے ملک کا دو ٹکڑے ہونا بھی سچ تھا اور مسلمانوں کی ہزار برس کی غلامی کا بدلہ بھی سچ تھا اور ہم پاکستانیوں کو یہ بھی معلوم تھا کہ ہم میں سے وہ کون لیڈر تھے جنہوں نے دشمن کو خوشی کا یہ  موقع دیا تھا۔ انھوں نے موجودہ پاکستان کو نیا پاکستان کا نام دیا اور اس کا اقتدار سنبھال لیا۔

یہ بہت ہی پرانی یعنی بار بار دہرائی گئی باتیں ہیں مگر اس قدر دلگداز اور دکھ دینے والی کہ ان کو مستقبل کے دکھوں سے بچنے کے لیے یاد رکھنا ضروری ہے۔ ہم ایک بار پھر سیاستدانوں کے نرغے میں ہیں جاہل خود پسند اور اقتدار پرست سیاستدان جو اس قدر خوفزدہ ہیں کہ اپنے اقتدار کے خلاف کسی کی ذرا سی جنبش بھی برداشت نہیں کر سکتے۔

ایک شعبدہ باز نے جو نصف پاکستانی ہے اور نصف غیر ملکی حکومت کے ستائے ہوئے لوگوں کو ساتھ ملا کر چند تقریریں کیں اور حکمرانوں نے ملک کے راستے بند کر دیے تاکہ اس کے ساتھ آنے والے لوگ اس کے قریب نہ آ سکیں لیکن پوری قوم نے ٹی وی کی برکت سے عجیب و غریب نظارے کیے۔ بوڑھے، جوان اور بچے پاکستانی جو دوسری طرف جانے پر مجبور تھے راستے بند کرنے والے دیو قامت کنٹینروں کے نیچے سے ذرا سی جگہ سے گزرنے پر مجبور ہو گئے! اب یہ منظر اتنے عام ہو چکے ہیں کہ ہر پاکستانی نے اپنے ہموطنوں کی یہ کھلی توہین دیکھ لی ہے۔

وہ پاکستانی جن کے نام سے وزیراعظم نے اپنی تقریر کا آغاز کیا ہے۔ ’’میرے عزیز اہل وطن‘‘ کنٹینروں کے نیچے سے گزرنے والے پاکستانیوں کو دیکھ کر ہمیں اپنے شاعر فیض احمد فیض کی یہ نظم یاد آئی۔ حیرت ہے کہ کیا فیض صاحب کو خدا نے اس قدر دوربین نگاہ عطا کی تھی۔ میرے اختیار میں ہو تو میں اس یاد گار نظم کو ’’کنٹینر‘‘ کا عنوان دے دوں اگر میرے پاس استاد اور کرمفرما فیض صاحب بقید حیات ہوتے تو آج کے حالات دیکھ کر وہ مجھے شاباش بھی دے سکتے تھے۔ یہ عنوان ایک اخباری عنوان سمجھیے اور حضرت فیض کی اس نظم کو اپنے حکمرانوں اور ان کے کنٹینروں کا تحفہ سمجھیں جن کی وجہ سے ہمیں ایک ایسی شاندار نظم نصیب ہوئی ہے۔ اب اسے ملاحظہ فرمائیں۔

نثار میں تیرے گلیوں کے اے وطن کہ جہاں

نثار میں تیرے گلیوں کے اے وطن کہ جہاں

چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے

جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے

نظر چرا کے چلے جسم و جاں بچا کے چلے

ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظم بست و کشاد

کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سر آزاد

بہت ہیں ظلم کے دستے بہانہ جُو کے لیے

جو چند اہل جنوں تیرے نام لیوا ہیں

بنے ہیں اہل ہوس‘ مدعی بھی‘ منصف بھی

کسے وکیل کریں‘ کس سے منصفی چاہیں

مگر گزارنے والوں کے دن گزرتے ہیں

تیرے فراق میں یوں صبح و شام کرتے ہیں

بجھا جو روزن زنداں تو دل یہ سمجھا ہے

کہ تیری مانگ ستاروں سے بھر گئی ہو گی

چمک اٹھے ہیں سلاسل تو ہم نے جانا ہے

کہ اب سحر تیرے رخ پہ بکھر گئی ہو گی

غرض تصور شام و سحر میں جیتے ہیں

گرفت ہائے دیوار و در میں جیتے ہیں

یونہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق

نہ ان کی رسم نئی ہے نہ اپنی ریت نئی

یونہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول

نہ ان کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی

اسی سبب سے فلک کا گلہ نہیں کرتے

تیرے فراق میں ہم دل برا نہیں کرتے

گر آج تجھ سے جدا ہیں تو کل باہم بھی ہوں گے

یہ رات بھر کی جدائی تو کوئی بات نہیں

گر آج اوج پہ ہے طالع رقیب تو کیا

یہ چار دن کی خدائی تو کوئی بات نہیں

جو تجھ سے عہد وفا استوار رکھتے ہیں

علاج گردش لیل و نہار رکھتے ہیں

خواتین و حضرات اپنے اس دوربین شاعر کو داد دیجیے اور قدرت کا شکریہ ادا کیجیے جس نے ہمارے درمیان ایسا شاعر پیدا کیا تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔