شام میں خانہ جنگی

ایڈیٹوریل  جمعـء 15 اگست 2014
شام اور عراق میں بدامنی کا ایک خوفناک پہلو یہ ہے کہ کئی جنگجو گروہ بھی آپس میں لڑ رہے ہیں۔ فوٹو: فائل

شام اور عراق میں بدامنی کا ایک خوفناک پہلو یہ ہے کہ کئی جنگجو گروہ بھی آپس میں لڑ رہے ہیں۔ فوٹو: فائل

خانہ جنگی سے بد حال عرب ملک شام میں امن کی کوئی سبیل نہیں نکل رہی اور وہاں جنگ و جدل کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس سے وہاں کے عوام انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔شام میں ہزاروں شہری مارے جا چکے ہیں جب کہ لاکھوں کی تعداد میں بے گھر بھی ہو چکے ہیں۔ شام پر بشار الاسد کی حکومت قائم ہے لیکن اس کا کنٹرول مسلسل کمزور ہو رہا ہے کیونکہ باغی گروپ مسلسل طاقتور ہو رہے ہیں۔

عالمی میڈیا کی تازہ اطلاع کے مطابق شامی حکومت مخالف جنگجوئوں نے ترکی کے ساتھ ملنے والی شام کی سرحد پر واقع دو اہم قصبوں اور متعدد دیہات پر قبضہ کر لیا ہے۔ شام کے صوبے الیپو میں واقع یہ دو قصبے اسلامی ریاست کے عسکریت پسندوں کے لیے تازہ انعام سمجھے جا رہے ہیں جنھوں نے مشرقی شام اور مغربی عراق میں اپنی اسلامی خلافت قائم کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ جنگجوئوں نے دو قصبوں ’’اخترین‘‘ اور ’’ترکمانبارے‘‘ پر قبضہ کر لیا ہے لیکن اس کے لیے نہایت خونریز لڑائی کرنا پڑی۔

شام اور عراق میں بدامنی کا ایک خوفناک پہلو یہ ہے کہ کئی جنگجو گروہ بھی آپس میں لڑ رہے ہیں‘ جس سے خوں ریزی کی شدت میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو ان دونوں ملکوں کی صورت حال انتہائی خراب ہو چکی ہے‘ اس صورت حال کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ عالمی برادری کوئی متحرک کردار ادا نہیں کر رہی۔ روس شام کی حکومت کی حمایت کر رہا ہے جب کہ امریکا مخالفت پر کمربستہ ہے‘ یورپی یونین کے اپنے مفادات ہیں اور وہ انھیں سامنے رکھ کر پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ چین بھی خاموش ہے۔

ادھر اسلامی ممالک بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔او آئی سی ہو یا عرب لیگ کسی نے اس بحران پر قابو پانے کے لیے عملی کردار ادا نہیں کیا۔ مشرقی وسطیٰ کے ممالک بھی اس صورت حال پر تقسیم ہیں۔جس کی وجہ سے شام اور عراق میں قتل و غارت رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ یہ حقیقت ہے کہ شام اور عراق میں قیام امن کے لیے سنجیدہ کوششیں نہ کی گئیں تو یہ لڑائی پھیل سکتی ہے اور ہمسایہ ممالک بھی اس میں ملوث ہو سکتے ہیں‘ جن دو قصبوں پر شامی باغیوں نے قبضہ کیا ہے‘ وہ ترکی کی سرحد کے قریب ہیں‘ باغی سرحدوں کا احترام نہیں کرتے‘ اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ کہیں باغی ترکی میں داخل نہ ہو جائیں۔

ایسی صورت میں حالات زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں‘ضرورت اس امر کی ہے کہ مشرق وسطیٰ کی حکومتیں شام اور عراق میں قیام امن کے لیے متحرک کردار ادا کریں کیونکہ اسی طرح یہاں امن قائم ہو سکتا ہے۔امریکا ‘روس ‘یورپی یونین اور چین تو اپنے مفاد کو دیکھ کر پالیسی اختیار کریں گے ۔انھیں اس بحران سے خطرہ بھی کوئی نہیں۔اسلامی ممالک کو اس بحران کے خاتمے کے لیے متحرک کردار ادا کرنا ہو گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔