نواز شریف اور شہباز شریف کے استعفوں کے بعد ہی کوئی بات ہوگی، چوہدری برادران

ویب ڈیسک  پير 18 اگست 2014
نوازشریف اور شہبازشریف کو میرا مشورہ ہے کہ وہ استعفیٰ دے دیں اور قوم کی جان چھوڑ دیں، چوہدری شجاعت فوٹو: فائل

نوازشریف اور شہبازشریف کو میرا مشورہ ہے کہ وہ استعفیٰ دے دیں اور قوم کی جان چھوڑ دیں، چوہدری شجاعت فوٹو: فائل

اسلام آباد: مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور رہنما چوہدری پرویز الہی کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے استعفوں کے بد ہی کوئی بات ہوگی۔

اسلام آباد میں ڈاکٹر طاہر القادری سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ جمہوریت کو بچانے کی باتیں کی جارہی ہیں، لاہور میں جو کچھ ہوا کیا وہ جمہوریت ہے، اگر یہی جمہوریہت ہے تو ایسی جمہوریت کا نہ تو کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی کوئی ضرورت، کمیٹیوں کی تشکیل بڑی بات نہیں اس قسم کی کمیٹیاں بنتی رہتی ہیں لیکن ان کمیٹیوں میں موجود لوگوں کی ساکھ بھی اچھی ہونی چاہیئے، اگر دن بھر لعن طعن کرنے والے ہی مذاکرات کریں تو پھر ایسے لوگوں سے کوئی بات نہیں ہوسکتی، اب جو کچھ بھی ہوگا میدان میں ہوگا۔ نوازشریف اور شہبازشریف کو ان کا مشورہ ہے کہ وہ استعفیٰ دے دیں اور قوم کی جان چھوڑ دیں۔

چوہدری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ مذاکراتی کمیٹیاں دراصل حکومت کی نمائندہ ہوں گی اور وہ نواز شریف کی حکومت کو بچانا چاہتی ہیں لیکن ہم نے متفقہ طور پر نواز شریف اور شہباز شریف کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، ان کے استعفے کے بعد ہی کمیٹیوں سے بات کی ہوسکتی ہے، ڈاکٹر طاہر القادری کی جانب سے حکومت کو ڈیڈ لائن دی گئی ہے جو آج رات ختم ہورہی ہے، ڈیڈ لائن کی مدت ختم ہونے کے بعد لائحہ عمل پر مشاورت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج اس ملک کی فوج ہے یہ ہمیں اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے اس لئے فوج کو کسی بھی کام بھی ملوث نہ کیاجائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔