دھوپ کے چشمے، فیشن کے ساتھ آنکھوں کے محافظ

سنڈے میگزین  اتوار 17 اگست 2014
خواتین کی اکثریت اپنے لباس کے ہم رنگ جوتے اور میک اپ کے علاوہ سن گلاسز کا انتخاب کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ ماڈل: رانیہ خان۔ فوٹو: ایکسپریس

خواتین کی اکثریت اپنے لباس کے ہم رنگ جوتے اور میک اپ کے علاوہ سن گلاسز کا انتخاب کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ ماڈل: رانیہ خان۔ فوٹو: ایکسپریس

دھوپ کے چشمے جدید دور کے فیشن کا حصہ نہیں بلکہ تیز دھوپ اور سورج کی خطرناک شعاعوں سے حفاظت کے لیے بھی از حد ضروری ہیں۔

کچھ عرصہ قبل تک ان کا استعمال نہایت محدود پیمانے اور محدود طبقے میں کیا جاتا تھا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ جوں جوں عوام میں صحت کے حوالے سے شعور میں اضافہ ہوا ہے ویسے ویسے دھوپ کے چشموں کے استعمال میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق سن گلاسز یا دھوپ کے چشموں کو فیشن کا حصہ سمجھنا غلط رجحان ہے، کیوں کہ اس کے استعمال سے آنکھ کی نازک پتلی سورج کی الٹراوائلٹ شعاعوں سے محفوظ رہتی ہے۔ اس حوالے سے دل چسپ حقیقت یہ ہے کہ ذاتی استعمال کی دیگر اشیا کے مقابلے میں دھوپ کے چشموں کو کسی مشہور ماڈل یا ایکٹر نے متعارف نہیں کرایا بلکہ چند دہائیوں قبل دوران پانی میں سورج کے عکس سے پریشان مچھیروں نے ان چشموں کو فروغ دیا تھا اور یوں وقت کے ساتھ ساتھ ان کا استعمال رواج پکڑتا گیا اور اب صورت حال یہ ہے کہ خواتین کی اکثریت اپنے لباس کے ہم رنگ جوتے اور میک اپ کے علاوہ سن گلاسز کا انتخاب کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔

دھوپ کے چشموں کی خواتین میں اس درجہ بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر لباس، جیولری اور جوتوں کی طرح چشموں کے ڈیزائنز بھی باقاعدہ متعارف کروائے جاتے ہیں۔ یہ چشمے آنکھوں کو دھوپ ہی سے نہیں بچاتے بل کہ چہرے کو ایک نیا لُک بھی دیتے اور شخصیت کو جاذب نظر بناتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔